قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

٤٢ ٤٢
٤٣ ٤٣
٤٤ ٤٤
٤٥ ٤٥
٤٦ ٤٦
٤٧ ٤٧
٤٨ ٤٨
٤٩ ٤٩
٥٠ ٥٠ ﭿ
٥١ ٥١
٥٢ ٥٢
٥٣ ٥٣

٥٤ ٥٤
٥٥ ٥٥
٥٦ ٥٦

٥٧ ٥٧
٥٨ ٥٨
٥٩ ٥٩
٦٠ ٦٠
٦١ ٦١
٦٢ ٦٢
٦٣ ٦٣
٦٤ ٦٤
٦٥ ٦٥
٦٦ ٦٦ ٦٧ ٦٧
ﯿ ٦٨ ٦٨
٦٩ ٦٩
533
سورۃ الرحمن آیات 43 - 45

هَٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا ٱلۡمُجۡرِمُونَ ٤٣ يَطُوفُونَ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَ حَمِيمٍ ءَانٖ ٤٤ فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ٤٥

دراصل نافرمانوں اورمجرموں کو سزا دینا اور متقیوں کو نازونعمت عطا کرنا مخلوق پر اللہ کی فضل و رحمت اور عدل و مہربانی ہے۔ اسی طرح انہیں اپنے عذاب اور مصائب سے ڈرانا کہ وہ شرک و نافرمانی میں مبتلا نہ ہوں اور ان سے باز آجائیں یہ بھی اللہ کی مہربانی ہے ۔تو اب اللہ نے اپنی مخلوق پر احسان جتلاتے ہوئے فرمایا: (فبأي آلاء ربكما تكذبان). (ابن کثیر :۴؍۲۷۸)
سوال: اللہ نے جہنم میں مجرمین کو عذاب دیئے جانے کا ذکر کیا ہے پھر ان پر اپنے اس فرمان (فبأي آلاء ربكما تكذبان) کےذریعہ احسان جتلایا ۔سوال یہ ہے کہ اپنے بندوں پر مجرمین کے عذاب کا احسان جتلانا کیا معنی رکھتا ہے؟

سورۃ الرحمن آیات 0 - 46

وَلِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ جَنَّتَانِ ٤٦

امام راغب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کے خوف سے مراد دل میں جو رعب پیدا ہوجاتا ہے وہ نہیں ہے جیسا کہ شیر سے خوف محسوس ہوتا ہے ۔ بلکہ یہاں مراد گناہوں سے رکنا اور اطاعت کےکام کرنا ہے۔ اسی لئےکہا گیا ہے : جو گناہوں کا تارک نہیں ہے اسے خائف یعنی ڈرنے والا نہیں کہہ سکتے ۔ (الألوسی :14؍115)
سوال: اللہ کے یہاں کھڑے ہونےسے خوف کس طرح ہوتا ہے؟

سورۃ الرحمن آیات 0 - 54

مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ فُرُشِۢ بَطَآئِنُهَا مِنۡ إِسۡتَبۡرَقٖۚ

ان بچھونوں کا حسن اور ان کی خوبیاں صرف اللہ کو پتہ ہیں۔ یہاں تک کہ اس کے اندرونی استر عالیشان ریشم کے ہوں گے اور استبرق سب سے شاندار اور اچھا ریشم ہوتا ہے پھر سوچئے کہ ان کی ظاہری شکل کیسے ہوگی جو ان کے بدن سے لگتا ہوگا۔(السعدی:831)
سوال : بچھونے کے استروں کی خوبصورتی سے کیا پتہ چلتا ہے؟

سورۃ الرحمن آیات 0 - 54

وَجَنَى ٱلۡجَنَّتَيۡنِ دَانٖ ٥٤

(جني) کہتے ہیں اسے جو پھلوں سے چنا جائے ۔ اور دان کا معنی قریب ہے ۔
روایت ہے کہ جنت میں انسان کسی بھی حال میں رہے میوہ چن سکتاہے کھڑا ہو ،بیٹھا ہو لیٹا ہو جس حال میں بھی ہو۔ کیونکہ جب وہ چاہے گا پھل اس کے پاس جھک جائیں گے ۔(ابن جزی:۲؍۳9۶)
سوال: بندوں کے لئے پھلوں کی قربت واضح کیجئے ؟

سورۃ الرحمن آیات 0 - 58

كَأَنَّهُنَّ ٱلۡيَاقُوتُ وَٱلۡمَرۡجَانُ ٥٨

یاقوت و مرجان سے تشبیہ پسندیدہ سرخ رنگ کے سبب ہے، یہ سرخی گالوں کی سرخی ہوگی جیسا کہ گال کو گلاب سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔ اور سرخ کا اطلاق گورے پر بھی ہوتا ہے اسی معنی میں ایک حدیث وارد ہے ‘‘بُعِثْتُ اِلَي الْاَحْمَرِ وَالْاَسْوَدِ’’ ‘‘میں کالے گورے تمام کی طرف بھیجا گیا ہوں’’ (ابن عاشور:۲؍۲۷۰)
سوال: جنت کی عورتوں کی تشبیہ یاقوت و مرجان سے کیوں دی گئی ہے؟

سورۃ الرحمن آیات 0 - 60

هَلۡ جَزَآءُ ٱلۡإِحۡسَٰنِ إِلَّا ٱلۡإِحۡسَٰنُ ٦٠

مطلب یہ ہے کہ جس نے اللہ کی اطاعت کرکے احسان کیا اللہ اس کو جنت دے کر اس پر احسان کرے گا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں احسان سے مراد وہی احسان ہو جس کے بارے میں حضرت جبریل نے اللہ کے رسول سے سوال کیاتھا توآپ نے جواب میں کہا تھا “اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو اگر تم نہیں دیکھ پا رہے ہو تو وہ تم کو دیکھ رہا ہے”یہ مراقبہ اور مشاہدہ (اللہ کی نگرانی کے تصور) کا (بلند) مقام ہے، پس اللہ نے اس احسان کا بدلہ ان دونوں جنتوں سے دیا۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ان دونوں جنتوں کو بلند و بالا مقام والوں کے لئے مقررکیا، اس کے علاوہ دیگر دو جنتوں کو اس سے کم درجہ والوں کے لئے مقررکیا۔ (ابن جزی:۲؍396)
سوال: دونوں جگہوں پر احسان سے کیامراد ہے؟

سورۃ الرحمن آیات 0 - 60

هَلۡ جَزَآءُ ٱلۡإِحۡسَٰنِ إِلَّا ٱلۡإِحۡسَٰنُ ٦٠

پہلی دو جنتوں کی بابت (هل جزاء الإحسان إلا الإحسان) فرمایایعنی احسان کا بدلہ احسان ہی ہوگا۔ اس سے یہ پتہ چلتاہےکہ پہلی دو جنتیں محسنین کے واسطے ہیں۔اور یہ بات آخری دو جنتوں کی بابت نہیں فرمائی۔ اس سےپہلی دو جنتوں کی دوسری دو جنتوں پر فضیلت ثابت ہوتی ہے ۔ اور یہ پہلی دو جنتیں انبیاء ، صدیقین جیسے مقربین اور اللہ کے خاص نیک بندوں کے لئے تیار کی گئی ہیں اور آخری دو جنتیں عام مومنین کے لئے ہیں ۔(السعدی:۸۳۲)
سوال: پہلی دو جنتوں کے بارے میں اللہ کا قول (هل جزاء الإحسان إلا الإحسان) کس بات پر دلالت کرتا ہے؟ اوریہ بات آخری دو جنتوں کے بارےمیں کیوں نہیں ہے ؟