قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٣٩ ٣٩

ﭿ
٤٠ ٤٠

٤١ ٤١

٤٢ ٤٢


٤٣ ٤٣



٤٤ ٤٤

ﯿ
٤٥ ٤٥

٤٦ ٤٦
481
سورۃ فصلت آیات 0 - 40

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُلۡحِدُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا لَا يَخۡفَوۡنَ عَلَيۡنَآۗ

اس میں سخت وعید اورزبردست ڈانٹ پھٹكار ہے، یعنى الله تعالىٰ اسے اچھى طرح جانتا ہے جو اسكى آیتوں، اسكے اسماء وصفات میں الحاد كرتےہیں اور ان سے اعراض و انحراف کرتے ہیں، اور وه عنقریب اس كى وجہ سے انہیں عذاب وسزا سے دوچار كرےگا۔ (ابن كثیر: 4؍104)
سوال: ان ملحدین كےبارے میں الله نے جو یہ خبر دى كہ وه اس سے اوجھل نہیں ہیں ، اس سے كیا مراد ہے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 41

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِٱلذِّكۡرِ لَمَّا جَآءَهُمۡۖ وَإِنَّهُۥ لَكِتَٰبٌ عَزِيزٞ ٤١

الله تعالىٰ نے كتاب كو عزت كے وصف سے یاد كیا ہے؛ كیونكہ یہ اپنے معانى كى صحت كےاعتبار سے طعن وتشنیع ، اور كسى بھى معارضے سے محفوظ ہےاور اس کی حفاظت الله کے ذمے ہے۔ (ابن عطیہ: 5؍19)
سوال: الله تعالىٰ نے كتاب كو عزت كے وصف سے یاد كیا ہے، اس كا فائده واضح كریں.

سورۃ فصلت آیات 0 - 43

مَّا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدۡ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبۡلِكَۚ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغۡفِرَةٖ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٖ ٤٣

سزا كو یہاں دوسرے كسى وصف كو چھوڑ كر (أليم) یعنى دردناك سے متصف كیا ؛ اس بات كى طرف اشاره كرنے كیلئے كہ انہیں جس گناہ کی سزا دی گئی ہے ان کے لئے یہی وصف مناسب ہے ؛كیونكہ انہوں نے نبى كریم ﷺكى ذات كو تكلیف دى ہے آپ كى نافرمانى كركے اور آپكو مختلف طرح سے ستا كر۔ (ابن عاشور: 4؍311)
سوال: آیت كریمہ میں (عِقَاب)سزا كیلئے(أليم) دردناك كى صفت كیوں لائى گئى ہے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 43

إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغۡفِرَةٖ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٖ ٤٣

اگر الله كى معافى اور اسكا درگزر كرنا نہ ہوتا تو كوئى بھى سكون كى زندگى نہ جى پاتا ، اور اگر اس كى طرف سے وعید اور سزا نہ ہوتى تو ہر كوئى اللہ کی معافی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جاتا۔ (ابن كثیر: 4؍104)
سوال: بہت سارى آیتوں میں ایك ہى ساتھ مغفرت اور سزا كا ذكر كیوں كیا گیا ہے جیسے كہ اس آیت میں بھی وہی اسلوب ہے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 44

قُلۡ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدٗى وَشِفَآءٞۚ

الله تعالىٰ نے باخبر كیا كہ قرآن شك وشبہ اور تكلیفوں سے ہر اس شخص كیلئے ہدایت اور شفا ہے جو اس پر ایمان لائے۔(القرطبى: 18؍431)
سوال: قرآن كى ہدایت اور اسكى شفا سے كون فائده اٹھا سكتاہے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 44

وَٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ فِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٞ وَهُوَ عَلَيۡهِمۡ عَمًىۚ أُوْلَٰٓئِكَ يُنَادَوۡنَ مِن مَّكَانِۢ بَعِيدٖ ٤٤

یعنى وه (جو ایمان نہیں لاتے) نہ سنتےہیں اور نہ سمجھتےہیں، جس طرح كہ دور سے پكارا جانے والا نہ تو سنتا ہے اور نہ ہى كچھ سمجھ پاتاہے، یہ مثال ہے ان لوگوں كى جو وعظ ونصیحت سننے كے باوجود بھى اس سے كچھ فائده نہیں اٹھاتےہیں ، گویا كہ انہیں كسى دور جگہ سے پكارا جارہاہوجہاں سے انہیں سنائی نہیں دے رہا ہو۔ (البغوى: 4؍70)
سوال: اس مثال (انہیں دور جگہ سے پكارا جا رہا ہے) سے قرآن كا كیا مقصد ہے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 45

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَٱخۡتُلِفَ فِيهِۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ ٤٥

الله فرمارہاہے كہ ان میں جو فریق باطل پر ہے وه اپنى كہى ہوئى باتوں میں(لَفِيْ شَكٍّ) شك وشبہے میں ہے، یعنی وه خود اپنى باتوں میں شك كررہےہیں (مُرِيْبٍ) اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کتاب کے سلسلہ میں ان کی کہی ہوئی باتیں انہیں (یعنی خود ان کو یا غیروں کو) شک و شبہ میں ڈال رہی ہیں کیونکہ انہوں نے بغیر تحقیق و ثبوت كےاور گمان كى بنیاد پر باتیں كہى ہیں۔(الطبرى: 21؍487)
سوال: قرآن كریم كےتعلق سے كافر جو بات كہتےہیں انہیں اس پر یقین كیوں نہیں ہوتا؟