قرآن
ﯜ
ﱒ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ١٢ ١٢ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ
ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ١٣ ١٣ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ١٤ ١٤ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ١٥ ١٥ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ١٦ ١٦ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ١٧ ١٧ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ
ﰈ ١٨ ١٨ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ
ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ١٩ ١٩
إِنَّ ٱللَّهَ يُدۡخِلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ
مسلمان جنت میں داخل ہو کر دنیا کی ساری تکلیفوں ومصیبتوں کو بھول جائیں گے ، جنت کی نعمتوں کے ساتھ قربتِ رب کی نعمت سے سرشار ہوں گے پھر کبھی احزان واحلام میں مبتلا نہ ہوں گے اور ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور کبھی وہاں سے نکلنا نہیں چاہیں گے ، یہ ساری نعمتیں دنیاوی تنگی ومشکلات کو جھیلنے کے عوض میں ملیں گے ، اللہ تعالىٰ نے ان سے محبت اور ان کی عزت افزائی میں اپنی خدمت وعبادت کے لئے انہیں موقع دے دیا ہے اور اپنی قربت ان کے لئے لازم کر دیا ہے ۔(البقاعی: 18؍214)
سوال: مومنوں پر دخولِ جنت کے اثرات کیا ہیں؟
وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَتَمَتَّعُونَ وَيَأۡكُلُونَ كَمَا تَأۡكُلُ ٱلۡأَنۡعَٰمُ وَٱلنَّارُ مَثۡوٗى لَّهُمۡ ١٢
کافرچوپایوں کی طرح دنیا کے مزے لیتے ہیں اپنے کل سے بے خبر ہوکر صرف پیٹ اور جنس کے تقاضوں کے بابت ہی سوچتے ہیں،بولا جاتا ہے کہ مومن دنیا میں توشۂ آخرت جمع کرتا ہے ، اور منافق زیب وزینت اختیار کرتا ہے ، اورکافر لطف اندوزی کرتا ہے ۔ (القرطبی: 2؍257)
سوال:دنیاوی زندگی میں کافر کا محور کیا ہے ؟ اور اس تعلق سے مومن ، منافق اور کافر کے عزائم میں کیا فرق ہے؟
وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَتَمَتَّعُونَ وَيَأۡكُلُونَ كَمَا تَأۡكُلُ ٱلۡأَنۡعَٰمُ وَٱلنَّارُ مَثۡوٗى لَّهُمۡ ١٢
منکرینِ توحید ورسالت اور کفار دنیا کی زیب وزینت ، مال ومتاع اور آرائش وزیبائش سے خوب لطف اندوزی کرتے ہیں وہ بلا علم ومعرفت جو کچھ کھاتے ہیں ان کے کھانے کی مثال چوپایوں کی طرح ہے جنہیں صرف چارہ کھانے اور پیٹ کے تقاضے پورے کرنے کی فکر دامن گیر ہوتی ہے ۔ (الطبری: 22؍164)
سوال: اس دنیا میں کافروں اور چوپایوں کے درمیان وجہ ِشباہت کیا ہے؟
وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَتَمَتَّعُونَ وَيَأۡكُلُونَ كَمَا تَأۡكُلُ ٱلۡأَنۡعَٰمُ وَٱلنَّارُ مَثۡوٗى لَّهُمۡ ١٢
کافر مثل چوپایوں کے کھاتے ہیں یعنی بطور تلذذ وفرحت وانبساط ، جہاں سے ہاتھ آ جائے ، ساتوں آنتوں میں ، پیٹ بھر کے حلال وحرام کی تمیز کئے بغیر ، کیوں کہ اللہ نے انہیں دنیوی نعمتوں سے نوازا ہے ، وسعت وکشادگی دی ہے اور دنیا کے لئے ان کو فارغ کر دیا ہے یہاں تک کہ وہ دنیا میں مصروف ہو گئے اور اللہ سے غافل ہو گئے۔ (البقاعی: 18؍214)
سوال: بعض لوگوں کو دنیاوی نعمتوں سے نوازا جاتا ہے اور ربِ واحد کی عبادتوں سے محروم رکھا جاتاہے، اس میں کیا اشارہ ہے؟
فَٱعۡلَمۡ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢبِكَ وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَكُمۡ وَمَثۡوَىٰكُمۡ ١٩
حضرت ابو موسىٰ اشعری( رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: میں ہر دن سو مرتبہ اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔حضرت عبد اللہ بن عمر( رضی اللہ عنہما )کہتے ہیں : ہم مجلس میں رسول اللہ ﷺ کے توبہ واستغفار کو شمار کیا کرتے تھے ، آپ اس دعا کو سو مرتبہ پڑھا کرتے تھے : “رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ” اے میرے رب ! تو مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول کر ، یقینا تو توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔(الألوسی: 25؍294)
سوال: نبی کریم ﷺ کا قرآن میں تدبر اور اس پر عمل کے تعلق سے ایک مثال بیان کیجئے
فَٱعۡلَمۡ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢبِكَ وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۗ
سفیان بن عیینہ سے روایت ہےکہ ان سے علم کی فضیلت کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے جواب دیا : کیا تو نے ارشادِ باری تعالىٰ نہیں سنا جس کا آغاز علم سے ہوا ہے: (فاعلم أنه لا إله إلا الله واستغفر لذنبك) اور پھر علم کے بعد عمل کا حکم ہوا ہے، فرمایا : ﴿ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا لَعِبٌ...﴾ إلى قوله: ﴿سَابِقُوٓاْ إِلَىٰ مَغۡفِرَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ...﴾ (الحدید:20-21) جان رکھو کہ دنیا کی زندگی کھیل تماشہ ہے اور زینت (وآرائش) اور تمہارے آپس میں فخر (وستائش) اور مال واولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب (وخواہش) ہے (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے بارش کہ (اس سے کھیتی اُگتی اور) کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر (اے دیکھنے والے) تو اس کو دیکھتا ہے کہ (پک کر) زرد پڑ جاتی ہے پھر چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) عذاب شدید اور (مومنوں کے لئے) خدا کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے(20)آو دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف۔ اور فرمایا: ﴿ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَآ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَأَوۡلَٰدُكُمۡ فِتۡنَةٌ﴾ [الأنفال: ٢٨] اور تم اس بات کو جان رکھو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد ایک امتحان کی چیز ہے ۔ پھر فرمایا: (فاحذروهم) [التغابن: ١٤] پس تم ان سے ہوشیار رہنا ، اور فرمایا: ﴿وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا غَنِمۡتُم مِّن شَيۡءٖ...﴾ [الأنفال: ٤١] جان لو کہ تم جس قسم کی جو کچھ غنیمت حاصل کرو ، پھر بعد میں عمل کا حکم ہوا ۔ (القرطبی: 19؍267)
سوال: آیتِ کریمہ علم کے بعد عمل کی فضیلت کیسے بیان کرتی ہے؟ اس کی وضاحت کیجئے.
وَٱسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢبِكَ وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۗ
جب آپ کومومنوں کے لئے استغفار کا حکم ملا ہے ، اور استغفارِ نبوی گناہوں کو مٹانے اور عذابوں کو دور کرنے کا ذریعہ ہے تو امر ِاستغفار کا لازمی تقاضہ یہ ہے کہ آپ مومنوں کو نصیحت فرمائیں ، اپنے لئے جو نیکی وبھلائی پسند کرتے ہیں ان کے لئے بھی کریں اور جو بدی وبرائی اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں ان کے لئے بھی ناپسند کریں ، اورانہیں بھلی باتوں کا حکم دیں اورنقصاندہ باتوں سے منع فرمائیں ، ان کی غلطیوں کو معاف کریں اور عیوب پر پردہ ڈالیں، ان کے دلوں کو جوڑیں اور ان کی صفوں میں اتحاد واجتماعیت پیدا کرنے کی کوشش کریں تاکہ ان کےدلوں سے حسد اورکینہ کپٹ دور ہوجائے جو عداوت و اختلاف اور کثرت ِگناہ کا باعث ہے۔ (السعدی: 787-788)
سوال: مومن مردوں اور عورتوں کے لئے استغفار کے لازمی معانی کیا ہیں؟