قرآن
ﯡ
ﱓ
ﭟ ﭠ ﭡ ٣٣ ٣٣ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
٣٤ ٣٤ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ٣٥ ٣٥ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ٣٦ ٣٦ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ٣٧ ٣٧ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ٣٨ ٣٨ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ٣٩ ٣٩
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ٤٠ ٤٠ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ٤١ ٤١ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ٤٢ ٤٢
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ٤٣ ٤٣ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ٤٤ ٤٤ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ٤٥ ٤٥ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ٤٦ ٤٦ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ
ﯻ ﯼ ﯽ ٤٧ ٤٧ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ
ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ٤٨ ٤٨ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ٤٩ ٤٩
ﯢ
أَمۡ تَأۡمُرُهُمۡ أَحۡلَٰمُهُم بِهَٰذَآۚ أَمۡ هُمۡ قَوۡمٞ طَاغُونَ ٣٢
حلم کا معنی عقل ہے ۔ (أم تأمرهم أحلامهم) ‘‘کیا ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی ہیں’’ کے اسلوب میں انکار کا مفہوم یہ ہے کہ عالی دماغوں سے ایسی بات سرزد نہیں ہوسکتی۔ اس میں یہ تنقید ہے کہ ان کی عقل ماری گئی ہے تبھی وہ لوگ ایسی بات کررہے ہیں ۔ کیونکہ صحیح عقل ودماغ سے ایسی بات صادر نہیں ہوسکتی۔سووہ ایسے ہیں گویاان کے پاس عقل ہی نہیں ہے ۔ اور بات جوکہی جاتی ہے کہ کافر بے عقل ہوتا ہے اس کا یہی مطلب ہے۔(ابن عاشور:۲۷؍۶۴)
سوال: ‘‘ کافر بے عقل ہوتاہے’’ اس قول کی شرح کس طرح کی جائےگی؟
أَمۡ تَأۡمُرُهُمۡ أَحۡلَٰمُهُم بِهَٰذَآۚ أَمۡ هُمۡ قَوۡمٞ طَاغُونَ ٣٢
یعنی کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی متضاد باتیں سکھاتی ہیں۔ بے شک! کاہن تو وہ ہے جو ذہانت و فطانت میں بہت بڑھا ہوا ہو۔ اور مجنوں بے عقل آدمی کو کہتے ہیں چہ جائے کہ وہ ذہین و فطین ہو۔( الشوکانی :۵؍99)
سوال: رسول گرامی ﷺ کو الزام لگانے میں مشرکین کا تناقض کیا ہے بیان کریں؟
فَلۡيَأۡتُواْ بِحَدِيثٖ مِّثۡلِهِۦٓ إِن كَانُواْ صَٰدِقِينَ ٣٤
اللہ کےفرمان: (إن كانوا صادقين) یعنی اگر وہ اپنے اس گمان میں سچے ہیں کہ آپ نے جھوٹ بات منسوب کیا ۔ یعنی اگر وہ قرآن جیسا کلام پیش نہ کرسکے تو پھر جھوٹے ہیں۔
اور یہ آیت ان کی عزیمتوں کوگویابھڑکارہی ہے کہ وہ قرآن جیسا کلام پیش کریں۔ تاکہ جب وہ قرآن جیسا کلام پیش نہ کرسکیں تو یہ چیز ان کے جھوٹ کی کھلی ہوئی دلیل بن جائے ۔ (ابن عاشور:۲۷؍۶۷)
سوال: آیت میں (إن كانوا صادقين) کہنے کا کیافائدہ ہے ؟
فَلۡيَأۡتُواْ بِحَدِيثٖ مِّثۡلِهِۦٓ إِن كَانُواْ صَٰدِقِينَ ٣٤
یہ چیز خلاف عادت ہے کہ کسی قوم کا کوئی شخص کچھ ایسا پیش کرے جس کی مثال پوری قوم پیش کرنے سےعاجز ہوحالانکہ وہ شخص ان ہی جیسا ہو۔عقل مند شخص کسی چیز کی واقفیت کےبغیر حتمی انداز نہیں اختیار کرتا۔ چونکہ انہیں اس کا علم تھا لہٰذا انہیں آپ جیسا کلام پیش کرنے پر قادر بھی ہونا چاہئے۔اللہ کے رسول فصاحت،وطن اور نسب میں انہی جیسے تھے اور کفار مکہ میں بعض تو تحریر ،شعر گوئی ، علماء کی ہم نشینی ، مراسلات اور تقریروں کی مشق وغیرہ میں آپ سے آگے تھے۔ سو جس بات سے وہ لوگ عاجز ہیں اس بات پر اگر آپ قادر ہیں تو اس کا صاف مطلب ہے کہ یہ صرف اللہ کی تائید و نصرت کا معاملہ ہے۔ ان کی تکذیب سے یہی بات مراد ہے۔(البقاعی:19؍26)
سوال: آیت میں آپ کی رسالت کی سچائی پر کھلی دلیل موجود ہے اس کی وضاحت کیجئے ؟
يَوۡمَ لَا يُغۡنِي عَنۡهُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَا هُمۡ يُنصَرُونَ ٤٦
(شيئًا) یعنی کم نہ زیادہ، بھلے دنیا میں ان کے یہاں مکر پایا جاتا ہے اور اس کے سہارے ایک مختصر مدت وہ گزار بھی لیتے ہیں لیکن روز قیامت ان کا مکر بےکارہوجائے گااور ان کی ساری کوشش برباد ہوجائے گی۔(السعدی:818)
سوال: دنیا اور آخرت میں کفار کے مکر کا فرق واضح کیجئے ؟
وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ عَذَابٗا دُونَ ذَٰلِكَ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٤٧
ایک قول یہ ہے کہ یہاں ان کی مو ت سے پہلے عذاب مراد ہے ۔ ابن زید کےمطابق عذاب سے: مال واولاد کی تباہی، پریشانیاں ،بیماریاں ،تکلیفیں وغیرہ دنیا کے مصائب مراد ہیں ۔(القرطبی:۱۹؍۵۴۱)
سوال: مخالفت کرنے والے پر صرف آخرت کا عذاب نہیں ہوگا ۔ اس کی وضاحت فرمائیں؟
وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَسَبِّحۡهُ وَإِدۡبَٰرَ ٱلنُّجُومِ ٤٩
(رات میں تسبیح پڑھئے اور ستاروں کے ڈوبتے وقت بھی) بایں طور کہ فجر کی سنت اور فرض ادا کیجئے، کیونکہ ستاروں کے غروب ہونے کا حقیقی وقت یہی ہوتا ہے، گویا صبح کی عبادت پر (یہاں) دو مربتہ ابھارا گیا ہے اس کی قدر و منزلت بیان کرنے کے لئے، کیونکہ یہ واقع ہونے والے عذاب سے نجات دلاتا ہے اور زرہ پوش دشمن پر غلبہ عطاکرتا ہے، خواہ وہ کھلم کھلا حملہ آور ہو، یا دھوکہ باز منافق ہو۔ (البقاعی:۱۹؍39)
(توضیح از مترجم: صبح کی عبادت پر دوبارہ ابھارا گیا ہے ایک (حِيْنَ تَقُوْمُ) میں اور دوسرا ( ادبار النجوم) میں)۔
سوال: سورج ڈوبنے کے وقت کو نماز اور تسبیح کے لئے کیوں خاص کیاگیا ہے؟