قرآن
ﯞ
ﱒ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ١٢ ١٢ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ١٣ ١٣ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ١٤ ١٤
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ١٥ ١٥ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ١٦ ١٦ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ١٧ ١٧ ﰉ ﰊ ﰋ
ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ١٨ ١٨
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱجۡتَنِبُواْ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعۡضَ ٱلظَّنِّ إِثۡمٞۖ وَ لَا تَجَسَّسُواْ
اس کی وجہ یہ ہے کہ ابتداء میں اس کے دل میں تہمت کا خیال آتا ہے وہ اس خبر کے لئے جاسوسی کرتا ہے اور بحث و تمحیص کرتا ہے وہ توجہ سے دیکھتا ہے اور توجہ سے سنتا ہے تاکہ وہ امر ثابت ہوجائے جو اس تہمت سے واقع ہوا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع کیا۔ آپ چاہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ بدگمانیوں میں تمییز کرنے کا ضابطہ یہ ہوگا کہ جس کی آپ صحیح علامت اور ظاہری سبب نہ پائیں تو وہ حرام ہے اور اس سے اجتناب ضروری ہے۔ (القرطبى: 19؍396)
سوال: وه بدگمانى جو شرعا حرام ہے، وه كیا ہے؟
وَلَا يَغۡتَب بَّعۡضُكُم بَعۡضًاۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمۡ أَن يَأۡكُلَ لَحۡمَ أَخِيهِ مَيۡتٗا فَكَرِهۡتُمُوهُۚ
ابو قلابہ الرقاشى كہتےہیں كہ میں نے ابو عاصم كو كہتےہوئے سنا: غیبت كى شناعت معلوم ہوجانے كےبعد میں نے كسى كى غیبت نہیں كى اور میمون نہ خود كسى كى غیبت كرتے اور نہ ہى اپنى مجلس میں دوسروں كوغیبت كرنے دیتے تھے، غیبت كرنے والے كو منع كرتے تھے وہ رک جاتا تو ٹھیك ورنہ وه وہاں سے نكل لیتےتھے۔(القرطبى: 19؍404)
سوال: غیبت سے ڈرانے والے سلف سے منقول دو اثر بیان كیجئے.
وَلَا يَغۡتَب بَّعۡضُكُم بَعۡضًاۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمۡ أَن يَأۡكُلَ لَحۡمَ أَخِيهِ مَيۡتٗا فَكَرِهۡتُمُوهُۚ
الله تعالىٰ نے غیبت كى تشبیہ مردار كو كھانے سے دى ہے كیونكہ مرده اپنے گوشت کے کھائے جانے سے لاعلم ہوتا ہے اسى طرح باحیات شخص بھى اپنے بارےمیں ہونے الى غیبت سے بےخبر ہوتاہے، حضرت ابن عباس( رضی اللہ عنہ) فرماتےہیں : الله تعالىٰ نے غیبت كى جو مثال پیش كى ہے اس كى توجیہ یہ ہے كہ جس طرح میت كا گوشت كھانا حرام اور گنده ہے اسى طرح غیبت حرام اور لوگوں كے نزدیك قبیح عمل ہے ۔ قتاده فرماتےہیں: جس طرح تم میں سے کوئی ایک اپنے مرده بھائى کا گوشت كو كھانے سے باز آتاہے، اسى طرح ضرورى ہےكہ اپنے باحیات بھائى كى غیبت سے بھى باز آجائے۔(القرطبى: 19؍403)
سوال: غیبت كو مرده انسان كے گوشت كھانے سے مشابہت دى گئى ہے ، اسكى توجیہ كیا ہے؟
وَلَا يَغۡتَب بَّعۡضُكُم بَعۡضًاۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمۡ أَن يَأۡكُلَ لَحۡمَ أَخِيهِ مَيۡتٗا فَكَرِهۡتُمُوهُۚ
حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) فرماتےہیں: لوگوں كى برائى سے یعنى غیبت كرنے سے بچو، كیونكہ وه ایك بیمارى ہے اور الله كے ذكر واذكار كو لازم پكڑو كیونكہ اس میں شفا ہے اور حضرت على (رضی اللہ عنہ) نے ایك شخص كودوسرے شخص کی غیبت كرتےہوئے سنا تو فرمایا: غیبت سے بچو؛ كیونكہ یہ تو لوگوں کے کتوں کا سالن ہے۔ اور عمروبن عبید كو خبردى گئى كہ فلاں نے آپ كى غیبت كى ہے حتى كہ ہمیں آپ پر رحم آنے لگا تو آپ نے فرمایا: اسى پر رحم كھاؤ، اوركسى نے حسن بصرى (رحمہ اللہ)سے شكایت كى كہ مجھے خبر ملى ہے كہ آپ میرى غیبت کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا: تیرا مقام ومرتبہ میرےپاس اتنا بڑا نہیں ہے كہ میں اپنی نیكیوں کا فیصلہ تیرے حق میں کردوں۔(القرطبى: 19؍404)
سوال: غیبت كى مذمت میں بعض سلف كےاقوال پیش كیجئے.
وَلَا يَغۡتَب بَّعۡضُكُم بَعۡضًاۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمۡ أَن يَأۡكُلَ لَحۡمَ أَخِيهِ مَيۡتٗا
الله تعالىٰ نے حرمتِ غیبت كى وجہ اسلامى اخوت كو قرار دیا ہے، لہذا مومن كى ایمانی حالت وكیفیت كےا عتبار سے غیبت شدت اختیار کرتی ہے ، مسلمان اپنے ایمان میں جس قدر مضبوط وقوى ہوگا ، اس كى غیبت بھى اسى قدر خطرناك اور سخت ہوگى۔(ابن تیمیہ: 6؍62)
سوال: كیا مومن كى غیبت ایك ہى درجہ کی ہے؟ اسے آیت کی روشنی میں واضح کیجئے.
وَجَعَلۡنَٰكُمۡ شُعُوبٗا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓاْۚ إِنَّ أَكۡرَمَكُمۡ عِندَ ٱللَّهِ أَتۡقَىٰكُمۡۚ
الله تعالىٰ نے واضح كردیا ہے كہ كنبے وقبیلے كى یہ تقسیم آپس میں تعارف اور تمییز كیلئےہے نہ كہ ایك دوسرے پرفخر اور برترى كےاظہار كےلئے، لہٰذا پتہ چلا كہ برترى كا معیار نسل ونسب كےعلاوه كوئى اور چیز ہے اور وه تقوىٰ وخشیتِ الٰہى ہے جس كى وضاحت اس آیت میں ہے: (إن أكرمكم عند الله أتقاكم) اس سے واضح ہوا كہ برترى وفضیلت كى بنیاد تقوى ہے نہ کہ كنبے قبیلے كى طرف نسبت ۔(الشنقیطى: 7؍417)
سوال: آیت نے واضح لفظوں میں افضلیت وبرترى كا معیار بتایا ہے ، اس كو بیان كیجئے.
إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ لَمۡ يَرۡتَابُواْ وَجَٰهَدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۚ
حقیقى مومن وه ہے جو ایمان كےساتھ ساتھ راهِ خدا میں جہاد بھى كرتاہے كیونكہ كافروں سے جہاد كرنا ایمان كامل كى علامت ہے، اور جو غیروں سے اسلام اور شریعت كى برترى اورنشرواشاعت كى خاطر جہاد كرےگا وه اپنے نفس سے بدرجۂ اولى جہاد كرےگا۔(السعدى: 802)
سوال: حقیقى مومن كیلئے الله نے اس آیت میں ایمان وجہاد كو كیوں جمع كردیا ہے؟