قرآن
ﯘ
ﱑ
ﭜ ﭝ ﭞ ٤٨ ٤٨ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ٤٩ ٤٩ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ٥٠ ٥٠ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ٥١ ٥١ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ٥٢ ٥٢ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ٥٣ ٥٣ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ٥٤ ٥٤ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ٥٥ ٥٥ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ٥٦ ٥٦ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ٥٧ ٥٧ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ٥٨ ٥٨ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ٥٩ ٥٩
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ٦٠ ٦٠
وَمَا نُرِيهِم مِّنۡ ءَايَةٍ إِلَّا هِيَ أَكۡبَرُ مِنۡ أُخۡتِهَاۖ وَأَخَذۡنَٰهُم بِٱلۡعَذَابِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ ٤٨
یہاں اللہ تعالىٰ نے ان کی عذاب کے ذریعہ گرفت کرنے کا سبب بتا دیا، کہ اس سے ان کے -اللہ تعالىٰ کی طرف- لوٹنے کی امید ہے۔ (الشوکانی: 4؍559)
سوال: بندوں کو اللہ تعالىٰ کی طرف سے دنیا میں جو عذاب آتا ہے اس میں بھی اللہ تعالىٰ کی رحمت ظاہر وباہر ہوتی ہے، اس آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے؟
وَقَالُواْ يَٰٓأَيُّهَ ٱلسَّاحِرُ ٱدۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ إِنَّنَا لَمُهۡتَدُونَ ٤٩
(يا أيها الساحر) سے یہاں موسىٰ علیہ السلام مقصود ہیں، اور انہوں نے موسىٰ علیہ السلام کواس طرح یا تو بطور تہکم اور تحقیر وتوبیخ کے مخاطب کیا، یا پھر بطور مدح اس طرح مخاطب کیا، چنانچہ وہ عاجزی کے ساتھ موسى علیہ السلام سےاس انداز میں مخاطب ہوئے جس انداز میں وہ ان لوگوں کے ساتھ مخاطب ہوتے ہیں جنہیں اپنے علماء میں شمار کرتے ہیں، اور وہ جادوگر ہیں۔ (السعدی: 767)
سوال:کوئی بھی سوسائٹی علماء اور عبادت گزاروں سے بے نیاز نہیں ہو سکتی، اس آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے؟
وَنَادَىٰ فِرۡعَوۡنُ فِي قَوۡمِهِۦ قَالَ يَٰقَوۡمِ أَلَيۡسَ لِي مُلۡكُ مِصۡرَ وَهَٰذِهِ ٱلۡأَنۡهَٰرُ تَجۡرِي مِن تَحۡتِيٓۚ أَفَلَا تُبۡصِرُونَ ٥١
یہ اس کی انتہائی درجہ کی جہالت کا نمونہ تھی کہ وہ اچھے اوصاف اور عمدہ افعال کے بجائے ان چیزوں پر فخر کر رہا تھا جو اس کی ذات سے الگ اور خارج تھیں۔(السعدی: 767)
سوال: فرعون کا اپنی ذات کی مدح وتعریف کرنے میں بڑی جہالت جھلکتی ہے، اس کی وضاحت کیجئے؟
فَلَوۡلَآ أُلۡقِيَ عَلَيۡهِ أَسۡوِرَةٞ مِّن ذَهَبٍ أَوۡ جَآءَ مَعَهُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ مُقۡتَرِنِينَ ٥٣
یہاں فرعون نے ظاہری شکل کو دیکھا، اور اس معنوی اور باطنی راز کو نہیں سمجھ سکا جو اس سے بھی زیادہ ظاہر وباھر تھا جو اس نے دیکھا تھا، اگر وہ سمجھتا۔ (ابن کثیر: 4؍132)
سوال: فرعون موسىٰ علیہ السلام کو درست اور صحیح نظر سے نہیں دیکھ سکا، اس کی وضاحت کیجئے؟
فَٱسۡتَخَفَّ قَوۡمَهُۥ فَأَطَاعُوهُۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ ٥٤
یعنی: فرعون نے اپنى قبطی قوم کو جاہل اور بے وقوف پایا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ: اس نے ان کو کم عقلی اور جہالت پر آمادہ کیا۔ (البغوی: 4؍103)
سوال: سوسائٹی میں بدعات وگمراہی پھیلنے کا ایک بڑا سبب جہالت بھی ہے، اس کی وضاحت کیجئے؟
فَلَمَّآ ءَاسَفُونَا ٱنتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَأَغۡرَقۡنَٰهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٥٥
عمر بن ذر نے فرمایا: اے اللہ کی نافرمانی کرنے والو!اپنے تئیں اللہ تعالىٰ کے حلم کی وسعت سے دھوکہ نہ کھاؤ، اور اس کے غیض وغضب سے بچو، بیشک اس نے فرمایا ہے: (فلما آسفونا انتقمنا منهم)" (القرطبی: 19؍64)
سوال: دھوکہ کھانے، اور معصیت میں پڑے رہنے، نیز مسلسل سرکشى کرتے رہنے کی سنگینی بیان کیجئے؟
فَجَعَلۡنَٰهُمۡ سَلَفٗا وَمَثَلٗا لِّلۡأٓخِرِينَ ٥٦
چنانچہ ان کی حالت ایسی ہوجاتی ہے کہ کچھ لوگوں کے لئے وہ عبرت وموعظت بن جاتی ہے، جبکہ بعض دیگر لوگوں کے لئے وہی گمراہی کا سبب ہوتی ہے۔ چنانچہ جو یہ فیصلہ کر بیٹھتا ہے کہ انہیں کی طرح رہے، وہ انہیں کی طرح عمل کرتا ہے، اور جو اس چیز سے نجات کی خواہش رکھتا ہے جو ان کو لاحق ہوئی ہے تو وہ ان کے کرتوتوں سے دوری اختیار کرتا اور بچتا ہے۔ (البقاعی: 7؍39)
سوال: کس طرح اللہ تعالىٰ نے ان کے قصوں کو کسی کے لئے باعث عبرت وموعظت تو کسی کے لئے گمراہی کا سبب بنا دیا ہے؟