قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے




٦٧ ٦٧

٦٨ ٦٨

٦٩ ٦٩

٧٠ ٧٠

٧١ ٧١

٧٢ ٧٢

٧٣ ٧٣

٧٤ ٧٤


٧٥ ٧٥

٧٦ ٧٦

ﯿ ٧٧ ٧٧
475
سورۃ غافر آیات 0 - 71

إِذِ ٱلۡأَغۡلَٰلُ فِيٓ أَعۡنَٰقِهِمۡ وَٱلسَّلَٰسِلُ يُسۡحَبُونَ ٧١

حسن بن ابى الحسن نےكہا: دوزخیوں كى گردنوں میں زنجیریں اس لئے نہیں ڈالى جائیں گى كہ انہوں نے رب ذوالجلال كو عاجز كردیا ہے بلكہ اسلئے كہ شعلوں کے بجھنے کے بعد یہ زنجیریں انہیں جہنم کی گہرائیوں میں دھنسا لے جائیں گی۔ (ابن عطیہ : 4؍569)
سوال: دوزخیوں كى گردنوں میں زنجیریں كیوں ڈالى جائیں گى؟

سورۃ غافر آیات 0 - 72

فِي ٱلۡحَمِيمِ ثُمَّ فِي ٱلنَّارِ يُسۡجَرُونَ ٧٢

یہ آپ كے قول : (سجرت التنور) سے ماخوذ ہے ، جب اسے آپ آگ سے بھر دیں، اور یہاں مفہوم یہ ہےكہ وه جہنم میں ویسے ہى ڈالے جائیں گے جیسے تنور میں ایندھن ڈالا جاتاہے، اسى لئے مجاہد نے اس كى تفسیر میں كہا: یہ آگ کے ایندھن بنیں گے۔ (ابن جزى: 2؍285)
سوال: الله كى نشانیوں میں بغیر علم كے بحث ومباحثہ كرنے كى سنگینى كا اندازہ ان آیتوں سے كیسے ہوتا ہے؟

سورۃ غافر آیات 73 - 74

ثُمَّ قِيلَ لَهُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡ تُشۡرِكُونَ ٧٣ مِن دُونِ ٱللَّهِۖ قَالُواْ ضَلُّواْ عَنَّا بَل لَّمۡ نَكُن نَّدۡعُواْ مِن قَبۡلُ شَيۡـٔٗاۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٧٤

(ثم قيل لهم أين ما كنتم تشركون) یعنى تم الله كو چھوڑ كر جن معبود ان باطلہ اور بتوں كى عبادت كرتےتھے، جنہیں مدد كیلئے پكارتےتھے، وه كہاں ہیں؟ انہیں مصیبت کی گھڑی میں تمہارے کام آنا چاہئے اور تمہیں عذاب سے بچانا چاہئے؛ كیونكہ معبود اپنے بندے كى مدد كرتاہے، اس طرح كى بات انہیں ڈانٹنے پھٹکارنے اور دنیا میں ان کے باطل كرتوتوں پر ملامت کے لئے ہوگی۔ (الطبرى: 21؍416)
سوال: عذاب كے وقت الله تعالىٰ كا مشركوں سے ان كے معبودان باطلہ كےبارے میں سوال كرنے كا كیافائده ہے؟

سورۃ غافر آیات 0 - 73

ثُمَّ قِيلَ لَهُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡ تُشۡرِكُونَ ٧٣

یہاں استفہام کا مطلب غلطیوں پر انہیں تنبیہ کرنا اور میدان محشر میں ان كى فضیحت ہے؛ كیونكہ ان كا گمان تھا كہ وه بتوں كى عبادت اس لئے كرتےہیں كہ وه الله كے غضب سے ان كیلئے سفارشی بنیں گے، لیكن جب عذاب الہى ان كے حق میں ثابت ہوجائےگا اور وہاں وه كوئى سفارشى نہیں پائیں گے تو اس وقت انہیں ان کے گمان کی یاددہانی کروائی جائے گی اور ان سے كہاجائےگا: (أين ما كنتم تشركون) یعنى جن چیزوں كو شریك ٹھہراتےتھے وه كہاں ہیں؟ (ابن عاشور: 24؍204)
سوال: آیت كریمہ میں استفہام كا كیا فائده ہے؟

سورۃ غافر آیات 0 - 75

ذَٰلِكُم بِمَا كُنتُمۡ تَفۡرَحُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَبِمَا كُنتُمۡ تَمۡرَحُونَ ٧٥

یعنى یہ عذاب تمہیں ان گناہوں كے بدلے میں ملےہیں جن پر تم نازاں وفرحاں تھے، اور ایسا انہیں بطور توبیخ اور ڈانٹ كےكہاجائےگا، یعنى یہ عذاب تمہیں اس لئےملا ہے كہ تم دنیا میں معصیت، مال وصحت اور پیروكاروں كى كثرت پر خوشی و مسرت كا اظہار كرتےتھے۔ (القرطبى: 18؍383)
سوال: ان پر عذاب كےآنے كاسبب كیا بنا؟ اور ہمارےلئےاس میں كیا نصیحت ہے؟

سورۃ غافر آیات 0 - 75

ذَٰلِكُم بِمَا كُنتُمۡ تَفۡرَحُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَبِمَا كُنتُمۡ تَمۡرَحُونَ ٧٥

یعنى تم اپنے باطل عقیدہ و عمل پر خوش ہو ، اور یہى وه مذموم خوشى ہے جو باعث عذاب ہے، برخلاف اس ممدوح خوشى كے جس كےبارےمیں الله تعالىٰ نے فرمایا: ﴿قُلۡ بِفَضۡلِ ٱللَّهِ وَبِرَحۡمَتِهِۦ فَبِذَٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُواْ﴾ [يونس: 58] ا ور یہ خوشى علم نافع اور عمل صالح كى ہے۔(السعدى: 743)
سوال: ممدوح یعنى اچھى خوشى كیا ہے اور مذموم خوشى كیا ہے؟

سورۃ غافر آیات 0 - 77

فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۚ فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعۡضَ ٱلَّذِي نَعِدُهُمۡ أَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيۡنَا يُرۡجَعُونَ ٧٧

یعنى اگر ہم آپ كو وہ عذاب دكھا دیں جس كا وعده ہم نے ان سےكیا ہے تو اس سے آپ كى آنكھوں كو ٹھنڈك مل جائےگى، اور اگر آپ كو انہیں عذاب دینے سے پہلے ہی وفات دے دی تو وه تو میرے ہى پاس آنے والےہیں ، پھر ہم ان سے برى طرح انتقام لیں گے۔ (ابن جزى: 2؍286)
سوال: فرمان بارى: (فإما نرينك) كےاندر نبى كریم ﷺ كیلئے تسلى ہے ، اسے واضح كریں.