قرآن
ﯡ
ﱓ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ١٦ ١٦
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ١٧ ١٧ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ١٨ ١٨ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ١٩ ١٩ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ٢٠ ٢٠ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ٢١ ٢١ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ٢٢ ٢٢
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ٢٣ ٢٣ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ٢٤ ٢٤ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ٢٥ ٢٥ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
٢٦ ٢٦ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ٢٧ ٢٧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ٢٨ ٢٨ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ٢٩ ٢٩ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ
ﰂ ٣٠ ٣٠ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ٣١ ٣١
ٱصۡلَوۡهَا فَٱصۡبِرُوٓاْ أَوۡ لَا تَصۡبِرُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡۖ إِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ١٦ إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّٰتٖ وَنَعِيمٖ ١٦
اللہ تعالیٰ نے جب مکذبین کو دی جانے والی سزا ذکر کی تو متقیوں کی نعمتوں کا بھی تذکرہ فرمایا تاکہ ترغیب و ترھیب دونوں باتوں کا ذکر آجائے اور دل امیدوخوف کے درمیان رہے ۔(السعدی:814)
سوال: اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کی سزا کے بعد متقیوں کا انجام کیوں ذکر کیا؟
إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّٰتٖ وَنَعِيمٖ ١٧ فَٰكِهِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ وَوَقَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ عَذَابَ ٱلۡجَحِيمِ ١٨
اور اس میں یہ نکتہ بھی ہے کہ جہنم کے عذاب سے انہیں بچانا عدل ہے کیونکہ انہوں نے ایسا کچھ کیا ہی نہیں جس پر سزا واجب ہوتی اور جو نعمتیں انہیں دی گئیں وہ اللہ کا فضل اور اس کی طرف سے عزت افزائی ہے ۔(ابن عاشور:27؍46)
سوال: آیت کریمہ میں اللہ نے متقیوں کے لئے عدل وفضل دونوں کو کس طرح جمع فرمایا ہے ؟ وضاحت کیجئے ؟
مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ سُرُرٖ مَّصۡفُوفَةٖۖ
اللہ نے (سُرُرٍ) کی صفت (مَصْفُوْفَةٍ) بیان فرمائی ہے تاکہ معلوم ہوکہ وہ تخت زیادہ ہوں گے ، اچھی طرح مرتب ہوں گے، اچھے رہن سہن کے سبب وہ لوگ خوش ہوں گے اورتمام گھر والے اکٹھا ہوں گے ، اور ایک دوسرے سے گفتگو کا انداز بڑا پیارا ہوگا۔(السعدی:815)
سوال: سرر کی صفت مصفوفۃ سے بیان کرنے میں کئی امور کا پتہ چلتا ہے انہیں بیان کیجئے؟
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱتَّبَعَتۡهُمۡ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ أَلۡحَقۡنَا بِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَمَآ أَلَتۡنَٰهُم مِّنۡ عَمَلِهِم مِّن شَيۡءٖۚ كُلُّ ٱمۡرِيِٕۢ بِمَا كَسَبَ رَهِينٞ ٢١
آیت کا معنی وہی ہے جو حدیث شریف میں موجودہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ مومن کی اولاد کو بھی مومن کے مقام تک بلند فرمادیتا ہے اگر چہ اولاد عمل میں اس سے کمتر ہو تا کہ ان کے ذریعہ مومن کی آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو ۔ تو یہ آباء کے سبب ابناء کی عزت افزائی ہے…اب اگر یہ کہا جائے (بِاِيْمَانٍ) کو نکرہ کیوں لایاگیا تو جواب یہ ہے کہ دراصل ایمان والی کوئی بھی چیز ان کے پاس اس درجے کی نہیں تھی جس سے وہ اپنے آباء کے مقام تک پہنچ سکتے مگر آباء کی عزت افزائی کے لئے ان کی اولاد کو ان کے ساتھ کردیاگیا ہے سو مراد اولاد کے ایمان کی قلت ہے البتہ درجہ ان کا بلند کردیا گیا۔ غور فرمائیے اگر عظیم ایمان ہوتا تب کیا بات ہوتی۔(وما ألتناهم من عملهم من شيء) یعنی ان کے اعمال کا ثواب ہم نے کچھ بھی کم نہیں کیا بلکہ انہیں ان کا پوراپورا اجر دیا۔(ابن جزی:2؍376)
سوال : آیت میں اہل جنت کی دل بستگی کی تکمیل کا بیان ہے اسے بیان کیجئے؟
قَالُوٓاْ إِنَّا كُنَّا قَبۡلُ فِيٓ أَهۡلِنَا مُشۡفِقِينَ ٢٦ فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا وَوَقَىٰنَا عَذَابَ ٱلسَّمُومِ ٢٧
آیت کریمہ میں یہ بات بھی موجود ہے کہ دنیا والے گھر میں اللہ کے عذاب سے سخت خوف کھانا آخرت میں خوف سے محفوظ رہنے کا سبب ہے۔ اس کا مفہوم مخالف یہ ہوا کہ جو دنیا میں عذاب الٰہی سے خوف نہیں کھاتا آخرت میں اس سے نہیں بچ سکتا۔(الشنقیطی:7؍456)
سوال : عذاب آخرت سے چھٹکارے کی علت بتائیے؟ اور آیت سے کیا سمجھ میں آتا ہے ؟
قَالُوٓاْ إِنَّا كُنَّا قَبۡلُ فِيٓ أَهۡلِنَا مُشۡفِقِينَ ٢٦
(مُشْفِقِيْنَ) یعنی ڈرنے اور خوف سے کانپنے والے تھے ۔ چنانچہ اس کے ڈر سے ہم نے گناہ چھوڑدیا اور اس کی وجہ سے ہم نے عیوب کی اصلاح کرلی ۔ (السعدی:815)
سوال: اللہ اور آخرت کا خوف انسان کے لئے کب مفید ثابت ہوتا ہے ؟
إِنَّا كُنَّا مِن قَبۡلُ نَدۡعُوهُۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡبَرُّ ٱلرَّحِيمُ ٢٨
آسمان و زمین میں جولوگ بھی ہیں سب اللہ سے مانگتے ہیں لیکن کامیابی اور نجات عبادت میں اخلاص پیدا کرنے پر ملتی ہے خالی مانگنے اورطلب کرنے سے نہیں۔(ابن القیم:3؍62)
سوال: اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا تو پوری مخلوق کرتی ہے مگر وہ کون ہے جو چمڑیاں جھلسادینے والے عذاب سے نجات پائے گااور بچ سکے گا؟