قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٦ ١٦

١٧ ١٧

ﭿ
١٨ ١٨


١٩ ١٩


٢٠ ٢٠


٢١ ٢١



ﯿ ٢٢ ٢٢
485
سورۃ الشورى آیات 0 - 17

ٱللَّهُ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ وَٱلۡمِيزَانَۗ وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ قَرِيبٞ ١٧

اگر یہ کہا جائے کہ کتاب اللہ اور میزان کے بعد قیامت کا ذکر کیوں آیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ قیامت بدلہ اور حساب کا دن ہے، پس گویا یہ کہا جارہا ہے انصاف سے کام لو اور نیک اور سچے کام کرو، ا س دن سے پہلے جس میں تمہارا محاسبہ کیا جائیگا۔ (ابن جزی: 2؍300)
سوال: کتاب اور میزان کے بعد قیامت کا ذکر کیوں آیا ہے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 18

يَسۡتَعۡجِلُ بِهَا ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِهَاۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مُشۡفِقُونَ مِنۡهَا

یعنی: مومنین قیامت کے دن پر ایمان رکھنے کیوجہ سے اس سے خائف ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس دن اعمال کا بدلہ ملے گا، اور ان کے خوف کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کو جانتے ہیں، اور انھیں یہ ڈر ستا رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اعمال ان کی نجات اور سعادت کے لئے کافی نہ ہوں۔ (السعدی: 756)
سوال: قیامت کے دن سے مومنین کے خوف کی وجہ کیا ہے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 19

ٱللَّهُ لَطِيفُۢ بِعِبَادِهِۦ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُۖ

بندوں پر اللہ تعالىٰ کی مہربانیوں کا ایک نمونہ یہ ہے کہ اللہ تعالىٰ نے بندے کے لئے ایسے اسباب مہیا کردیئے ہیں جو اسے برائی سے روکیں، اور اس کے اور معصیت کے درمیان دیوار بن کر حائل ہو جائیں، چنانچہ جب اللہ تعالىٰ نے یہ جان لیا کہ دنیا، مال اور سیادت وقیادت جیسے امور جن میں اہل دنیا مقابلہ کرتے ہیں، یہ چیزیں بندے کو اس کی اطاعت وفرمانبرداری سے الگ کردیتی ہیں، یا اس کو اللہ تعالىٰ سے غفلت یا اس کی نا فرمانی پر ابھارتی ہیں، تو اللہ تعالىٰ نے بندے سے ان چیزوں کو دور کردیا، اور اس کے رزق کو اس کے لئے مقدر ومہیا کردیا، اسی لئے فرمایا:(يرزق من يشاء)یعنی: جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے۔
سوال: اللہ تعالىٰ نے اپنے بندوں پر مہربانی کے بعد رزق کا ذکر کیوں کیا؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 19

ٱللَّهُ لَطِيفُۢ بِعِبَادِهِۦ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُۖ وَهُوَ ٱلۡقَوِيُّ ٱلۡعَزِيزُ ١٩

(وهو القوي العزيز)کو (لطيف) پر، یا (يرزق من يشاء) کے جملہ پر عطف کیا گیا ہے، یہاں درحقیقت ان دونوں صفتوں کے ذریعہ اللہ تعالىٰ کی بزرگی وبڑائی مقصود ہے۔ اسی طرح ان دونوں صفتوں کا یہاں ذکر اس وہم سے بچاتا ہے کہ اللہ تعالىٰ کی بندوں پر یہ مہربانیاں عاجزی یا تکلف وتصنع کا نتیجہ ہیں، کیونکہ اللہ تعالىٰ قوی اور غالب ہے، نہ تو عاجز ہوتا ہے، نہ اسے تکلف اور تصنع کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اس وہم کو دور کرتی ہیں کہ اللہ تعالىٰ بخل یا قلت کی وجہ سے -سب کے بجائے- صرف انہیں لوگوں کو دیتا ہے جنھیں چاہتا ہے، اس لئے کہ وہ قوی اور طاقت ور ہے، اور قوی و طاقت ور ذات سے بخل کے اسباب دور ہوتے ہیں، اسی طرح غالب ذات سے فقر کے اسباب دور ہوتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالىٰ کا- جسے چاہے اور جتنا چاہے- روزی دینا اس کے اس حکمت کی بنا پر ہے جسے وہ اپنی مخلوقات کے عمومی اور خصوصی حالات کے تئیں جانتا ہے۔ (ابن عاشور: 25؍73)
سوال: (وهو القوي العزيز)کو (لطيف) پر عطف کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 19

ٱللَّهُ لَطِيفُۢ بِعِبَادِهِۦ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُۖ وَهُوَ ٱلۡقَوِيُّ ٱلۡعَزِيزُ ١٩

محمد بن علی الکتانی نے فرمایا: لطیف وہ ذات ہے جس کے پاس اس کے بندے اس وقت پناہ لیں جب وہ مخلوقات سے مایوس ہو جائیں، اور جس پر بندے بھروسہ کریں، اور اس کی طرف رجوع کریں، تو اس وقت وہ ذات ان کو قبول کرتی ہے، اور ان کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔
اور یہ بھی کہا گیاہے کہ: لطیف وہ ہے جو بندوں کی اچھائیوں کو پھیلاتا اور ان کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ: لطیف وہ ہے جو تھوڑی سى چیز کو قبول کرتا ہے، اور بدلہ میں بڑی چیزیں عطا کرتا ہے۔
اسی طرح یہ بھی کہا گیا کہ: لطیف وہ ہے جو ٹوٹے ہوئے شخص کی دل جوئی کرتا ہے، اور تنگ دست کے لئے آسانی فراہم کرتا ہے۔
نیز کہا گیا کہ: لطیف وہ ہے جو اپنی نافرمانی کرنے والے کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا، اور اس سے امید رکھنے والے کو مایوس نہیں کرتا۔
اسی طرح کہا گیا کہ: لطیف وہ ہے جو اپنے سائل کو نامراد نہیں لوٹاتا، اور اس سے امید رکھنے والے کی آرزو پوری کرتا ہے۔
اسی طرح کہا گیا کہ: لطیف وہ ہے جو غلطی کرنے والے سے در گزر کرتا ہے۔
اسی طرح کہا گیا کہ: لطیف وہ ہے جو اس شخص پر بھی رحم کرتا ہےجو خود پر رحم نہیں کرتا۔ (القرطبی: 18؍459-461)
سوال: اللہ تعالىٰ کی اپنے بندوں پر مہربانیوں کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 20

مَن كَانَ يُرِيدُ حَرۡثَ ٱلۡأٓخِرَةِ نَزِدۡ لَهُۥ فِي حَرۡثِهِۦۖ

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ہمارى عطا کردہ چیزوں کے ذریعہ آخرت کا طلبگار ہوتا ہے، چنانچہ وہ اللہ تعالىٰ کے حقوق کو ادا کرتا ہے، اور دین کو مضبوط کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے، تو ہم اسے ایک کا اجر وثواب دس (10) سے سات سو (700) گنا تک دیتے ہیں۔ (القرطبی: 18؍461)
سوال: کھیتی میں زیادتی کا کیا مطلب ہے؟

سورۃ الشورى آیات 0 - 22

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فِي رَوۡضَاتِ ٱلۡجَنَّاتِۖ لَهُم مَّا يَشَآءُونَ عِندَ رَبِّهِمۡۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡكَبِيرُ ٢٢

یہاں ایک باریکی یہ بھی ہے کہ آیت کریمہ میں باتیں اسی ترتیب سے آئی ہیں جس ترتیب سے وہ عملا ہمارے یہاں واقع ہوتی ہیں، چنانچہ جب کوئی مہمان یا زائر آتا ہے تو اسےسب سے پہلے عزت واکرام کی جگہ بیٹھایا جاتا ہے، پھر اس کی ضیافت کی جاتی ہے اور اس کو کھانا وغیرہ پیش کیا جاتا ہے، پھر گھر کا مالک اس سے قربت بڑھاتا اور اس کے ساتھ گھلنے ملنے لگتا ہے۔ (ابن عاشور 25؍79)
سوال:اس آیت کریمہ کے اندر جنت میں مومنین کے لئے اکرام وتکریم کےتین مراتب ذکر کئے گئے ہیں، ان کی وضاحت کیجئے؟