قرآن
ﯕ
ﱐ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ٣٤ ٣٤ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ٣٥ ٣٥ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ٣٦ ٣٦ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ٣٧ ٣٧ ﮰ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ٣٨ ٣٨ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ٣٩ ٣٩ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ
ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ٤٠ ٤٠
وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوسُفُ مِن قَبۡلُ بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِي شَكّٖ مِّمَّا جَآءَكُم بِهِۦۖ حَتَّىٰٓ إِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَن يَبۡعَثَ ٱللَّهُ مِنۢ بَعۡدِهِۦ رَسُولٗاۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٞ مُّرۡتَابٌ ٣٤
مرد مومن نےجب دیكھا نصیحت و خیر خواہى کا فائدہ نہیں ہے ، اور وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام كو جھٹلانے پر اترے ہوئے ہیں تو نصیحت کے ایک اور اسلوب کو اپناتے ہوئے ان کے آباء و اجداد کے ماضى کے کردار کی روشنی میں ان كى ملامت كا طریقہ اختیار كیا اور انہیں یاد دلایا كہ تم اسى قوم كى ذریت ہو جس نے یوسف علیہ السلام كو جھٹلادیا تھا جب وه واضح نشانیاں لے كر آئےتھے، گویا حق كى طرف بلانے والوں كو جھٹلانا تمہارے اسلاف كا شیوه رہاہے اور یہ صفت وہیں سے تمہارے اندر آئی ہے۔ (ابن عاشور: 24؍138)
سوال: آیت كریمہ كا ماقبل سے كیا تعلق ہے؟
كَبُرَ مَقۡتًا عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۚ
ٹھیك اسى طرح اپنے رب كى موافقت میں الله كے مومن بندے بھى اس رویے سے شدید نفرت كرتےہیں، یہ الله تعالىٰ كے خاص بندےہیں، چنانچہ ان كا ایسے لوگوں کو ناپسند كرنا اس بات كى دلیل ہے کہ ایسے لوگ بہت قبیح اور برے ہیں۔(السعدى: 738)
سوال : علماء اور الله كےنیك بندےاگر كسى سے سخت نفرت كرتےہیں تو سمجھئے كہ اسكى حالت انتہائى نازك ہے اور اس پر تدارك واصلاح كى كوشش بہت ضرورى ہے، اسے آیت كى روشنى میں واضح كیجئے.
أَسۡبَٰبَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰٓ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُۥ كَٰذِبٗاۚ
جب فرعون نے اپنے لشكر وخواص كے روبرو كہا: (فأطَّلِع إلى إله موسى) تو اس كے اس كلام سے موسیٰ علیہ السلام كے معبود كا اقرار لازم آرہا تھا اسى لئے اس نےتدارک کرتے ہوئےگھبراہٹ میں فورا كہا: (وإني لأظنه كاذبًا). (ابن عطیہ: 4؍560)
سوال: آیت كى شروعات اور فرعون كے اس قول: (وإني لأظنه كاذبًا) میں كیا مناسبت ہے؟
أَسۡبَٰبَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰٓ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُۥ كَٰذِبٗاۚ وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَصُدَّ عَنِ ٱلسَّبِيلِۚ وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ إِلَّا فِي تَبَابٖ ٣٧
(وإني لأظنه كاذبًا) یہ جملہ معترضہ ہے، اسے ہامان اور اسكى قوم كا یہ گمان دور كرنے كیلئے لایاگیا ہےكہ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت نے فرعون کے اپنے معبود و دین پر یقین کو متزلزل کردیا ہے، اور اب وہ معرفت حق کی دلیلوں کی تلاش و جستجو کا ارادہ کرلیا ہے، لیکن فرعون نے اپنے اس قول و عمل سے یہ باور کرانا چاہا كہ وہ اب بھى موسیٰ علیہ السلام کے رب کی نفی حسی دلیلوں سے کرناچاہتا ہے۔ (ابن عاشور: 24؍147)
سوال:(وإني لأظنه كاذبًا)اس جملہ كے ذریعے فرعون كیا فائده ثابت کرنا چاہتا تھا؟
وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ إِلَّا فِي تَبَابٖ ٣٧
فرعون کے بلند عمارت تعمیر کرنے کے حکم کو(كَيْدُ) (چال ، سازش) كہاگیا ہے كیونكہ یہ ایسا عمل ہے جس كا ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے، بلكہ وه اپنى قوم والوں كو موسیٰ علیہ السلام كے جھوٹے ہونے کے وہم میں مبتلا رکھنا چاہتا تھا۔ (ابن عاشور: 24؍148)
سوال: فرعون كے بالاخانہ تیار كرنے كے حكم كو (كَيْدُ) سازش كیوں كہاگیا ؟
وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ إِلَّا فِي تَبَابٖ ٣٧
فرعون كى وه حیلہ سازى جسے اس نے موسیٰ علیہ السلام كے معبود كو جھانكنے كیلئے اپنایا تھا، اس میں گھاٹا ، مال كى بربادى اور دھوكہ تھا ، كیونكہ بلند عمارت بنانے میں جو مال صرف كیا وه ضائع ہوا جس مقصد كیلئے مال اڑایا وه حاصل نہ ہوا لہذا اس میں خساره اور نرى تباہى وبربادى تھى۔(الطبرى : 21؍388)
سوال: بتائیے (تَبَاب) كیا ہے اور فرعون كى حیلہ سازى كو (تَبَاب)سے متصف كیوں كیا گیاہے، ؟
يَٰقَوۡمِ إِنَّمَا هَٰذِهِ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا مَتَٰعٞ وَإِنَّ ٱلۡأٓخِرَةَ هِيَ دَارُ ٱلۡقَرَارِ ٣٩
حیات دنیوى سے تھوڑا سا فائده اٹهایا جاتاہے پھر یہ ختم ہوجائےگى۔ (وإن الآخرة هي دار القرار) (اور ہمیشگى كا گھر تو آخرت ہے) (الْقَرَارِ)یعنى دوام واستقرار، (الدار الآخرة)سے مراد جنت اور جہنم ہیں كیونكہ یہ فنا نہیں ہوں گے۔ (القرطبى: 18؍361)
سوال: اس مومن بندے نے دنیا اور آخرت كى حقیقت بیان كرکے اپنی قوم والوں کو الله كى دعوت كیسے دى؟