قرآن
ﯝ
ﱒ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ٢٩ ٢٩
ﯞ
ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ١ ١ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ٢ ٢ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ٣ ٣ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ٤ ٤
مُّحَمَّدٞ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡۖ تَرَىٰهُمۡ رُكَّعٗا سُجَّدٗا يَبۡتَغُونَ فَضۡلٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٗاۖ
صحابہ كرام كےحق میں “سختى ونرمى” دو متضاد خصلتوں كو جمع كرنا اس بات كى طرف اشاره ہے كہ وه رائے میں اصالت اور عقل میں حكمت ودانائى ركھتےتھے، ان كے اخلاق واعمال حكمت وبھلائى پر مشتمل ہوتے تھے، ان نفوس (قدسیہ) پر تعریف وتحسین اور تجریح و تقبیح میں سے كسى خاص امر كا غلبہ نہیں ہوتا تھا، اور وه كسى عمل كى طرف انسانى فطرت وبے بصیرتى كى بنیاد پر كھینچےنہیں چلےجاتےتھے۔ (ابن عاشور: 26؍205)
سوال: شدت ورحمت دونوں صفتوں كو جمع كرنے كا كیا فائده ہے؟
وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡۖ تَرَىٰهُمۡ رُكَّعٗا سُجَّدٗا
(أشداء على الكفار) كافروں كى دشمنى میں مخلص ومحنتى تھے ، اور اس سلسلہ میں پورى كوشش صرف كرتے تھے (رحماء بينهم) یعنى ایك بدن كى مانند آپس میں محبت اور رحم كرنے والے تھے، اپنے لئے وہى پسند كرتے جو دوسروں كیلئے پسند كرتےتھے، یہ تعامل ان كا مخلوق كےساتھ تھا، اور خالق كےساتھ ان كا معاملہ یوں ہوتا تھا: (تراهم ركعًا سجدًا). یعنى بکثرت ركوع كرنے والے اور سجدے كرنے والےتھے ۔ (السعدى: 795)
سوال: صحابہ كافروں پر سخت اور مومنوں كیلئے رحم دل تھے، اس كے تذكرے كےبعد ان كى نمازوں كاحال كیوں بیان ہوا ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيِ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ١
جب الله تعالىٰ نے صحابہ كرام كو آپ ﷺ كى آواز پر اپنى آوازوں كو مقدم كرنے سے منع فرمایا تو معقولات كو آپ كى حدیثوں اور شریعتوں پر مقدم كرنا كیسے جائز ہوگا۔ (ابن القیم: 3؍5)
سوال: آیت میں اشاره ہے كہ عقلِ سلیم نقل صحیح كےتابع ہونا ضرورى ہے ، اس كى وضاحت كیجئے.
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيِ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ١
اس آیت سے یہ بات معلوم ہوتى ہے كہ كسى كے قول كو رسول ﷺ كے قول پر مقدم كرنا سخت ممنوع ہے، سنت رسول ﷺ جب كسى پر واضح ہوجائے تو اس كى پیروى لازم ہوگى اور اسے غیر سنت پر فوقیت دینا ضرورى ہوگا چاہے وه جو بھى ہو۔(السعدى: 799)
سوال: رسول ﷺ كى واضح وظاہر باتوں كے باوجود غیر رسول ﷺكى باتوں كى پیروى كا كیا حكم ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَرۡفَعُوٓاْ أَصۡوَٰتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ ٱلنَّبِيِّ وَلَا تَجۡهَرُواْ لَهُۥ بِٱلۡقَوۡلِ كَجَهۡرِ بَعۡضِكُمۡ لِبَعۡضٍ
بعض علماء كرام نے آپ ﷺ كى قبر كےپاس آواز اونچى كرنے كو مكروه كہا ہے ، اور دیگر بعض علماء كرام نے اہل علم كى عزت وتكریم كى خاطر علمى مجلسوں میں آواز اونچى كرنے كو مكروه گردانا ہےچونکہ یہ انبیاء کے وارثین ہیں۔ (القرطبى: 19؍361)
سوال: آیت كى عملى تطبیق بتائیے.
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَرۡفَعُوٓاْ أَصۡوَٰتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ ٱلنَّبِيِّ وَلَا تَجۡهَرُواْ لَهُۥ بِٱلۡقَوۡلِ كَجَهۡرِ بَعۡضِكُمۡ لِبَعۡضٍ
آیت كریمہ كا ظاہرى معنى یہ ہے كہ انسان كاعمل كبھى كبھى غیر شعورى طورپر اكارت ہوجاتاہے۔ (الشنقیطى: 7؍403)
سوال: اس آیت سے كیا آپ سمجھتے ہیں كہ انسان كا عمل كبھى كبھار غیر شعورى طورپر ضائع ہوجاتا ہے؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَآءِ ٱلۡحُجُرَٰتِ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُونَ ٤
الله تعالىٰ نے ان کی مذمت فرمائى كہ وه عقل نہیں ركھتے كیونكہ انہوں نے الله كےرسول ﷺ كے ادب واحترام كو الله تعالیٰ سے نہیں سیکھا، نیز ادب كا برتنا عقل اور اہل ِعقل كى علامت ہے، یاد ركھئے كہ بندے كا باادب ہونا ،باادب كا پاس ولحاظ ركھنا اس كے عقل كا پتہ دیتاہے اور یہ بتاتا ہے كہ الله تعالىٰ نے اس كے ساتھ خیر كا اراده فرمایا ہے۔ (السعدی:799)
سوال: آیت كى روشنى میں ادب وعقل كے درمیان تعلق كو واضح كیجئے.