قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٠ ١٠


ﭿ

١١ ١١


١٢ ١٢

١٣ ١٣


١٤ ١٤


ﯿ
١٥ ١٥
512
سورۃ الفتح آیات 0 - 10

فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦۖ

اس لئے كہ وه عہد شكنى كركےاُس زمره سے نكل جائےگا جس سے الله تعالىٰ نے وفاءِ بیعت پر جنت كا وعده كیا ہے، اور اس نے ایسا كركے اپنے آپ كو ہى نقصان پہنچایا ہے، رہى بات رسول ﷺ كى تو الله تعالىٰ دشمنان رسول پر اپنے رسول كا حامى وناصر ہے چاہے لوگ بیعت كو توڑ دیں یا اسے پورى كریں ۔ (الطبرى: 22؍210)
سوال: انسان کا اپنے دین کے ساتھ غداری کرنے سے کس کو نقصان پہونچتا ہے؟

سورۃ الفتح آیات 0 - 11

يَقُولُونَ بِأَلۡسِنَتِهِم مَّا لَيۡسَ فِي قُلُوبِهِمۡۚ

جب منافقوں نے آپ سے طلبِ مغفرت كیلئے دل سے نہیں بلكہ استہزاءو مذاقاً كہا تھا،اور ان كا باطن ظاہر سے میل نہیں كھا رہا تھا، تو الله نے انہیں اپنے اس ارشاد سے رسوا كردیا : ( يقولون بألسنتهم ما ليس في قلوبهم ) اور منافقوں كا رویہ ایسا ہى رہتا ہے۔ (الشوكانى: 5؍48)
سوال: منافقین کانبی ﷺ سے طلبِ مغفرت کا کیا مقصد ہے ؟

سورۃ الفتح آیات 0 - 11

قُلۡ فَمَن يَمۡلِكُ لَكُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيًۡٔا إِنۡ أَرَادَ بِكُمۡ ضَرًّا أَوۡ أَرَادَ بِكُمۡ نَفۡعَۢاۚ بَلۡ كَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرَۢا ١١

كوئى بھى الله تعالیٰ كے ضرر ونفع كو روك نہیں سكتا ، اہل وعیال اور مال كےساتھ مصروفیت كا بہانہ كوئى عذر نہیں ہے، اگر الله ان كو نقصان پہنچاناچاہے تو وه ٹال نہیں سكتے، اور اگر الله تعالىٰ تمہارےساتھ نفع كا اراده ركھے تو دشمنوں كى دشمنى بھى اسے روك نہیں سكتى۔(الألوسى: 13؍253)
سوال: دین كى مدد ونصرت ترك كركے بال بچوں كےساتھ مشغولیت كا عذر پیش كرنا كیا الله كےنزدیك قابلِ قبول ہے؟

سورۃ الفتح آیات 0 - 12

بَلۡ ظَنَنتُمۡ أَن لَّن يَنقَلِبَ ٱلرَّسُولُ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ إِلَىٰٓ أَهۡلِيهِمۡ أَبَدٗا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِي قُلُوبِكُمۡ وَظَنَنتُمۡ ظَنَّ ٱلسَّوۡءِ وَكُنتُمۡ قَوۡمَۢا بُورٗا ١٢

نبى ﷺ كى باسلامت واپسی كا ادنى ا حتمال بھى ان كے حاشیۂ خیال میں نہ آیا بلكہ ان كى ہلاكت وبربادى كا حسین خواب ہى سجاتےرہے اور خوش ہوتےرہے۔ احمقوں اور گھٹیا سوچ ركھنے والوں كا یہى حال رہاہے كہ جو سوچ لیا سو سوچ لیا، واقعہ كے دوسرے رخ كا احتمال بھى فرض نہیں كرتے۔ (ابن عاشور: 26؍164)
سوال: منافقوں كے لئے ڈھیل ہے كہ وه مومنوں كے تعلق سے غلط خیال كو دل میں پالتے رہیں ، آیت كى روشنى میں اس كى وضاحت كیجئے.

سورۃ الفتح آیات 0 - 14

يَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا ١٤

آیت میں مغفرت كو مقدم كیا گیا ہے (يغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء) تاكہ انسان کے اندر مغفرت پانے كى آرزو جاگے اور وه ماضى كا تدارك كرنے كیلئے آگے بڑھے، یہ آیت آنے والی آیت (قل للمخلفين من الأعراب) إلى قوله: (فإن تطيعوا يؤتكم الله أجرًا حسنًا) كیلئے جو ایك وعده پر مشتمل ہےتمہید كى حیثیت ركھتى ہے۔(ابن عاشور: 26؍166)
سوال: آیت كریمہ میں مغفرت كو عذاب پر كیوں مقدم كیا گیا ہے؟

سورۃ الفتح آیات 0 - 15

سَيَقُولُ ٱلۡمُخَلَّفُونَ إِذَا ٱنطَلَقۡتُمۡ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأۡخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعۡكُمۡۖ يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُواْ كَلَٰمَ ٱللَّهِۚ

یعنی منافقین اہل ِحدیبیہ سے كئےگئے وعده كو بدلنا چاہتے تھے یعنى الله تعالىٰ نے اہل حدیبیہ سے وعده كرركھا تھا كہ غزوۂ خیبر سے جتنا بھى ما ل غنیمت حاصل ہوگا وه صرف حدیبیہ میں شریك ہونے والوں كا حصہ ہوگا، اور مخلفین مال غنیمت میں اہل حدیبیہ كےساتھ شریك ہونا چاہتےتھے ، گویا منافقین الله كے وعدے میں یہى تبدیلى چاہتےتھے ۔ (ابن جزى: 2؍349)
سوال: متخلفین اورمنافقین كى چاہت و خواہش مال غنیمت كے اردگرد ہى گھومتى ہے، آیت سے اسكى وضاحت كیجئے.

سورۃ الفتح آیات 0 - 15

فَسَيَقُولُونَ بَلۡ تَحۡسُدُونَنَاۚ بَلۡ كَانُواْ لَا يَفۡقَهُونَ إِلَّا قَلِيلٗا ١٥

منافقین كہیں گے كہ تم مال غنیمت پر ہم سے حسد كرتےہو، یہى ان كے علم كى انتہا ہے۔ اگر عقل وفہم ركھتےتو یقینا یہ جان لیتے كہ یہ محرومى ان كى معصیت كى وجہ سے ہے اور معصیت پر دینوى ودینى دونوں سزائیں دى جاسكتى ہیں اور یہى وجہ ہے كہ الله نے فرمایا : (بل كانوا لا يفقهون إلا قليلًا) (السعدى: 793)
سوال: منافقین كى خیبر كى غنیمتوں سے محرومى كا حقیقى سبب كیا ہے؟