قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﯖ

ﱐ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ٢١ ٢١

ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
٢٢ ٢٢
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ٢٣ ٢٣
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ٢٤ ٢٤
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ٢٥ ٢٥

ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ٢٦ ٢٦
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ٢٧ ٢٧
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ
٢٨ ٢٨
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ
ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ٢٩ ٢٩
479
سورۃ فصلت آیات 0 - 22

وَمَا كُنتُمۡ تَسۡتَتِرُونَ أَن يَشۡهَدَ عَلَيۡكُمۡ سَمۡعُكُمۡ وَلَآ أَبۡصَٰرُكُمۡ وَلَا جُلُودُكُمۡ

اس کے دو مفہوم ہے: پہلا مفہوم: تم اپنے كانوں، اپنى نگاہوں اور اپنى جلد وں سےاپنی بد اعمالیوں کو نہیں چھپا سكتے تھے؛ كیونكہ یہ سب تمہارےساتھ ہمیشہ رہنے والے تھے، ان سےبچنے كا كوئى راستہ نہیں تھا، لہٰذا اب وه اعضا تمہارے خلاف گواہى دے رہے ہیں۔ دوسرا مفہوم: تمہیں اس بات كا كوئى خوف نہیں تھا كہ تمہارےكان، تمہارى نگاہیں اور تمہارے جلد تمہارے خلاف گواہى دیں گے ؛ كیونكہ تم نے ان كى گواہى كى كوئى پرواه نہیں كى اور نہ ہى تمہیں یہ گمان تھا كہ یہ سب تمہارےخلاف گواہى دیں گے۔(ابن جزى: 2؍291)
سوال: فرمان بارى: (تَسْتَتِرُوْنَ) سے كیا مراد ہے؟ اور اس آیت سے كیا فائده ملتا ہے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 23

وَذَٰلِكُمۡ ظَنُّكُمُ ٱلَّذِي ظَنَنتُم بِرَبِّكُمۡ أَرۡدَىٰكُمۡ فَأَصۡبَحۡتُم مِّنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٢٣

حسن بصرى نےكہا: كچھ لوگوں كو آرزؤں نے غافل كردیا یہاں تك كہ جب وه دنیا سے گئے تو ان كےپاس كوئى نیكى نہیں تھى، اور انہیں میں سے ایك كہتا ہے: میں اپنے رب كے ساتھ حسن ظن ركھتا ہوں حالانكہ وه جھوٹ بولتا ہے ، اگر وه حسنِ ظن ركھتا تو نیك عمل كرتا۔ (القرطبى: 18؍409- 410)
سوال: واضح كریں كہ كب الله كےساتھ حسن ظن ركھنا بے محل ہوتا ہے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 25

۞وَقَيَّضۡنَا لَهُمۡ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُواْ لَهُم مَّا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ

یعنى ہم نے ان كے لئے شیاطین تیار كرركھےہیں ۔ اور كہاگیا: ہم نے ان پر ایسے ساتھى مسلط كر ركھےہیں جو گناہوں كو ان كیلئے مزین كركےپیش كرتےہیں، اور یہ ساتھى جن وشیاطین اور انسانوں میں سے بھى ہوتےہیں۔ (القرطبى: 18؍411)
سوال: آیت میں بندے كےساتھ برائى كےارادے كى کونسی ایک علامت ہے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 26

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَا تَسۡمَعُواْ لِهَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ وَٱلۡغَوۡاْ فِيهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُونَ ٢٦

یہى گمراه داعیوں اور باطل پرستوں كا وطیره رہاہے كہ وه حق بولنے والوں اور دلائل سے بات كرنے والوں كا ناطقہ ہر ممكن طریقے سے بند كرنے كى كوشش كرتےہیں ، اور اس كیلئے وه ترغیب وترہیب اور لالچ وخوف ہر حربہ اپناتے ہیں، اور لوگوں كو یہ موقع ہى نہیں دیتے كہ حجت ودلیل كى روشنى میں بحث ومباحثہ كریں اور دلیلِ حق کی طرف رجوع کریں، كیونكہ انہیں پتہ ہوتاہے كہ مد مقابل كى حجت بڑى مضبوط ہے، اسى لئے وه اس پر پرده ڈالنے كى كوشش كرتےہیں اور بہتان وگمراہى كے ذریعے اپنا دفاع كرتےہیں، لیكن جب ان كى مكاریاں اور حیلہ سازیاں جواب دینے لگتى ہیں اور دیكھنے لگتےہیں كہ حق كا ڈنكا لوگوں میں بجنے لگا ہے، تو پھر گالى گلوج اور بیہودگى پر اتر آتےہیں اور شوروشغب كا بھونپو ہاتھ میں تھام لیتےہیں۔(ابن عاشور: 24؍277)
سوال: آیت كى روشنى میں حق كو روكنے میں اہل ضلالت كى ایك صفت واضح كریں.

سورۃ فصلت آیات 0 - 26

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَا تَسۡمَعُواْ لِهَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ وَٱلۡغَوۡاْ فِيهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُونَ ٢٦

یہ گواہى ہے خود دشمنوں كى طرف سے ، اور سب سے واضح حق وہى ہے جس كى گواہى خود دشمن دیدے، كیونكہ حق كے مقابلے میں وه اپنے لئے غلبہ كا فیصلہ اسى وقت كررہےہیں جب وه اس حق سے اعراض کریں اور لوگوں كو اس سے موڑنے میں كامیاب ہوجائیں، اور ان كے کلام کا مفہوم مخالف یہ ہے كہ اگر وه تلاوت کلام پاک کے وقت شور و شغب نہ كریں بلکہ اسے بغور سننے لگیں اور اپنے اذہان وقلوب كو اس كى طرف لگا دیں تو ایسى صورت میں وه كبھى غالب نہیں ہوسكتے۔ (748)
سوال: آیت میں كافروں كى جانب سے قرآن کے برحق ہونے کی ایک گواہى موجود ہے، اسکی وجہ بیان کیجئے؟

سورۃ فصلت آیات 0 - 26

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَا تَسۡمَعُواْ لِهَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ وَٱلۡغَوۡاْ فِيهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُونَ ٢٦

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس میں شور و شغب پیدا کرو۔ اور وه لوگ ایك دوسرے كو وصیت كرتےتھےكہ جب تم محمد ﷺكو قرآن كى تلاوت كرتے دیكھو تو اسكا معارضہ اور سامنا رجزیہ اشعار ، شعر و شاعری اور لغو باتوں سے كرو ۔ امام مجاہد نے كہا: تالى اور سیٹى كےذریعے شور مچاؤ۔ اور ضحاك نے كہا: زیاده بولو كہ ان كى بات خلط ملط ہوجائے۔ (القرطبى: 4؍65)
سوال: ذكر ونصیحت سے فائده اٹھانے سے اہل فساد لوگوں كو روكنے كیلئے كیسے كیسے حربے استعمال كرتےہیں؟ آیت كى روشنى میں ان کے بعض اسالیب بیان كریں.

سورۃ فصلت آیات 0 - 29

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ رَبَّنَآ أَرِنَا ٱلَّذَيۡنِ أَضَلَّانَا مِنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ أَقۡدَامِنَا لِيَكُونَا مِنَ ٱلۡأَسۡفَلِينَ ٢٩

پھر الله تعالىٰ نے كافروں كى ان باتوں كا ذكر كیا جنہیں وه قیامت كےدن دوزخ میں جانے كےوقت كہیں گے، کیونکہ جب وه عظیم عذاب كى ہولناكى اور برے ٹھکانے كا مشاہده كریں گے تو انہیں ان لوگوں كى یاد آئےگى جنہوں نے انہیں دنیا میں گمراه كیا تھا، پھر ان پر وه شدید غصہ ہوں گے اور خواہش كریں گے كہ وه بھى سخت سے سخت عذاب میں مبتلا ہوں ، لہذاوه كہیں گے: (ربنا أرنا اللذين أضلانا). (ابن عطیہ: 5؍14)
سوال: دوزخى ایسا كہنے پر مجبور كیوں ہوں گے كہ وه طلب كرنے لگیں گے كہ انسانوں اور جناتوں میں سے جن لوگوں نے انہیں گمراه كیا تھا وه آج انكے پیروں تلےہوجائیں؟