قرآن
ﯕ
ﱐ
٤١ ٤١ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ٤٢ ٤٢ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
٤٣ ٤٣ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ٤٤ ٤٤ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ٤٥ ٤٥ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ٤٦ ٤٦ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ٤٧ ٤٧ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ
ﯬ ﯭ ٤٨ ٤٨ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ٤٩ ٤٩
وَأُفَوِّضُ أَمۡرِيٓ إِلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بَصِيرُۢ بِٱلۡعِبَادِ ٤٤ فَوَقَىٰهُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِ مَا مَكَرُواْۖ
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے كہ جس نے اپنا معاملہ الله كے حوالے كردیا الله اس کا ساتھ دیتا ہے۔ (ابن جزى: 2؍282)
سوال: مذكوره دونوں آیتوں سے ایك مسلمان كیا فائده اٹھا سكتاہے یا اسے کونسا سبق ملتا ہے؟
فَوَقَىٰهُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِ مَا مَكَرُواْۖ
یعنى اللہ نے اسے عذاب كى مختلف شكلوں میں مبتلا ہونے سے بچا لیا ، جب لوگوں نے اسے(اذیت و تکلیف دینے کی غرض سے) طلب كیا تو وہاں نہیں پایا، كیونكہ اس نے اپنا معاملہ الله كو سونپ ركھا تھا۔ (القرطبى : 18؍363)
سوال: آل فرعون كے مومن كا كیا انجام ہوا جس نے اپنا معاملہ الله كو سونپ ركھا تھا؟
وَحَاقَ بِـَٔالِ فِرۡعَوۡنَ سُوٓءُ ٱلۡعَذَابِ ٤٥
ڈوب كر مرنا یہ برا عذاب ہے؛ كیونكہ ڈوبنے والا سانس كے بند ہوجانے سے ایك وقفے تك عذاب میں مبتلا رہتا ہے، اسطرح كہ كبھى پانى كےاوپر آتاہے، اور كبھى اندر ڈوبتاہے، اور ساتھ ہی موجوں كى ہولناكى اسے خوف میں ركھتى ہے جس سے اسے ہلاكت كا یقین رہتاہے، پھر اسے یہ خطره بھى لاحق رہتاہے كہ زنده اور مرده ہر صورت میں اسے مچھلیاں كھاجائیں گى، اس طرح یہ زندگى میں بھى ایك دردناك عذاب ہے اور مرنے كے بعد بھى ذلت ورسوائى ہے كہ لوگوں كے درمیان اسے اسى عذاب كے حوالے سے یاد كیا جائیگا۔ (ابن عاشور: 24؍198)
سوال: ڈوب جانے كو برا عذاب كیوں كہاگیا ہے؟
ٱلنَّارُ يُعۡرَضُونَ عَلَيۡهَا غُدُوّٗا وَعَشِيّٗاۚ وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ أَدۡخِلُوٓاْ ءَالَ فِرۡعَوۡنَ أَشَدَّ ٱلۡعَذَابِ ٤٦
در اصل ان كى روحیں صبح وشام جہنم پر پیش كى جاتى ہیں ، اور ایسا قیامت تك ان كےساتھ ہوتا رہےگا ، پھر قیامت كےدن ان كى روحوں اور جسموں دونوں كو جہنم میں اكٹھا كردیا جائےگا۔ اسى لئے الله نے فرمایا: (ويوم تقوم الساعة أدخلوا آل فرعون أشد العذاب) یعنى جس كى وجہ سے تكلیف میں مزید اضافہ اور عذاب میں مزید سختى ہوگى۔ نیز یہ آیت (النار يعرضون عليها غدوًا وعشيًا) اہل سنت والجماعت كیلئے عذابِ برزخ كے مسئلے میں بہت بڑى بنیادى دلیل ہے۔(ابن كثیر: 4؍83)
سوال: عذاب قبر كے اثبات پر آپ اس آیت سے استدلال كیسےكریں گے.؟
وَإِذۡ يَتَحَآجُّونَ فِي ٱلنَّارِ فَيَقُولُ ٱلضُّعَفَٰٓؤُاْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعٗا فَهَلۡ أَنتُم مُّغۡنُونَ عَنَّا نَصِيبٗا مِّنَ ٱلنَّارِ ٤٧
بڑے سرداروں سے كمزور طبقہ كےلوگوں كے اس كلام كو حقیقت پر محمول كیا جاسكتا ہے كیونكہ ان سے ایسى بات كا امكان ہے كہ دنیا میں یہ پریشانى كے وقت انہیں كى پناه لیتےتھے، اسلئے وہاں بھى یہى سوچیں گے كہ ان كے معاملات كى ذمیدارى انہیں كےپاس ہوگى۔ اسى لئے وه سردار انہیں ایسا جواب دیں گے جس سے انہیں یہ پتہ چل جائےگا كہ آج كے دن عاجزى اور كچھ نہ كرپانے میں دونوں برابر ہیں، اور كہیں گے: (إِنَّا كُلٌّ فِيهَا) ہم سب اس میں رہیں گے، یعنى اگر ہم تمہارے لئے كچھ كرسكتے تو پہلے اپنے لئے کرتے ۔
اور یہ بھى احتمال ہے كہ كمزور طبقے كى یہ فریاد در حقیقت تخفیف عذاب كیلئے نہیں ہے بلكہ یہ ان كى طرف سے ایك ڈانٹ اور پھٹكار ہے كہ تم ہمیں شرك كى طرف دعوت دیتےتھے جس کا انجام یہ ہے کہ آج ہم عذاب میں مبتلا ہیں ، تو کیا تم ہم سے اس عذاب كو ٹال سكتےہو؟ (ابن عاشور: 24؍161)
سوال: آیت كریمہ كےاندر سرداروں سے كمزور طبقہ كےلوگوں كى جو گفتگوبیان ہوئى ہے اس کا كیا فائده ہے؟
قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا كُلّٞ فِيهَآ إِنَّ ٱللَّهَ قَدۡ حَكَمَ بَيۡنَ ٱلۡعِبَادِ ٤٨
اس آیت میں قوموں كے سربراہوں اور رہنماؤں كیلئے عبرت اورنصیحت ہے اگر وه انجام جانتے ہوئے بھی اپنی جانوں اور قوموں كےساتھ اپنے اقوال و افعال کے ذریعے دھوكہ دیتے ہیں اور انہیں خطرات سے دوچار كرتےہیں تو وه یقیناً دنیا میں ذلت ورسوائى اور آخرت میں دوگنا عذاب كے مستحق ہیں جیسا كہ الله نے فرمایا ہے: ﴿وَلَيَحۡمِلُنَّ أَثۡقَالَهُمۡ وَأَثۡقَالٗا مَّعَ أَثۡقَالِهِمۡ﴾ یعنى وه اپنا بوجھ تو اٹھائیں گے ہى ساتھ ہى دوسروں كا بوجھ بھى اٹھائیں گے۔ [العنکبوت:13]، اور اگر وہ سیادت و زعامت کے پرپیچ راہوں میں اپنی کمی و کوتاہی کے انجام سے بے خبر ہوکر کود پڑے ہیں تو وہ قوموں كى امامت كى قابل ِ اعتماد اہلیت و صلاحیت نہ رکھنے کی وجہ سے ملامت کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے عوام کو گمراہ کیا ہے بھٹکایا ہے اور ان کے ساتھ کھائی میں جاگرے ہیں۔ (ابن عاشور : 24؍163)
سوال: آیت كریمہ سے قوموں كے سربراہوں اور رہنماؤں كیلئے عبرت و نصیحت کے پہلو واضح کیجئے.
وَقَالَ ٱلَّذِينَ فِي ٱلنَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ يُخَفِّفۡ عَنَّا يَوۡمٗا مِّنَ ٱلۡعَذَابِ ٤٩
ضمیر جمع مذكر حاضر كى طرف (رَبّ) کی اضافت میں ایک طرح سے دعا پر ابھارنا ہے، یعنى تم لوگ قبولیت دعا كے زیاده مستحق ہو۔ پھر جب انہوں نے قبولیت دعا كا یقین كرلیا تو تخفیف عذاب كیلئے انہیں سے درخواست كى کہ کچھ مدت یا ایك ہى دن کی تخفیف کردی جائے۔ اور اپنے سرداروں کے مقابلے میں ان سے جہنم كے عذاب كى تخفیف کا سوال، انہیں زیادہ مفید معلوم ہوا۔ (ابن عاشور: 24؍164)
سوال: جمع مذكر حاضر كى ضمیر کی طرف(رَبّ)کی اضافت کا كیا فائده ہے؟