قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﯠ

ﱓ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ
٥٢ ٥٢
ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ٥٣ ٥٣ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ٥٤ ٥٤
ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ٥٥ ٥٥ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ٥٦ ٥٦
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ٥٧ ٥٧
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ٥٨ ٥٨
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
٥٩ ٥٩
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ٦٠ ٦٠
Surah Header

ﯡ

ﭦﭛﭣﭤ
ﮞ ١ ١ ﮠ ﮡ ٢ ٢ ﮣ ﮤ ﮥ ٣ ٣ ﮧ
ﮨ ٤ ٤
ﮪ ﮫ ٥ ٥ ﮭ ﮮ ٦ ٦ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ٧ ٧
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ٨ ٨ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ٩ ٩
ﯠ ﯡ ﯢ ١٠ ١٠ ﯤ ﯥ ﯦ
١١ ١١
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ١٢ ١٢ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ١٣ ١٣
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ١٤ ١٤
523
سورۃ الذاريات آیات 54 - 55

فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ فَمَآ أَنتَ بِمَلُومٖ ٥٤ وَذَكِّرۡ فَإِنَّ ٱلذِّكۡرَىٰ تَنفَعُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٥٥

پھر جب ان سے اعراض کا حکم دیا تویہ بھی حکم دیا کہ یا ددہانی اور اچھے انداز میں نصیحت نہ چھوڑی جائے ۔(الشوکانی:5؍92)
سوال: اعراض کا حکم دینے کے بعد نصیحت کا جو حکم ہے اس میں فقہ الدعوۃ کے حوالے سے ایک فائدہ موجود ہے اسے بیان کیجئے ؟

سورۃ الذاريات آیات 0 - 55

وَذَكِّرۡ فَإِنَّ ٱلذِّكۡرَىٰ تَنفَعُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٥٥

تذکیر(یعنی نصیحت کرنے) کاحکم دینے میں صرف ایک علت ‘‘تذکیر سے مومنوں کا فائدہ’’ ذکر فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس بات کافائدہ ہونا یقینی ہے۔اور جس جگہ کافروں کے ساتھ بے توجہی کا اظہار کیا گیا اس جگہ مومنوں پر توجہ کااظہار کرنے کے لئے بھی ایک ہی علت کا ذکر کیا۔ اللہ نے فرمایا: ﴿ فَذَكِّرۡ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكۡرَىٰ * سَيَذَّكَّرُ مَن يَخۡشَىٰ * وَيَتَجَنَّبُهَا ٱلۡأَشۡقَى﴾ (الاعلیٰ:۹۔۱۱) یعنی اگر نصیحت فائدہ دے تو آپ نصیحت کیجئے جو ڈرتا ہے وہ نصیحت حاصل کرے گا، اور بدبخت ہی اس سے کترائے گا۔(ابن عاشور:27؍24)
سوال: تذکیر کاحکم دینے میں صرف مومنوں کے فائدہ حاصل کرنے والی علت کیوں بیان فرمایا؟

سورۃ الذاريات آیات 0 - 56

وَمَا خَلَقۡتُ ٱلۡجِنَّ وَٱلۡإِنسَ إِلَّا لِيَعۡبُدُونِ ٥٦

(وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون) میں جنات کا ذکر پہلے ہوا ہے تاکہ مشرکین کے یہاں اس انوکھی خبر کا اہتمام پیدا ہوجائے جوکہ جنات کی پوجا کرتے تھے تاکہ وہ لوگ جان لیں کہ جن اللہ کے بندے ہیں ۔(ابن عاشور:27؍28)
سوال: آیت کریمہ میں انسانوں پر جناتوں کو کیوں مقدم کیا گیا ہے ؟

سورۃ الذاريات آیات 0 - 58

إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلرَّزَّاقُ ذُو ٱلۡقُوَّةِ ٱلۡمَتِينُ ٥٨

تمام عالم کو روزی پہنچانا اللہ کی قوت کاحصہ ہے ۔(السعدی: 813)
سوال: صفتِ رزاقیت کے بعد قوت کی صفت ذکر کی گئی ہے ۔دونوں میں کیا تعلق ہے ؟

سورۃ الطور آیات 1 - 8

وَٱلطُّورِ ١ وَكِتَٰبٖ مَّسۡطُورٖ ٢ فِي رَقّٖ مَّنشُورٖ ٣ وَٱلۡبَيۡتِ ٱلۡمَعۡمُورِ ٤ وَٱلسَّقۡفِ ٱلۡمَرۡفُوعِ ٥ وَٱلۡبَحۡرِ ٱلۡمَسۡجُورِ ٦ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَٰقِعٞ ٧ مَّا لَهُۥ مِن دَافِعٖ ٨

ایک رات حضرت عمر رضی اللہ عنہ گشت پر تھے۔ آپ کا گزر ایک مسلمان کے گھر سے ہوا اتفاق سے وہ کھڑا نماز پڑھ رہا تھا چنانچہ آپ رک گئے اور اس کی قرأت سننے لگے۔ اس نے پڑھا (وَ الطُّوْرِ) یہاں تک کہ (إن عذاب ربك لواقع * ما له من دافع) تک پہنچا ۔ آپ نے فرمایا: رب کعبہ کی قسم! قسم میں سچائی ہے پھر آپ اپنے گدھے سے اتر گئے اور ایک دیورا کے ساتھ ٹیک لگا لی اور ذرا دیر ٹھہرے رہے پھر اپنے گھر لوٹ گئے ایک مہینہ گھر ہی میں پڑے رہے کہ لوگ آپ کی عیادت کو آنے لگے اور کوئی نہیں جانتا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو آخر بیماری کیا ہے ۔(ابن کثیر:4؍242)
سوال: کیا سننے کے ذریعہ تدبر کرنا ممکن ہے ؟ بیان کیجئے.

سورۃ الطور آیات 0 - 4

وَٱلۡبَيۡتِ ٱلۡمَعۡمُورِ ٤

انس بن مالک اپنی قوم کے ایک آدمی مالک بن صعصعہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا: میرے سامنے بیت معمور پیش کیا گیا تو میں نے جبریل سے پوچھایہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا یہ بیت معمور ہے اس میں ہر دن سترہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جب وہ اس سے نکل جاتے ہیں تو انہیں دوبارہ داخل ہونے کا موقع نہیں ملتا۔(الطبری:22؍455)
سوال: بیت معمور کی شان بڑی بلند ہے ۔ اس بات کی دلیل کیا ہے؟

سورۃ الطور آیات 11 - 12

فَوَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ ١١ ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي خَوۡضٖ يَلۡعَبُونَ ١٢

جن اعمال اور علوم میں وہ مصروف تھے ان کا ذکر فرمایا ہے ۔ وہ اعمال و علوم دراصل ‘‘خوض’’پر مشتمل تھے جس کا معنی ہے قطعی باطل کلام ! اسی طرح ‘‘لعب’’ یعنی کھیل کود پر مشتمل تھے جو محض ایک برباد کوشش ہے ۔ گویا نہ نفع بخش علم تھا نہ صالح عمل، ان کے علوم محض باطل چیزوں میں لایعنی غوروفکر اور ان کے اعمال کھیل پر مبنی تھے۔(ابن القیم:3؍55)
سوال: آیت میں مکذبین کی ذکر کردہ نمایاں صفات کیا ہیں ؟