قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١٠ ١٠


١١ ١١

١٢ ١٢

ﭿ


١٣ ١٣



١٤ ١٤



١٥ ١٥
51
سورۃ آل عمران آیات 0 - 10

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَن تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡٔاۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمۡ وَقُودُ ٱلنَّارِ ١٠

ان کافروں کو مال ودولت اور بال بچوں نے اللہ تعالیٰ سے اور ضروری چیزوں میں غور وفکر کرنے سے غافل کردیا اور وہ اموال واولاد میں اس حد تک مصروف ہوگئے کہ دیکھنے والوں کو ایسا لگنے لگاکہ یہ لوگ مال واولادکو اللہ کی رحمت اور اطاعت کے قائم مقام سمجھنے والوں میں سے ہیں۔ (الألوسی:۳؍۹۳)
سوال:اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں بیان فرمایا کہ کافروں کو ان کے مال اور اولاد کام نہیں آئیں گے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 12

وَٱللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصۡرِهِۦ مَن يَشَآءُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبۡرَةٗ لِّأُوْلِي ٱلۡأَبۡصَٰرِ ١٣

یعنی:مدد ، اللہ کی مشيئت وارادہ سے ملتی ہے ،نہ کہ قلت وکثرت سے ۔کیوں کہ مسلمانوں کا گروہ، کافروں کے گروہ پر غالب آگیا حالانکہ کافروں کی تعداد ان سے بہت زیادہ تھی۔(ابن جزی:۱؍۱۳۸)
سوال:کیا حقیقی مدد کا پیمانہ تعداد کی کثرت اور ہتھیار کی قوت ہے؟اسے واضح کیجئے.

سورۃ آل عمران آیات 0 - 12

وَٱللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصۡرِهِۦ مَن يَشَآءُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبۡرَةٗ لِّأُوْلِي ٱلۡأَبۡصَٰرِ ١٣

اگر کوئی دیکھنے والا صرف ظاہری اسباب ،تعداد اور سامانِ جنگ کو دیکھے گا تو قطعی فیصلہ کریگا کہ اس چھوٹی سی جماعت کا اتنی بڑی جماعت پر غلبہ پانا ممکن نہیں ہے۔لیکن ظاہری نگاہوں سے دکھائی دینے والے ان اسباب کے پیچھے اس سے کہیں بڑا ایک اورسبب ہے جسے صرف اہلِ بصیرت ،اہلِ ایمان ،اللہ پر بھروسہ کرنے والے اور اس کے کافی ہونے پر اعتماد رکھنے والے ہی دیکھ اور سمجھ سکتے ہیں۔اور وہ عظیم سبب ہے : اللہ کی نصرت ومدد اور اس کا اپنے مومن بندوں کو اپنے کافر دشمنوں کے مقابل قوت دینا۔(السعدی: ۱۲۳)
سوال:آیت کو (إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبۡرَةٗ لِّأُوْلِي ٱلۡأَبۡصَٰر) سے ختم کرنے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 14

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ ٱلشَّهَوَٰتِ مِنَ ٱلنِّسَآءِ وَٱلۡبَنِينَ وَٱلۡقَنَٰطِيرِ ٱلۡمُقَنطَرَةِ مِنَ ٱلذَّهَبِ وَٱلۡفِضَّةِ وَٱلۡخَيۡلِ ٱلۡمُسَوَّمَةِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ وَٱلۡحَرۡثِۗ ذَٰلِكَ مَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسۡنُ ٱلۡمَٔابِ ١٤

اس بیان اور موازنہ سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ جنت تبھی مل سکتی ہے جب شہوتو ں کو چھوڑدیا جائے اور نفس کو ان سے روک دیا جائے ۔ (القرطبی: ۵؍۴۳)
سوال: شہوات کے ذکر اور اہلِ جنت کی نعمتوں کے درمیان کیا مناسبت ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 14

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ ٱلشَّهَوَٰتِ مِنَ ٱلنِّسَآءِ وَٱلۡبَنِينَ وَٱلۡقَنَٰطِيرِ ٱلۡمُقَنطَرَةِ

خواہشات کا ذکر کرتے ہوئے عورتوں کو پہلے بیان کیا ۔اس لئے کہ ان کافتنہ بہت خطرناک اور سنگین ہے ۔جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ‘‘مَا تَرَکْتُ بَعْدِیْ فِتْنَۃً أَضَرُّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ’’۔میں نے اپنے بعد مردوں پر عورتوں سے بڑھ کر نقصان پہنچانے والا اورکوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔
ہاں اگر عورتوں سے نکاح کرکے پاکدامنی اور گناہ سے بچنا اور اولاد کا حصول مقصود ہو تو یہ مطلوب چیز ہے،جس کی شریعت میں رغبت دلائی گئی ہے اور اس کی جانب دعوت دی گئی ہے۔ (ابن کثیر:۱؍۳۳۲)
سوال:شہوتوں کی شکلیں بیان کرتے ہوئے عورتوں کے ذکر سے شروعات کیوں کی گئی؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 14

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ ٱلشَّهَوَٰتِ مِنَ ٱلنِّسَآءِ وَٱلۡبَنِينَ وَٱلۡقَنَٰطِيرِ ٱلۡمُقَنطَرَةِ مِنَ ٱلذَّهَبِ وَٱلۡفِضَّةِ وَٱلۡخَيۡلِ ٱلۡمُسَوَّمَةِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ وَٱلۡحَرۡثِۗ ذَٰلِكَ مَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ

خواہشات میں مذکورہ چیزوں کو خاص طور سے ذکر فرمایا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی تمام خواہشوں میں سب سے بڑھ کر یہی چیزیں انسان کو محبوب ہوتی ہیں ۔ان کے علاوہ تمام چاہتیں انہی کے تابع ہوتی ہیں۔ (السعدی: ۱۲۴)
سوال:شہوتوں میں سے صرف مذکوره چیزوں کا خاص طور سے ذکر کیوں کیا گیا؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 15

قُلۡ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيۡرٖ مِّن ذَٰلِكُمۡۖ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَأَزۡوَٰجٞ مُّطَهَّرَةٞ وَرِضۡوَٰنٞ مِّنَ ٱللَّهِۗ

اللہ سبحانہ نے اس آیت کوشروع کیا تو پہلا تذکرہ متقیوں کے ٹھکانے یعنی جنت کا کیا،پھر دوسرا ذکر اس چیز کا کیا جس سے مکمل اُنسیت حاصل ہوتی ہے اور وہ پاکیزہ بیویاں ہیں،پھر تیسرا ذکر اس چیز کا کیا جو بے تاب ومشتاق دل کی روح اور اکسیر اعظم یعنی سب سے بڑی دوا ہے اور وہ ہے اللہ عزوجل کی خوشنودی۔ (الألوسی:۳؍۱۰۱)
سوال:اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے لئے کیابدلہ تیار کررکھا ہے؟