قرآن
ﯛ
ﱒ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ٧ ٧ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ٨ ٨ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ٩ ٩ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ١٠ ١٠ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ١١ ١١ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ
ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ
ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ١٢ ١٢ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ
ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ١٣ ١٣
ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ﰙ ﰚ ١٤ ١٤
كَفَىٰ بِهِۦ شَهِيدَۢا بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡۖ وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٨
آخر میں آپ ﷺ كو آپ ﷺ پر لگائےگئے الزام وافتراء پر عفو ودرگزر سے كام لینے كى ترغیب دى گئى ہے۔ بلكہ ان كے ساتھ احسان وبھلائى كا معاملہ كرنے پر ابھارا گیا ہے ، اور اس میں كافروں كیلئے تو بہ كى ترغیب بھى ہے۔ (البقاعى : 18؍132)
سوال: آیت كے اخیر میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی دو صفتوں (الغفور ) و (الرحيم) كا ذكر ہے، ان میں كن باتوں كى طرف اشاره ہے؟
كَفَىٰ بِهِۦ شَهِيدَۢا بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡۖ وَهُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٨
آیت میں انہیں تاكیدى وعید اور سختى سے ڈرایا دھمكایا گیا ہے ، اور الله كا فرمان: (وهو الغفور الرحيم) میں انہیں توبہ وانابت كى ترغیب دى گئى ہے، یعنى گزشتہ تمام كرتوتوں كے باوجود اگر تم الله كى طرف لوٹ آئے اور توبہ كرلی، تو الله تمہارى توبہ قبول كرےگا، تم كو معاف كرےگا، بخش دےگا اور تم پر ر حم كرےگا۔ (ابن كثیر: 4؍157)
سوال: قرآن مجید میں الله تعالىٰ ہمیشہ ترغیب وترہیب كو یكجا بیان كرتاہے، آیت كى روشنى میں اس كى وضاحت كیجئے.
قُلۡ مَا كُنتُ بِدۡعٗا مِّنَ ٱلرُّسُلِ
حرف جر “مِنْ” آغاز وابتداء كیلئے آتا ہے، مطلب یہ ہے كہ میں رسولوں میں پہلا یا انوكھا پیغمبر نہیں ہوں ، بلکہ جس طرح تم نے گزرے ہوئے تمام پیغمبروں کے بارے میں سنا ہے کہ انہوں نے پیغامِ الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا تو میں اسی طرح ہوں تو پھر انہیں میری دعوت پر کیوں تعجب ہورہا ہے۔ یہ آیت ہمارےزمانےكے ان عیسائیوں پر رد كرنے كیلئے مناسب ہے جنہوں نے آپ ﷺكى نبوت پر كچھ ایسے الزام لگائےہیں جن كامقصد صرف اپنے عیسائى بھائیوں كو گمراه كرنا اور دھوكہ میں ركھنا ہے۔ اس لئے كہ طعن وتشنیع كرنے والے اپنى عوام كے تعلق اتنے بھى بیوقوف نہیں ہیں كہ ان پر ان لوگوں كا بہتان مخفى ره جائے۔ (ابن عاشور: 26؍17)
سوال: اس آیت كےذریعہ آپ عیسائیوں پر كیسے رد كریں گے؟
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَوۡ كَانَ خَيۡرٗا مَّا سَبَقُونَآ إِلَيۡهِۚ
ہروه قول وفعل جو صحابہ كرام (رضی اللہ عنہم)سے ثابت نہیں ہے اہل سنت وجماعت كے نزدیك بدعت ہے، اس لئے كہ وه اگر نیكى كا كام ہوتا تو صحابہ اس پر ہم سےپہلے عمل كرچكے ہوتے كیوں كہ انہوں نے عبادت وبھلائى كے ہر كام كو آگے بڑھ كر انجام دیا ہے۔ (ابن كثیر: 4؍159)
سوال: صحابہ كرام كےتعلق سے اہل شرك اور اہل سنت وجماعت كے موقف میں كیا فرق ہے؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسۡتَقَٰمُواْ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ١٣
یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے خلاصۂ علم: توحید اور غایت عمل: استقامت دونوں كو اپنے اندر جمع كر لیا ہے۔ (الألوسى: 25؍240)
سوال: ارشاد بارى : (قالوا ربنا الله ثم استقاموا)كا مقصود كیا ہے ؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسۡتَقَٰمُواْ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ١٣
اس آیت میں اشاره یہ ہے كہ الله كا خوف وہیبت دلوں میں باقى رہے گى اگر انسان اس كے عظمت وجلال ، قہر وغلبہ اور كبریائى وكمال كا تصور كرے، نیز ان صفتوں كو ذہن میں حاضر ركھنے سے خود انسان كےاندر خضوع وتذلیل ، عاجزى وانكسارى ، اور سكون واطمینان اور وقار پیدا ہوگا جو اس كے مقام ومرتبہ اور رفعت وعظمت كو بڑھائےگا۔ بہرحال یہاں اس خوف كى نفى ہے جو انسان كو قلق واضطراب میں مبتلا كردے۔ (البقاعى: 18؍144)
سوال: یہاں كس طرح كے خوف كى نفى كى گئى ہے؟
أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِ خَٰلِدِينَ فِيهَا جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ١٤
بندے كےاندر تقصیر وكوتاہى ہمیشہ پائى جاتى ہے،وه ہمہ وقت الله كے عفو ودرگزر اورمغفرت كے محتاج ہوتےہیں، كوئى بھى اپنے اعمال كى وجہ سے جنت میں نہیں جائےگا، ہر شخص گنہگار ہے اور الله كى بخشش كا محتاج ہے ﴿وَلَوۡ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِمَا كَسَبُواْ مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهۡرِهَا مِن دَآبَّةٍ﴾ [فاطر: 45] “اور اگر الله تعالىٰ لوگوں پر ان كے اعمال كےسبب دار وگیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایك جاندار كو نہ چھوڑتا” اور حدیث : “لَنْ يَّدْخُلَ اَحَدٌ مِّنْكُمُ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهٖ” كوئى جنت میں اپنے عمل كےسبب ہر گز نہ جائےگا۔ اور آیت (جزاء بما كانوا يعملون) میں كوئى ٹكراؤ نہیں ہے۔ عمل جزاء كا سبب ہے لیكن عمل اور جزاء میں كوئى تقابل نہیں ہے، اس لئے گمراه ہے وه شخص جو یہ گمان ركھتاہے كہ اس نے اپنا حق ادا كردیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے عفو ودر گزر اورمغفرت كا محتاج نہیں ہے۔ (ابن تیمیہ : 5؍549)
سوال: حدیث “لَنْ يَّدْخُلَ اَحَدٌ مِّنْكُمُ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهٖ” اور آیت (جزاء بما كانوا يعملون)میں تطبیق كیسے دیں گے؟