قرآن
ﯕ
ﱐ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ٥٠ ٥٠
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ
ﭭ ﭮ ﭯ ٥١ ٥١ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ٥٢ ٥٢ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ٥٣ ٥٣ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ٥٤ ٥٤ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ٥٥ ٥٥ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ٥٦ ٥٦ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ٥٧ ٥٧
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ٥٨ ٥٨
قَالُوٓاْ أَوَ لَمۡ تَكُ تَأۡتِيكُمۡ رُسُلُكُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِۖ قَالُواْ بَلَىٰۚ قَالُواْ فَٱدۡعُواْۗ وَمَا دُعَٰٓؤُاْ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٍ ٥٠
یعنى جس طرح تم نے دنیا میں اپنی آراء و افکار کو اہمیت دیتے ہوئے رسولوں سے اعراض كرنے كا فیصلہ لیا اسى طرح آج تم اپنے معاملے كى ذمہ داری بھی خود اٹھاؤ ، اور خود ہی الله سے دعا كرو۔ (ابن عاشور: 24؍166)
سوال: مشركوں كا خود ہی اپنے لئے دعا كرنےکے حکم كا ماقبل کی زندگی سے کیا تعلق ہے؟
وَمَا دُعَٰٓؤُاْ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٍ ٥٠
كفر تمام اعمال برباد كرنے والا اور قبولیت دعا سے روكنے والا ہے۔ (السعدى: 739)
سوال: بعض ان برے انجام و نقصانات كا ذكر كریں جو كافروں كو ان كے كفر كى وجہ سے لاحق ہوں گے؟
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَيَوۡمَ يَقُومُ ٱلۡأَشۡهَٰدُ ٥١
(رسولوں اور مومنوں کی مدد کیسے ہوتی ہے اس سلسلہ میں) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے كہا: غلبہ اور طاقت كے ذریعے۔ اور ضحاك نے كہا: دنیا میں حجت كے ذریعے اور آخرت میں عذر كےذریعے۔ اور كہاگیا: دنیا وآخرت میں دشمنوں سے انتقام لیكر۔ اور یہ سارى چیزیں انبیاء اور مومنوں كو حاصل ہوئیں۔ چنانچہ یہ لوگ حجت ودلیل سے اپنے مخالفین پرغالب رہتےہیں ، اور الله نے دشمنوں كوہلاک و برباد كركےاور ان پر غلبہ دیكر ان كى مدد کی، اور دشمنوں كےہاتھوں شہید ہونے كےبعد بھى دشمنوں سے انتقام لے کر ا ن كى مدد فرمائى جیسا كہ یحیى بن زكریا- علیہما السلام- كى مدد فرمائى جب انہیں شہید كردیاگیا ، تو ان كى وجہ سےانتقاماً ستر ہزار دشمنوں كو قتل كیا گیا، بہرحال سابقہ صورتوں میں سے کسی نہ کسی صورت سے ان کی مدد ہوئی ہے ۔(البغوى: 4؍47)
سوال: كیا مدد الہى صرف رسولوں كےساتھ خاص ہے؟ اور كیا اللہ کی مدد دشمنوں كى ہلاكت پر موقوف ہے؟
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡهُدَىٰ وَأَوۡرَثۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ٱلۡكِتَٰبَ ٥٣
الله تعالىٰ کی طرف سے اپنے رسولوں اور مومنوں كى مدد کی یہ بہت ہى واضح مثال ہے،اور نصرت و مدد کی یہ مثال اس مدد و نصرت سے بہت زیادہ مشابہت و مماثلت رکھتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ اور مومنوں کے لئے مقدر کررکھاتھا؛ كیونكہ قوم فرعون پر موسیٰ علیہ السلام كى مدد كیوجہ سے الله نے ایك ایسی عظیم امت كو برپا کیا جس کی پہلے کوئی اہمیت نہیں تھی اور انہیں ایك عظیم شریعت اور ایك عظیم بادشاہت سے نوازا ،اسی طرح نبى کریم ﷺ اور مومنوں كى مدد ہوئی، بلكہ اس سے بھى عظیم، كامل اور لائق شرف امت، شریعت اور حکومت انہیں دی گئی۔ (ابن عاشور: 24؍169)
سوال: مومنوں كیلئے نصرت الہى پر موسیٰ علیہ السلام كا واقعہ كیسے ایك واضح مثال ہے؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ سُلۡطَٰنٍ أَتَىٰهُمۡ إِن فِي صُدُورِهِمۡ إِلَّا كِبۡرٞ مَّا هُم بِبَٰلِغِيهِۚ
یعنى ایسا تكبر اور گھمنڈ ان کے دلوں میں ہے جو انہیں آپ كى پیروى كرنے اور بات ماننے سے روكے رکھا ہے۔ (ابن جزى: 2؍283)
سوال: نبى كریم ﷺكى اتباع كرنے سے كافروں كو كس چیز نے روك ركھا تھا؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ سُلۡطَٰنٍ أَتَىٰهُمۡ إِن فِي صُدُورِهِمۡ إِلَّا كِبۡرٞ مَّا هُم بِبَٰلِغِيهِۚ
اللہ کی آیتوں میں بحث و جدال کے لئےدلیل كى قید لگانے کا فائدہ ان کے بحث و تکرار کی قباحت و شناعت کوبیان کرنا ہے، ورنہ الله كى نشانیوں میں بحث و مباحثہ بغیر دلیل و حجت ہی کے کیا جائےگا ، كیونكہ الله كى نشانیاں واقع كےخلاف ہوتى ہى نہیں ہیں، لہٰذا یہ قید اس قید کی نظیر ہے جو اس آیت میں آئى ہے: ﴿وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّنِ ٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ بِغَيۡرِ هُدٗى مِّنَ ٱللَّهِ﴾ [القصص: 50]۔(ابن عاشور: 24؍173)
سوال: الله كى نشانیوں میں بحث ومباحثہ پر دلیل کی قید کا کیا فائدہ ہے؟
وَمَا يَسۡتَوِي ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَلَا ٱلۡمُسِيٓءُۚ قَلِيلٗا مَّا تَتَذَكَّرُونَ ٥٨
یہاں بصیر سے پہلے اعمى كا ذكر كیا گیا باوجودیكہ بصارت وبینائی ایک ذات کے اندر اندھے پن كےمقابلے زیاده لائق شرف ہے اور بصیر سے جس كى تشبیہ دى گئى ہے وه زیاده لائق شرف ہے بنسبت اس كے جس كى تشبیہ اعمى سے آئی ہے، کیونکہ بصیر سے مومنوں کو تشبیہ دى گئى ہے (اور اعمیٰ سے کافروں کو تشبیہ دی گئی ہے)پھر بھی كافروں كى تشبیہ کو اس لئے مقدم كیاگیا کیونکہ ان کے بحث وتکرار کی حالت بیان کرنا یہاں زیادہ اہم ہے ، کیونکہ وعظ ونصیحت کے مقصود وہی لوگ ہیں۔ (ابن عاشور: 24؍178)
سوال: بصیر پر اعمى كو مقدم كیوں كیا گیا باوجودیكہ بصیر زیاده لائق شرف ہے؟