قرآن
ﯚ
ﱑ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ٢٣ ٢٣ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ٢٤ ٢٤ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ٢٥ ٢٥ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ٢٦ ٢٦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ٢٧ ٢٧
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ٢٨ ٢٨ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ٢٩ ٢٩ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ
ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ٣٠ ٣٠ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ
ﰋ ٣١ ٣١ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ
ﰗ ﰘ ﰙ ﰚ ﰛ ﰜ ﰝ ﰞ ﰟ ﰠ ﰡ ﰢ ٣٢ ٣٢
أَفَرَءَيۡتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَٰهَهُۥ هَوَىٰهُ وَأَضَلَّهُ ٱللَّهُ عَلَىٰ عِلۡمٖ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمۡعِهِۦ وَقَلۡبِهِۦ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِۦ غِشَٰوَةٗ فَمَن يَهۡدِيهِ مِنۢ بَعۡدِ ٱللَّهِۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٢٣
(اتخذ إلهه هواه) یعنی: اپنی خواہش نفس کی پیروی کی یہاں تک کہ وہ اس کے معبود کی طرح ہوگیا۔ (ابن جزی: 2؍328)
سوال:خواہش نفس اللہ کے سوا معبود کیسے بن سکتا ہے؟
أَفَرَءَيۡتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَٰهَهُۥ هَوَىٰهُ وَأَضَلَّهُ ٱللَّهُ عَلَىٰ عِلۡمٖ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمۡعِهِۦ وَقَلۡبِهِۦ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِۦ غِشَٰوَةٗ فَمَن يَهۡدِيهِ مِنۢ بَعۡدِ ٱللَّهِۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٢٣
اس آیت میں نفسانی خواہشات کی اتباع کی شدید مذمت ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالىٰ نے جب بھی خواہش نفس کا ذکر کیا ہے اس کی مذمت کی ہے۔ اور وہب نے فرمایا: جب تمہیں دو معاملات میں کسی ایک کے زیادہ بہتر ہونے میں شک ہوجائے تو یہ دیکھو کہ دونوں میں کون ساتمہاری خواہش نفس سے دور ہے، اسی کو بجا لاؤ۔ اور سہل تستری نے فرمایا: تمہاری نفسانی خواہش تمہارى بیماری ہے، پس اگر تم نے اس کی مخالفت کی تو وہی تمہاری دوا ہے۔ (الألوسی: 25؍209)
سوال: عقلمند آدمی اپنی خواہشات نفس،اور نفس کے ذریعہ معاصى ومنکرات کی چاہت سے کیسے نمٹتا ہے؟
أَفَرَءَيۡتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَٰهَهُۥ هَوَىٰهُ وَأَضَلَّهُ ٱللَّهُ عَلَىٰ عِلۡمٖ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمۡعِهِۦ وَقَلۡبِهِۦ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِۦ غِشَٰوَةٗ فَمَن يَهۡدِيهِ مِنۢ بَعۡدِ ٱللَّهِۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٢٣
یہ آیت اس بات سے ڈرانے میں ایک اصل اور قاعدہ کی طرح ہے کہ مومنوں کو خواہش نفس ان کے اعمال پر آمادہ کرے، اور وہ حق کے دلائل کی پیروی کریں۔ ہاں اگر کسی کو حق محبوب ہو، تو یہ دلیل کی روشنی میں حق کی محبت کا رنگ چڑھنے اور اسے اپنانے کا نتیجہ ہے، جس طرح کوئی مومن نماز باجماعت، تروایح، اور تلاوت قرآن سے محبت کرتا ہے۔ اور حدیث شریف میں ہے: “اے بلال نماز کے ذریعہ ہمیں راحت وسکون پہنچاؤ” یعنی: نماز قائم کرکے۔ اور رہا نفس کو راضی وخوش کرنے کی خاطر پسندیدہ چیز کی اتباع کرنا، بغیر اس کے اچھا یا برا ہونے پر دھیان دیئے ہوئے، تو یہ گمراہی اور اخلاق کے بگاڑ کا سبب ہے۔ (ابن عاشور: 25؍359)
سوال:اس آیت کریمہ نے خواہش نفس کی پیروی کے باب میں ایک اہم اصول پیش کیا ہے، وہ کیا ہے؟
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ ٱئۡتُواْ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٢٥
اللہ تعالىٰ نے ان کے باپ دادا کو زندہ کرنے کی ان کی فرمائش کو اس امت کی عزت وتکریم میں ٹھکرا دیا ،اس امت کے نبی محمد ﷺ کے مقام ومرتبہ کا لحاظ کرتے ہوئے، کیونکہ ثابت شدہ سنت الہی یہ ہے کہ جب مطلوبہ نشانیاں بھیج کر معاملہ بالکل واضح کر دیا جاتا ہے، پھر بھی کوئی ایمان نہیں لاتا ہے تو اللہ تعالىٰ اسے ہلاک وبرباد کر دیتا ہے، یہی اللہ تعالىٰ نے گزشتہ امتوں کے ساتھ کیا ہے۔ (البقاعی: 7؍106)
سوال: اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے باپ دادا کو زندہ کرنے کے سلسلے میں مشرکین کا مطالبہ ٹھکرادیا اس میں اس امت کی عزت و تکریم ہے اس کی وضاحت کیجئے؟
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ ٱئۡتُواْ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٢٥
زمخشری نے کہا: اگر آپ یہ کہیں کہ مشرکین کى بات کو دلیل اور حجت سے کیوں تعبیر کیا گیا جبکہ وہ دلیل نہیں ہے؟ تو میں جوابا یہ کہوں گا کہ چونکہ انھوں نے اپنی بات کو ایک دلیل پیش کرنے والے کی طرح پیش کیا، اور اسی سیاق میں اس کو لے کر آئے، اس لئے بطور تہکم ، استہزاء اور تحقیر وتوبیخ کے اسے دلیل اور حجت کا نام دیا گیا۔ یا اس لئے کہ وہ ان کے وہم وگمان اور اندازے کے مطابق دلیل ہے۔ یا یہ سمجھ لیں گویا کہا گیا ہو کہ ان کے پاس کوئی دلیل وحجت نہیں تھی سوائے ایسی دلیل وحجت کے جو فی الحقیقت دلیل وحجت ہےہی نہیں۔ اور مقصود اس بات کی نفی کرنا ہے کہ ان کےپاس کوئی دلیل اور حجت ہے۔ (البقاعی: 19؍167)
سوال:اللہ تعالىٰ نے ان کی بات کو دلیل اور حجت کا نام کیوں دیا؟
وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٖ جَاثِيَةٗۚ
خوف اور گھبراہٹ کے عالم میں اپنے گھٹنوں کے بل ہوں گے، اور اللہ جل جلالہ کے حکم کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ (السعدی: 778)
سوال: قیامت کے دن امتیں گھٹنوں کے بل کیوں ہوں گی؟
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِي رَحۡمَتِهِۦۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡمُبِينُ ٣٠
تفصیل بیان کرتے وقت مومنوں کے احوال سے گفتگو شروع کی گئی ہے، جبکہ سیاق باطل پرستوں کے بارے میں گفتگو کا تھا، جیسا کہ اللہ تعالىٰ کے اس قول:(يومئذ يخسر المبطلون) میں ہے، اس سے مقصود مومنوں کی شان بڑھانا، ان کو خوش کرنے والی نیز باطل پرستوں کو تکلیف پہنچانے والی چیز کو جلدی ذکر کرنا ہے۔ (ابن عاشور: 25؍371)
سوال: اللہ تعالىٰ مومنوں کی مختلف طریقوں سے عزت وتکریم کرتا ہے، اس آیت کی روشنی میں ان میں سے ایک ذکر کیجئے؟