قرآن
ﯢ
ﱓ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ٢٨ ٢٨ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ٢٩ ٢٩ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ٣٠ ٣٠ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ٣١ ٣١ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ٣٢ ٣٢ ﯢ ﯣ ﯤ ٣٣ ٣٣ ﯦ ﯧ ﯨ
٣٤ ٣٤ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ٣٥ ٣٥ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ
ﯶ ٣٦ ٣٦ ﯸ ﯹ ﯺ ٣٧ ٣٧ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ
٣٨ ٣٨ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ٣٩ ٣٩ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ
٤٠ ٤٠ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ٤١ ٤١ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ٤٢ ٤٢
ﰘ ﰙ ﰚ ﰛ ٤٣ ٤٣ ﰝ ﰞ ﰟ ﰠ ٤٤ ٤٤
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ لَيُسَمُّونَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ تَسۡمِيَةَ ٱلۡأُنثَىٰ ٢٧
ایمان نہ ہونے کی وجہ سے ان میں یہ جرأت پیدا ہوئی کہ وہ اللہ و رسول کے خلاف کچھ کہنے اور کرنے کی ہمت کر سکیں۔ مثلاً ان کا یہ کہنا کہ ‘‘فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں’’۔ (السعدی:۸۲۰)
سوال: وہ کیا وجہ تھی کہ مشرکین کے اندر اللہ و رسول کی مخالفت کی ہمت ہوگئی تھی اور فرشتوں کی بابت وہ بیہودہ گوئی کرتے تھے؟
فَأَعۡرِضۡ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكۡرِنَا وَلَمۡ يُرِدۡ إِلَّا ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا ٢٩
ان کے بربادحواس اور ان کی گمراہی کا ذکر کرنے کے بعد اس ضمن میں اللہ نے اپنے نبی کو ان سے اعراض کرنے کا حکم فرمایا۔ اعراض کے حکم کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کی گمراہی کا ہر رنگ اللہ کے ذکر سے اعراض کرنے کا نتیجہ تھا ،مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ذکر سے وہ پیٹھ پھیر لیتے تھے۔ سو مناسب ہوا اس اعراض کا بدلہ یہ دیاجائے کہ نبی ﷺ بھی ان سے اعراض فرمائیں ۔(ابن عاشور:۲۷؍۱۱۷۔۱۲۲)
سوال: اس آیت سے ہم یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ جیسا کام ہوگا بدلہ بھی ویسا ہوگا؟
وَلَمۡ يُرِدۡ إِلَّا ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا ٢٩ ذَٰلِكَ مَبۡلَغُهُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِۚ
یعنی یہی ان کی کل واقفیت ہے اور یہی ان کا مبلغ علم ہے ۔ رہے آخرت پر ایمان رکھنے والے اور اس کی تصدیق کرنے والے اصحاب عقل و خرد تو ان کا ارادہ اور ان کی تگ و دو آخرت کے لئے ہے ۔ان کے علوم سب افضل اور برتر ہیں ، وہ جو کتاب اللہ اور سنت رسول سے ماخود ہیں۔(السعدی: 820)
سوال: یہ آیت کریمہ شرعی علم کی فضیلت پر کس طرح دلالت کرتی ہے ؟
ذَٰلِكَ مَبۡلَغُهُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِۚ
یعنی وہ صرف اپنی دنیا کے امور پر دھیان دیتے ہیں اور اپنے دین کے معاملہ سے جاہل ہیں ۔ فرّاء کہتے ہیں : اللہ نے انہیں معمولی بتلایا اور ان کی تحقیر فرمائی ۔ یعنی یہی ان کی عقل کا معیار ہے اور یہی ان کا مبلغ علم ہے کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں۔(القرطبی:۲۰؍۴۱)
سوال: یہ اسلوب اسلوب تحقیر و تصغیر کہلاتا ہے ۔ آپ یہ بتائیے اللہ نے کس چیز کے ذریعہ ان کا رتبہ گھٹایا ہے ؟
وَإِذۡ أَنتُمۡ أَجِنَّةٞ فِي بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡۖ
اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹو ں میں‘‘جنین’’ تھے سوجس کامقدر ساقط ہونا تھا ساقط ہوگیا اور ہم لوگ پیٹ میں باقی رہنے والوں میں سے ٹھہرے۔ پھر ہم دودھ پینے کی عمر کو پہنچ گئے سو کچھ انتقال کرگئے اور ہم زندہ باقی رہنے والوں میں سے ٹھہرے۔پھرہم بالغ ہوگئے تو کچھ قوت ہوگئی اور ہم بچ رہے۔پھر ہم جوان ہوگئے سو کچھ تو وفات پاگئے اور ہم باقی رہے پھر ہم بوڑھے بھی ہوگئے۔حیرت کی بات ہے! اب بھلا ہمیں کس چیز کاانتظار ہے ؟ (البغوی:۴؍۲۶۱)
سوال: اس آیت سے ہم پر اللہ تعالیٰ کا ایک احسان سمجھ میں آتا ہے بتائیے وہ کون سا احسان ہے؟ پھر وہ احسان ہمیں کس بات کی دعوت دیتاہے؟
فَلَا تُزَكُّوٓاْ أَنفُسَكُمۡۖ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ ٣٢
کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتےہیں : لوگ اعمال تو اچھے انجام دیتے مگر کہتے : ہماری نماز !ہمارے روزے! ہماراحج! ہمارا جہاد! چنانچہ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : (هو أعلم بمن اتقى) یعنی اللہ کو خوب معلوم ہے کون نیک ہے اور فرمانبردار ی کررہا ہے اور خالص اللہ کے لئے کررہا ہے۔( البغوی: ۴؍۳۱۲)
سوال : (فلا تزكوا أنفسكم) کا سبب نزول بیان فرمائیے؟
وَأَن لَّيۡسَ لِلۡإِنسَٰنِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ٣٩
آخرت میں بیٹے باپ سے ملحق ہونگے جیسا کہ دنیا میں با پ کے ساتھ شامل مانے جاتے تھے۔ یہ شمولیت آباء کی عزت افزائی اور اس ثواب کا نتیجہ ہے جو ثواب انہوں نے اپنی کوشش سے حاصل کیا ہے ۔ البتہ بیٹوں کی باپوں کے ساتھ مراتب میں شمولیت بلا محنت حاصل ہوئی ہے سویہ بات بیٹوں کے لئے نہیں باپوں کے لئے ہے۔ اللہ نے جنت میں انہیں اولاد سے ملا کر ان کی آنکھ ٹھنڈی کردی۔(ابن القیم :۳؍۸۲)
سوال: (وأن ليس للإنسان إلا ما سعى) اور ﴿وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱتَّبَعَتۡهُمۡ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ أَلۡحَقۡنَا بِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ﴾ [الطور: 21]میں کس طرح تطبیق دیں گے ؟