قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٢٩ ٢٩


٣٠ ٣٠
ﭿ
٣١ ٣١


٣٢ ٣٢


٣٣ ٣٣


٣٤ ٣٤


ﯿ ٣٥ ٣٥
Surah Header

506
سورۃ الأحقاف آیات 0 - 29

وَإِذۡ صَرَفۡنَآ إِلَيۡكَ نَفَرٗا مِّنَ ٱلۡجِنِّ يَسۡتَمِعُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوٓاْ أَنصِتُواْۖ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوۡاْ إِلَىٰ قَوۡمِهِم مُّنذِرِينَ ٢٩

یعنی جنات نے کہا قرآن کو خاموشی سے بغور سنو ، قرآن کے ساتھ ان کا یہ ادب تھا(ولوا إلى قومهم منذرين) وہ اپنی قوم کو دھمکانے اور آگاہ کرنے کے لئے واپس ان کی طرف چلے، اور انہیں رسول اللہ (ﷺ) کی جانب سے ہرسنی ہوئی باتوں پر آگاہ کیا، جیسے اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي ٱلدِّينِ وَلِيُنذِرُواْ قَوۡمَهُمۡ إِذَا رَجَعُوٓاْ إِلَيۡهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَحۡذَرُونَ﴾ (التوبۃ:122) یعنی وہ دین کی سمجھ حاصل کریں، اور جب واپس اپنی قوم کے پاس پہنچیں تو انہیں بھی ہوشیار کریں، بہت ممکن ہے کہ وہ بچاؤ اختیار کرلیں، اس آیت سے استدلال کیاگیا ہے کہ جنات میں اللہ کی باتوں کو پہنچانے والے اور ڈرسنانے والے ہیں لیکن ان میں رسول نہیں بنائے گئے ہیں، یہ بات بلاشبہ ثابت ہے کہ جنات میں پیغمبر نہیں ہیں۔(ابن کثیر: 4؍172)
سوال: جنوں نے قرآن سنتے وقت کون سا ادب اختیار کیا تھا؟اور کیا جنوں میں سے کوئی رسول ہے؟

سورۃ الأحقاف آیات 0 - 30

قَالُواْ يَٰقَوۡمَنَآ إِنَّا سَمِعۡنَا كِتَٰبًا أُنزِلَ مِنۢ بَعۡدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ

انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اس لئے چھوڑدیا کہ ان پر انجیل کا نزول ہوا تھاجس میں زیادہ تر وعظ اور دل کو نرم کرنے کے بیانات تھے، حرام و حلال کے مسائل بہت کم تھے، یہ کتاب دراصل تورات کو پورا کرنے والی تھی، پس اصل چیز تورات ہی رہی، اسی لئے ان مسلم جنات نے (أنزل من بعد موسى) کہا اور اسی کا ذکر کیا۔ اور اسی بات کو پیش نظر رکھ کر ورقہ بن نوفل نے جس وقت نبی کریم (ﷺ) کی زبانی حضرت جبریل(علیہ السلام) کے اول دفعہ آنے کا حال سنا تو کہا تھا کہ واہ واہ یہ تووہ مبارک رازدار ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیاکرتے تھے۔ (ابن کثیر: 4؍173)
سوال: جنوں نے (أنزل من بعد موسى) نہ کہہ کر (أنزل من بعد عيسى) کیوں کہا؟

سورۃ الأحقاف آیات 30 - 31

مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ يَهۡدِيٓ إِلَى ٱلۡحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٣٠ يَٰقَوۡمَنَآ أَجِيبُواْ دَاعِيَ ٱللَّهِ وَءَامِنُواْ بِهِۦ

مسلم جنات نے قرآن کی تعریف وتوصیف اور اس کا مقام ومرتبہ بیان کیا اور پھر اس پرایمان لانے کی دعوت دی ۔ (السعدی: 783)
سوال: جن کے مرتب کلام میں ایک اہم دعوتی فائدہ ہے اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ الأحقاف آیات 0 - 35

فَٱصۡبِرۡ كَمَا صَبَرَ أُوْلُواْ ٱلۡعَزۡمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَسۡتَعۡجِل لَّهُمۡۚ كَأَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَ مَا يُوعَدُونَ لَمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا سَاعَةٗ مِّن نَّهَارِۢ بَلَٰغٞۚ فَهَلۡ يُهۡلَكُ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ ٣٥

دین میں قابل ستائش عزم وہ ہے جو تزکیہء نفس اور امت کو نیک وصالح بنانے پر مشتمل ہو اور جس کی بنیاد مصائب وشدائد پر صبر کرنا ہے اور جس کا باعث ومحرک تقوىٰ وخشیت الہی ہے اور جس کی غذا محاسبۂ نفس ہے اور اللہ تعالىٰ کے سخت مراقبہ پر ہےتاکہ مومن بندہ اپنے نفس کے محاسبہ میں سستی اور کاہلی سے کام نہ لے۔ارشاد باری تعالىٰ ہے: ﴿وَإِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ﴾ [آل عمران: 186] اور اگر تم صبر کر لو اورپرہیزگاری اختیار کرو تو یقینا یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے ۔( ابن عاشور: 26؍67)
سوال: عزم محمود کی بنیادیں کیا کیا ہیں؟

سورۃ الأحقاف آیات 0 - 35

فَٱصۡبِرۡ كَمَا صَبَرَ أُوْلُواْ ٱلۡعَزۡمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَسۡتَعۡجِل لَّهُمۡۚ

اولوالعزم پیغمبر نوح ، ابراہیم ، موسىٰ ، عیسىٰ ،اور محمدﷺ ہیں ، آپ ﷺ اس کڑی کے پانچویں پیغمبر ہیں اور آپ ﷺ سے پہلے چار اولو العزم پیغمبر ہیں جن کی طرح صبر کرنے کا حکم آپ کو دیا گیا ہے ۔( الشنقیطی:7؍241)
سوال: اولو العزم پیغمبر کون کون ہیں؟

سورۃ الأحقاف آیات 0 - 35

فَٱصۡبِرۡ كَمَا صَبَرَ أُوْلُواْ ٱلۡعَزۡمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَسۡتَعۡجِل لَّهُمۡۚ

جب نہایت عمدہ اخلاق صبر کا حکم ملا تو عجلت اور جلد بازی سے آپ کو روکا گیا تاکہ صبر جو فوز وفلاح اور نصرت کا ضامن ہے ، جیسے عظیم اخلاق پر صحیح طور سے گامزن رہا جائے ، اسی لئے اللہ تعالىٰ نے کہا: (ولا تستعجل لهم) یعنی جلد بازی نہ طلب کیجئے اور نہ جلد بازی میں بے وقت کوئی کام کیجئے جو ان کو برا لگے ۔ (البقاعی: 18؍191)
سوال: آیت میں وضاحت یہ ہے کہ داعی کے اندر دوخوبیوں کو اپنانے سے کمال پیدا ہوگا وہ کیا ہیں؟

سورۃ الأحقاف آیات 0 - 35

كَأَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَ مَا يُوعَدُونَ لَمۡ يَلۡبَثُوٓاْ إِلَّا سَاعَةٗ مِّن نَّهَارِۢ

اس لئے کہ عذاب کی شدت وہولناکی کی وجہ سے وہ دنیا میں گزارے ہوئے ماہ وسال کےمقدار کو بھلا بیٹھیں گے۔ ارشاد باری ہے: ﴿قَٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ عَدَدَ سِنِينَ * قَالُواْ لَبِثۡنَا يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٖ فَسۡـَٔلِ ٱلۡعَآدِّينَ﴾ [المؤمنون: ١١٢ – ١١٣] “اللہ تعالىٰ دریافت فرمائے گا کہ تم زمین میں باعتبار برسوں کی گنتی کے کس قدر رہے ؟ وہ کہیں گے ایک دن یا ایک دن سے بھی کم ، گنتی گننے والوں سے بھی پوچھ لیجئے ”۔( الطبری: 22؍146)
سوال: کافروں کو کیوں لگے گا کہ انہوں نے دنیا میں نہایت ہی مختصر زندگی گزاری؟