قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے




٧٨ ٧٨

٧٩ ٧٩
ﭿ

٨٠ ٨٠

٨١ ٨١



٨٢ ٨٢

٨٣ ٨٣


٨٤ ٨٤

٨٥ ٨٥
476
سورۃ غافر آیات 0 - 80

وَلَكُمۡ فِيهَا مَنَٰفِعُ وَلِتَبۡلُغُواْ عَلَيۡهَا حَاجَةٗ فِي صُدُورِكُمۡ وَعَلَيۡهَا وَعَلَى ٱلۡفُلۡكِ تُحۡمَلُونَ ٨٠

اس آیت میں منافع سے مراد وه فوائد ہیں جو جانوروں کے گوشت كے کھانے کے مقابلے میں حاصل ہوتے ہیں گوشت کھانے کا ذکر اس آیت میں ہے:(ومنها تأكلون)گوشت کھانے کے علاوہ دیگر فوائد میں سےجیسے اس کے اون، دودھ اور قیمت سے فائده اٹھانا، مہروں اور دیتوں میں انہیں عوض كےطور پر استعمال كرنا، انكے چمڑوں سے قبہ وغیره بناكر ان سے فائده اٹھانا، ان پر بیٹھنا اور اسى طرح باڑوں، وادیوں، چشموں اور چراگاہوں میں ان كے آتے جاتے دلکش و خوبصورت منظر سے فائدہ اٹھانا وغیرہ۔ (ابن عاشور: 24؍215- 216)
سوال: فرمان بارى:(ولكم فيها منافع)كے تحت مویشیوں کے بعض منافع كا ذكر كریں.

سورۃ غافر آیات 0 - 82

أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ

(فينظروا) یعنى غور وفكر كى نظر سے دیكھو، نہ كہ غفلت اور بے پرواہى كى نگاہ سے ۔ (السعدى: 744)
سوال: جن قوموں کو الله تعالىٰ نے ہلاک کردیا، ان کے کھنڈرات سے گزرنا کب مفید ہے اور كب نقصاندہ؟

سورۃ غافر آیات 0 - 83

فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَرِحُواْ بِمَا عِندَهُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ

یہ ان تمام علوم کو شامل ہے جن سے رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات كا معارضہ ومناقضہ كیا گیا، بطور خاص ان میں علم فلسفہ ، اور یونانى منطق شامل ہے جس کے ذریعے بہت سى قرآنى آیات كو رد كیا گیا، دلوں سے ان کا احترام كم كیا گیا، اور قرآن كى یقینى قطعى دلیلوں كو محض لفظی اور یقین سے عاری باور کرایا گیا ، اور قرآنی ٹھوس دلیلوں پر اہل ِباطل كے عقول كو مقدم كیا گیا، اور یہ چیز یقیناً الله كى آیات میں سب سے بڑا الحاد، اور سب سے سنگین معارضہ ہے۔ (السعدى: 744)
سوال: بعض علوم مذموم كب ہوجاتےہیں؟ آیت كى روشنى میں اس پر گفتگو كریں.

سورۃ غافر آیات 0 - 83

فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَرِحُواْ بِمَا عِندَهُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ

یہاں ضمیر جھٹلانے والى قوموں كى طرف لوٹےگى، اور ان كے علم كى تفسیر کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہے: پہلى وجہ: ان كا یہ عقیده تھا كہ وه دوباره اٹھائے نہیں جائیں گے او ر انكا حساب وكتاب نہیں ہوگا۔ دوسرى وجہ: اس سے دنیاوى مفادو منافع کا علم اور دنیا کمانے كے مختلف ذرائع كا علم مراد ہے۔ تیسرى وجہ: ان فلاسفہ كا علم مراد ہے جو علوم شریعت كو حقیر سمجھتےتھے۔ (ابن جزى: 2؍286)
سوال: اس آیت سے پتہ چلتا ہے كہ بعض علوم ایسے بھى ہوتےہیں جو صاحب علم كے لئے وبال جان بن جاتےہیں، اس كى مثالیں ذكر كیجئے.

سورۃ غافر آیات 0 - 83

فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَرِحُواْ بِمَا عِندَهُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ

ان كے خود ساختہ مزعومات اور ان کے باطل گمان کو علم كہاگیا ہے ورنہ یہ تو حقیقت میں سراسر جہالت ہے۔ (القرطبى: 18؍55)
سوال: ان منکرین اور جھٹلانے والوں كےپاس جو ہے كیا اسے علم كہاجائےگا؟

سورۃ غافر آیات 0 - 84

فَلَمَّا رَأَوۡاْ بَأۡسَنَا قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَحۡدَهُۥ وَكَفَرۡنَا بِمَا كُنَّا بِهِۦ مُشۡرِكِينَ ٨٤

یہاں ان لوگوں كا بیان ہے جو عذاب دیكھ كر ایمان لائے تھے، جس سے ان کا كوئى فائده نہیں ہوا۔ اسے ذكر كركے عربوں كو جلدى ایمان لانے پر ابھارا گیا ہے، اور تاخیر پر خوف دلایا گیا ہے كہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب آجائے پھر اس وقت ان كا توبہ ان کے كچھ كام نہ آئے گا۔ (ابن عطیہ: 4؍572)
سوال: كفار قریش كو یہ بتلانے کا كیا فائده ہے كہ ان سےپہلے والے عذاب آنے كے وقت ایمان لائے اور اس سے انہیں كچھ فائده نہیں پہونچا؟

سورۃ غافر آیات 0 - 85

فَلَمۡ يَكُ يَنفَعُهُمۡ إِيمَٰنُهُمۡ لَمَّا رَأَوۡاْ بَأۡسَنَاۖ سُنَّتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي قَدۡ خَلَتۡ فِي عِبَادِهِۦۖ

یعنى كافروں كے تعلق سے الله كى یہ سنت رہى ہے كہ عذاب دیكھنے كےبعد ان كا ایمان فائده نہیں پہنچاتا... اورضرورى علم حاصل ہونے نیز عذاب دیكھنے كےبعد توبہ كچھ كام نہیں آئےگا۔ (القرطبى: 18؍386)
سوال: اس آیت میں مخلوقات كےتعلق سے اللہ کی کیا سنت رہی ہے اسے بیان كریں.