قرآن
ﯚ
ﱑ
ﭝ ﭞ ﭟ ٣ ٣ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ٤ ٤ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ٥ ٥ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ٦ ٦ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ٧ ٧ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
٨ ٨ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ٩ ٩ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ١٠ ١٠ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ١١ ١١
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ
ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ١٢ ١٢ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ
ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ١٣ ١٣
تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ ٢
یہاں اللہ تعالىٰ نے (العزيز الحكيم) کی صفتوں کو اپنے دیگر خوبصورت ترین ناموں پر ترجیح دیتے ہوئے ذکر کیا ہے، کیونکہ (العزيز) کی صفت یہ بتلاتی ہے کہ جو کچھ اللہ تعالىٰ نے نازل کیا ہے وہ اسکی عزت وقوت کے مناسب اور لائق وزیبا ہے، جیسا کہ ایک دوسری جگہ اللہ تعالىٰ نے اس کتاب کو (العزيز) کی صفت سے متصف کرتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿إِنَّهُۥ لَكِتَٰبٌ عَزِيزٞ﴾ [فصلت: ٤١]، یعنی: اور بیشک وہ کتاب عزیز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ایسی کتاب ہے جو اپنے مخالفین پر غالب اور ان کو پست کرنے والی ہے، اس لئے کہ اس نے انہیں اپنے ہم مثل لانے سے عاجز کردیا۔ اور (الحكيم) کی صفت یہ پیغام دیتی ہے کہ جو کچھ اللہ تعالىٰ کے پاس سے نازل ہوا ہے وہ اس کی حکمت کے عین مطابق ہے۔ (ابن عاشور: 25؍325)
سوال:یہاں دیگر اسماء حسنىٰ کو چھوڑ کر صرف (العزيز الحكيم) ہی کے ناموں کو ہی کیوں ذکر کیا گیا؟
لَأٓيَٰتٖ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ ٣ ءَايَٰتٞ لِّقَوۡمٖ يُوقِنُونَ ٤ ءَايَٰتٞ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٥
پہلے (لآيات للمؤمنين) کہا، پھر (يوقنون) کہا، پھر (آيات لقوم يعقلون) کہا۔ اور اس میں ایک بہترین اور شریف حالت سے اس سے زیادہ بہترین، اعلى اور شریف حالت کی طرف منتقلی اور ترقی ہے۔ (ابن کثیر: 4؍150)
سوال: مومنین کی صفت بیان کرتے وقت پہلے ایمان، پھر یقین، پھر عقل کو اس ترتیب سے کیوں ذکر کیا؟
إِنَّ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ لَأٓيَٰتٖ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ ٣ وَفِي خَلۡقِكُمۡ وَمَا يَبُثُّ مِن دَآبَّةٍ ءَايَٰتٞ لِّقَوۡمٖ يُوقِنُونَ ٤ وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن رِّزۡقٖ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا وَتَصۡرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ ءَايَٰتٞ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٥
یہاں توحید کے چھ ایسے قوی دلائل ذکر کئے گئے ہیں جو اللہ تعالىٰ کی عظمت وجلال، اس کے کمال قدرت، اور اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ صرف وہی عبادت کے لائق ہے: (۱) آسمان وزمین کو پیدا کرنا،(۲) لوگوں کو پیدا کرنا،(۳) چوپایوں کو پیدا کرنا، (۴)رات ودن کا بدلتے رہنا،(۵) آسمان سے بارش کا نازل کرنا، اور اس سے زمین کو زندہ کرنا،(۶) ہواؤوں کو چلانا۔ (الشنقیطی: 7؍179)
سوال:اس آیتوں میں اللہ تعالىٰ نےچھ ایسے قوی دلائل کا ذکر کیا ہے جو اس کی عظمت وجلالت پر دلالت کرتی ہیں، وہ کیا ہیں؟
وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن رِّزۡقٖ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا
اور جو اللہ تعالىٰ نے ضرورت کے وقت بادلوں سے بارش نازل کی۔ یہاں بارش کو رزق سے تعبیر کیا کیونکہ اس سے رزق کا حصول ہوتا ہے۔ (ابن کثیر: 4؍150)
سوال: اللہ تعالىٰ نے بارش کو رزق کا نام کیوں دیا؟
وَيۡلٞ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٖ ٧ يَسۡمَعُ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسۡتَكۡبِرٗا كَأَن لَّمۡ يَسۡمَعۡهَاۖ فَبَشِّرۡهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٖ ٨
اس صفت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جسے قرآن کی آیتیں -معاصی ومنکرات اور عناد ونافرمانی سے- نہ روک سکیں تو وہ کوئی گناہ اور جھوٹ میں ڈوبا ہوا شخص ہوگا، چنانچہ ایسے شخص کے لئے بربادی اور ہلاکت ہے۔ (البقاعی: 7؍93)
سوال:جو قرآنی ہدایات پر لبیک نہیں کہتا اس کا کیا انجام ہوتا ہے؟
مِّن وَرَآئِهِمۡ جَهَنَّمُۖ وَلَا يُغۡنِي عَنۡهُم مَّا كَسَبُواْ شَيۡـٔٗا وَلَا مَا ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡلِيَآءَۖ
یہاں آگے (قدام) کے لئے،پیچھے (وَرَآء) کی تعبیر استعمال کی گئى ہے، ان کے اعراض وروگردانی کا اعتبار کرتے ہوئے، گویا جہنم ان کے پیچھے ہے۔ (الشوکانی: 5؍5)
سوال: آیت کریمہ نےآگے کے لئے (قدام) اورپیچھے کے لئے (وَرَآء) کی تعبیر کیوں استعمال کی ہے؟
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ١٣
وہ لوگ جو اللہ تعالىٰ کی نشانیوں سے استدلال کرتے ہیں ان کی آخرى صفت ذکر کرتے ہوئے یہاں “تفکر” کے لفظ کو ترجیح دیا گیا ہے، کیونکہ فکر ایمان، یقین اور علم کا سر چشمہ ہے جن کا ذکر آگے اللہ تعالىٰ کے فرمان: (لآيات للمؤمنين)، (آيات لقوم يوقنون)، (آيات لقوم يعقلون) میں گزر چکا ہے۔ (ابن عاشور: 25؍338)
سوال: تفکر -غور وفکر کرنے- کا فائدہ بتایئے؟