قرآن
ﮏ
ﰻ
ﭙ ﭚ ﭛ ١٦ ١٦ ﭝ ﭞ ﭟ
ﭠ ﭡ ﭢ ١٧ ١٧ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ١٨ ١٨ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ١٩ ١٩ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ٢٠ ٢٠
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ٢١ ٢١ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ٢٢ ٢٢
ٱلصَّٰبِرِينَ وَٱلصَّٰدِقِينَ وَٱلۡقَٰنِتِينَ وَٱلۡمُنفِقِينَ وَٱلۡمُسۡتَغۡفِرِينَ بِٱلۡأَسۡحَارِ ١٧
رات کے آخری حصہ یعنی سحری کے اوقات کو مغفرت مانگنے کے ساتھ خاص کیا گیا ہے۔اس لئے کہ صبح سے پہلے کے ان اوقات میں دعاء، قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے کیونکہ اس وقت کی عبادت زیادہ دشوار ہوتی ہے اور دل بالکل صاف ستھرا ہوتا ہے ،نیز طبیعت یعنی ذہن وفکرمیں جماؤ ہوتا ہے۔ ( الألوسی:۳؍۱۰۲)
سوال:استغفار کے لئے سحر کے اوقات کو خاص کیوں کیا گیا؟
ٱلصَّٰبِرِينَ وَٱلصَّٰدِقِينَ وَٱلۡقَٰنِتِينَ وَٱلۡمُنفِقِينَ وَٱلۡمُسۡتَغۡفِرِينَ بِٱلۡأَسۡحَارِ ١٧
سلف صالحین اپنی راتوں کو نمازمیں گزارتے تھے ۔پھر وقتِ سحربیٹھ کر استغفار کرتے۔اس طرح وہ قیام اللیل یعنی تہجدکو استغفار کے ساتھ ختم کرتے تھے۔
(ابن تیمیہ:۲؍۳۹)
سوال:اکثر عبادات کس چیز کے ساتھ ختم کی جاتی ہیں؟
شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَأُوْلُواْ ٱلۡعِلۡمِ قَآئِمَۢا بِٱلۡقِسۡطِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ١٨
آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ سب سے زیادہ شرف والی چیز، توحید کا علم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بذاتِ خوداس توحید کی گواہی دی ہے اور اپنی مخلوق میں سب سے بڑے اور باعظمت لوگوں کو اس پر گواہ بنایا ہے اور گواہی صرف ایسے علم اور یقین کی بنیاد پر ہی قائم ہوتی ہے جو آنکھ سے دیکھنے کے ہم پلّہ ہو۔(السعدی: ۱۲۵)
سوال:علمِ توحید کا کیا مقام ہے؟اور آپ اپنی بات پر اس آیت سے کس طرح دلیل پکڑیں گے؟
شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَأُوْلُواْ ٱلۡعِلۡمِ قَآئِمَۢا بِٱلۡقِسۡطِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ١٨
اس آیت میں علم توحید کی فضیلت کئی طریقوں سے ثابت ہوتی ہے۔انہی میں سے ایک یہ ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے علماء کی شہادت (گواہی)کو اپنی شہادت اور فرشتوں کی شہادت کے ساتھ ملا دیا ہے ۔(علم اور علماء کی)فضیلت کے لئے یہی بات کافی ہے۔
دوسراطریقہ یہ ہے:اللہ تعالیٰ نے انہیں(علماء کو)تمام لوگوں پر گواہ اور حجت بنایا ہے اور انہوں نے جس چیز کی گواہی دی ہے،اللہ نے لوگوں کو اس پر عمل کرنے کا پابند بنادیا۔لہٰذا لوگوں کے اس پر عمل کرنے کا ذریعہ اور سبب یہی بنتے ہیں ۔اس لئے اب اس کی بدولت ہر عمل کرنے والے کے عمل سے ان علماء کو بھی اجر وثواب کا حصہ ملے گا۔یہ اللہ کا فضل ہے ،جسے چاہے عطافرمائے۔
تیسراطریقہ یہ ہے:اللہ تعالیٰ کا اہلِ علم کو گواہ بنانا ۔دراصل اللہ کی جانب سے ان کا تزکیہ یعنی انہیں سچا اور اچھا قرار دینااور تعدیل یعنی قابل اعتماد اور دیانت دار قرار دیناہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جس چیز کا ذمہ دار بنایاہے وہ اس کے اہل ہیں۔ (السعدی: ۱۲۵)
سوال:آیت کئی طریقوں سے علم اور علماء کی فضیلت بتاتی ہے۔اسے بیان کیجئے.
إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلۡإِسۡلَٰمُۗ وَمَا ٱخۡتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۗ وَمَن يَكۡفُرۡ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ١٩
اجتماعیت اور الفت ومحبت کا سبب :پورے دین کاجامع تصور رکھنا اور پورے کے پورے دین پر عمل کرنا ہے۔اوروہ ہے:اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت، اس کے حکم کے مطابق، باطنی اور ظاہری طور پر کرنا ۔
اور اختلاف وتفرقہ کا سبب:بندے کو جو حکم دیا گیا ہے اس میں سے کوئی حصہ چھوڑدینا اور بندوں کے درمیان ظلم وزیادتی کرنا ہے۔
اور اجتماعیت واتحاد کا نتیجہ ہے : اللہ کی رحمت ،اس کی رضامندی ،اس کی برکتیں ،دنیا وآخرت کی سعاد ت اور چہرے کا روشن ہونا ۔
جبکہ فرقہ بندی کا نتیجہ :اللہ کا عذاب،اس کی لعنت،چہروں کی سیاہی اور اختلاف کرنے والوں سے رسول اللہ ﷺ کی بیزاری ہے۔ (مجموع الفتاویٰ :۱؍۱۷)
سوال:امت میں اتحاد اوراختلاف کا سبب کیا ہے؟
وَمَا ٱخۡتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۗ وَمَن يَكۡفُرۡ بِايَٰتِ ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ١٩
یہ خبردی گئی ہے کہ اہلِ کتاب نے حقائق کو جان لینے کے بعد اختلاف کیا ۔اس کی وجہ محض سرکشی تھی۔اور اس سے مراد حسد ہے۔ (ابن جزی:۱؍۱۳۹)
سوال:آیت نے اختلاف کے اسباب میں سے ایک سبب بیان کیا ہے۔وہ کیا ہے؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡفُرُونَ بِٔاَيَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقۡتُلُونَ ٱلنَّبِيِّۧنَ بِغَيۡرِ حَقّٖ وَيَقۡتُلُونَ ٱلَّذِينَ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡقِسۡطِ مِنَ ٱلنَّاسِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ٢١
یہ آیت اس بات پر دلیل ہے کہ بھلائی کا حکم دینااور برائی سے روکنایعنی امر بالمعروف اورنہی عن المنکرکا فریضہ پچھلی امتوں پر بھی واجب تھا۔ (القرطبی:۵؍۷۳)
سوال:امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی عظمت بیان کیجئے.