قرآن
ﯖ
ﱑ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ٤٧ ٤٧ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ٤٨ ٤٨
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ٤٩ ٤٩ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ٥٠ ٥٠ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
٥١ ٥١ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ٥٢ ٥٢ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ٥٣ ٥٣ ﰃ ﰄ
ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ٥٤ ٥٤
لَّا يَسۡـَٔمُ ٱلۡإِنسَٰنُ مِن دُعَآءِ ٱلۡخَيۡرِ وَإِن مَّسَّهُ ٱلشَّرُّ فَيَـُٔوسٞ قَنُوطٞ ٤٩
خیر اور شر سے قطع نظر یہ انسان کی اپنی طبیعت اور اسکی ذات کے بارے میں خبر د ی گئی ہے، گویا انسان ایسے ہی واقع ہوا ہے، ہاں وہ شخص اس سے مستثنى ہے جسے اللہ تعالىٰ -نقص وکمزوری کی- اس حالت سے کمال کی حالت تک پہنچا دے۔ (السعدی : 752)
سوال: آپ اپنے جسم و دل دونوں اعتبار سے کمزور ہیں، اسے اس آیت کی روشنی میں واضح کیجئے، نیز اس کے علاج کا طریقہ بھی بتایئے؟
لَّا يَسۡـَٔمُ ٱلۡإِنسَٰنُ مِن دُعَآءِ ٱلۡخَيۡرِ وَإِن مَّسَّهُ ٱلشَّرُّ فَيَـُٔوسٞ قَنُوطٞ ٤٩ وَلَئِنۡ أَذَقۡنَٰهُ رَحۡمَةٗ مِّنَّا مِنۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُ لَيَقُولَنَّ هَٰذَا لِي وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآئِمَةٗ وَلَئِن رُّجِعۡتُ إِلَىٰ رَبِّيٓ إِنَّ لِي عِندَهُۥ لَلۡحُسۡنَىٰۚ
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو قبیح ترین صفتوں سے متصف کیا ہے۔
اگر اُسے مصیبت پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے، اور مایوسی کے مارے سکتے میں چلاجاتا ہے۔ اور جب اسے نعمت ملتی ہے تو وہ بھول جاتا ہے کہ اللہ ہی اس پر انعام کرنے والا اور اپنی نوازشوں سے اسے نوازنے والا ہے۔ پھر وہ اکڑنے لگتا ہے اور یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ وہ اس نعمت کا حق دار تھا۔
اس پر مستزاد یہ کہ مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کو جھٹلانے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ (وما أظن الساعة قائمة)“میں نہیں سمجھتا کہ قیامت آئے گی” پھر جھٹلانے کے ساتھ مزید جھوٹا گمان یہ رکھتا ہے کہ اگر اسے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا بھی گیا تو اس کے لئے اللہ کے نزدیک بہتری ہے۔ سو اس نے جہالت اور غرور کے لئے کوئی جگہ نہیں چھوڑی (یعنی جہالت اور غرور کی انتہا کو پہنچ گیا)۔ (ابن القیم: 2؍420)
سوال: وہ دو قبیح ترین صفتیں کیا ہیں جن سے انسان مصیبت آتے وقت اور نعمت ملتے وقت متصف ہوتا ہے؟
وَإِذَآ أَنۡعَمۡنَا عَلَى ٱلۡإِنسَٰنِ أَعۡرَضَ وَنَـَٔا بِجَانِبِهِۦ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ فَذُو دُعَآءٍ عَرِيضٍ ٥١
(فذو دعاء عريض) یعنی: بہت زیادہ، اس کے بے صبره ہونے کی وجہ سے، چنانچہ عموما انسان نہ تو پریشانیوں میں صبر کرتا ہے، اور نہ ہی آسائشوں میں شکر ادا کرتا ہے، سوائے اس کے جسے اللہ تعالىٰ ہدایت سے نواز دے، اور اس پر اپنا فضل واحسان کردے۔ (السعدی: 752)
سوال: مومن کو آسائشوں یا پریشانیوں میں کس حال میں رہنا واجب ہے؟
وَإِذَآ أَنۡعَمۡنَا عَلَى ٱلۡإِنسَٰنِ أَعۡرَضَ وَنَـَٔا بِجَانِبِهِۦ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ فَذُو دُعَآءٍ عَرِيضٍ ٥١
اللہ تعالىٰ کے ساتھ ادب سکھلانے کی غرض سے، شر کی نسبت اللہ تعالىٰ کی طرف نہیں کی، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا:﴿ٱلَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهۡدِينِ...﴾[الشعراء: ٧٨] ،یعنى: جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی مجھے ہدایت دیگا، پھر کہا ﴿وَإِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِينِ﴾ [الشعراء: 80]،یعنی: اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے، چنانچہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ: “وَإِذَا أَمْرَضَنِىْ” یعنی: جب وہ مجھے بیمار کرتا ہے’’۔ ابراہیم علیہ السلام کے اس طرح کہنے میں یہ راز اور حکمت پوشیدہ ہے کہ:نعمتیں اور بھلائیاں اپنی خلقت کے اعتبار سے انسان کے لئے مسخر ہیں، اور اس کی ذات پر غالب، اور اس کی بیشتر زندگی میں ساتھ ہوتی ہیں،کیوں کہ ان میں نوع انسانی کے بقا کا راز مضمر ہے۔
اور رہی برائیاں اور اس کے نقصانات تو عموماً یہ انسان کے غلط تصرف، اور شریعتوں نیز الہام شدہ حکماء کى طرف سے خبردار کردہ اور منع کی ہوئی چیزوں کے ارتکاب کی وجہ سے اس تک پہنچتے ہیں۔ چنانچہ عموما انسان اپنی جرأت بیجاکی وجہ سے جانتے بوجھتے ہوئے ان کا شکار ہوجاتا ہے۔(ابن عاشور: 25؍15)
سوال: آیت کریمہ نے شر پہنچنے کی نسبت اللہ تعالىٰ کی طرف کیوں نہیں کى؟ نیز عموما شر انسان تک کیسے پہنچتا ہے؟
سَنُرِيهِمۡ ءَايَٰتِنَا فِي ٱلۡأٓفَاقِ وَفِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّ
یعنی یقیناً قرآن حق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ضرور بالضرور انہیں (آفاق میں پھیلی ہوئی) مشاہدہ میں آنے والی آیات (یعنی نشانیاں) دکھائے گا جو ان کے لئے اس بات کو عیاں کریں گی کہ اللہ کی تلاوت کی جانے والی آیات (یعنی قرآن) حق ہیں۔
(مطلب یہ ہے کہ کائنات میں پھیلی ہوئی نشانیاں قرآن کی حقانیت کے دلائل ہیں)۔ (ابن القیم: 2؍420)
سوال: کائنات اور نفس کے اندر موجود اللہ کی نشانیاں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قرآن حق ہے، آیت کی روشنی میں اسے واضح کریں؟
سَنُرِيهِمۡ ءَايَٰتِنَا فِي ٱلۡأٓفَاقِ وَفِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّ
اس آیت میں اخبار عن الغیب -غیب کے بارے میں خبر دینے- کی شکل میں ایک معجزے کا بھی ذکر ہے، چنانچہ اس آیت نے اس وعدے کی خبر دی ہے جو اللہ تعالىٰ کی طرف سے آپ ﷺ اور آپ کے دین کی مدد کے تئیں کیا گیا ہے۔ اور یہ اس طرح سے حاصل ہوا کہ اللہ تعالىٰ نے آپ ﷺ اور آپ کے خلفاء کے لئےمشرق ومغرب میں عموما اور عرب میں خصوصا فتوحات کو آسان کیا، اور امتوں کو ان کے ذریعہ مسخر اور تابع کیا، اس طرح دیگر بادشاہوں ، رومی نیز ایرانی شہنشاہوں کے ساتھ کبھی نہیں ہوا، جبکہ مسلمان عدد کے اعتبار سے بہت تھوڑے تھے۔ (ابن عاشور: 25؍18)
سوال: اس آیت میں ایک غیبی معجزہ ہے، اس کی وضاحت کرو؟
أَلَآ إِنَّهُمۡ فِي فِي مِرۡيَةٖ مِّن لِّقَآءِ رَبِّهِمۡۗ
عمر بن عبد العزیز -رحمہ اللہ- ایک دن منبر پر چڑھے، اللہ تعالىٰ کی حمد وثناء بیان کی، پھر کہا: " اما بعد: اے لوگو! میں نے تمہیں کسی نئی چیز کے لئے نہیں جمع کیا ہے، البتہ میں نے اس چیز کے بارے میں سوچا جس کى طرف تم جانے والے ہو، چنانچہ میں نے یہ جانا کہ اس -قیامت کے دن- کی تصدیق کرنے والا احمق، اور اس کی تکذیب کرنے والا ہلاک وبرباد ہونے والا ہے"۔ یہ کہہ کر آپ منبر سے اتر گئے۔
یہاں آپ نے اس -قیامت-کی تصدیق کرنے والے کو احمق اس لئے کہا، کیونکہ وہ اس کے مطابق عمل نہیں کرتا، اس سے ڈرتا نہیں ہے، اس کی ہولناکی سے خوف نہیں کھاتا ہے، حالانکہ وہ اس کی تصدیق کرتا ہے، اس کے واقع ہونے پر یقین رکھتا ہے، پھر بھی وہ اپنے لہو ولعب اور غفلت وسرکشى میں ڈوبا رہتا ہے۔ چنانچہ وہ اس اعتبار سے احمق ہے۔ اور احمق عربی زبان میں کم عقل کو کہتے ہیں۔ (ابن کثیر: 4؍107)
سوال: جو لوگ قیامت کے دن کو مانتے ہیں ان کی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ بھی اس کے تئیں شک وشبہ میں مبتلا ہیں، اس کی وضاحت کیجئے؟