قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے





ﭿ ٢٧٥ ٢٧٥


٢٧٦ ٢٧٦


٢٧٧ ٢٧٧

٢٧٨ ٢٧٨


٢٧٩ ٢٧٩


٢٨٠ ٢٨٠

ﯿ ٢٨١ ٢٨١
47
سورۃ البقرہ آیات 0 - 275

ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ ٱلرِّبَوٰاْ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِي يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مِنَ ٱلۡمَسِّۚ

سود خورقیامت کے دن پاگل آدمی کی طرح اٹھایا جائیگا۔یہ اس کی سزا کے طور پر بھی ہوگااور تمام اہلِ محشر کی نظروں میں قابلِ نفرت بنانے کے لئے بھی۔
(القرطبی:۴؍۳۹۰)
سوال: سودی لین دین کرنے والا کس حالت میں اٹھایا جائیگا؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 276

يَمۡحَقُ ٱللَّهُ ٱلرِّبَوٰاْ وَيُرۡبِي ٱلصَّدَقَٰتِۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ ٢٧٦

اس صفت(كَفَّارٍ أَثِيمٍ) (ناشکرا،گنہگار) جیسے الفاظ سے اس آیت کو ختم کرنے کی کچھ مناسبت ضرور ہے اور وہ یہ ہے کہ سودی لین دین کرنے والا ،رزقِ حلال کے اس حصہ پر راضی نہیں ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے متعین کیا ہے۔ اور اس کے لئے جائز کمائی کا جو حکم دیا ہے وہ اسے کافی نہیں سمجھتا۔ چنانچہ وہ حرام کمائی کی مختلف قسموں کو اپنا کر باطل طریقے سے لوگوں کے مال کھانے اور ہڑپنے کی کوشش میں لگارہتا ہے۔اس طرح یہ شخص اپنے اوپر کی گئی اللہ کی نعمت کا انکار کرنے والا اور بڑاہی ظالم وگنہگار بن جاتا ہے جو لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتا ہے۔ (ابن کثیر:۱؍۳۱۲)
سوال:سود خور کو ناشکرااورگنہگار کیوں کہا گیا؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 276

يَمۡحَقُ ٱللَّهُ ٱلرِّبَوٰاْ وَيُرۡبِي ٱلصَّدَقَٰتِۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ ٢٧٦

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے : (يَمۡحَقُ ٱللَّهُ) (اللہ سود کو مٹاتا ہے۔) یعنی سود خور سے نہ صدقہ قبول کرتا ہے ،نہ جہاد،نہ حج اور نہ سلوک وصلہ رحمی۔(وَيُرۡبِي ٱلصَّدَقَٰتِ)(صدقات کو بڑھاتا ہے۔)یعنی:دنیا میں اسے بابرکت اور فائدہ مندبناتا ہے اور آخرت میں اس کے بدلے میں کئی گنا اجروثواب سے نوازتا ہے۔(وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ ) سود کے حرام ہونے کا انکار کرنے والے شخص کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ ( أَثِيمٍ) اور نہ اسے کھاکر گنہگار ہونے والے کو پسند کرتا ہے۔ (البغوی:۱؍۳۰۳)
سوال:سود کھانے والے پر اس کا کیا اثرہوتا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 276

يَمۡحَقُ ٱللَّهُ ٱلرِّبَوٰاْ وَيُرۡبِي ٱلصَّدَقَٰتِۗ

ایسااس وجہ سے ہے کہ بدلہ عمل کی جنس سے ہوتا ہے ۔یعنی جس قسم کا عمل ہوتا ہے ،بدلہ بھی اسی طرح کا ہوتا ہے۔اب چونکہ سود خور لوگوں پر ظلم کرتا اور ان کے سرمائے کو غیر شرعی طریقے سے ہڑپ کرتاہے ۔اس لئے بدلہ میں اس کا مال برباد کردیا جاتا ہے۔اور جو آدمی کسی کے بھی ساتھ کسی بھی شکل میں سلوک و احسان کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے کہیں زیادہ فضل وکرم والا ہے ۔لہذا یہ بندہ جس طرح دیگر بندوں پر احسان کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ بھی اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کراس پر احسان وکرم فرماتا ہے۔ (السعدی: ۱۱۷)
سوال:سود خور کا بدلہ مال کی بربادی اور احسان کرنے والے کا بدلہ نیکیوں کو بڑھانا کیوں ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 277

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ٢٧٧

نماز اور زکاۃ اپنے اندرنیک اعمال کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ان کے اسی شرف و عظمت کی وجہ سے نیز ان کی قدر ومنزلت سے آگاہ کرنے کے لئے ان کا خصوصی ذکر کیا گیاکیونکہ یہ دونوں چوٹی کے اعمال ہیں۔نماز ،بدنی اعمال میں اور زکاۃ، مالی اعمال میں۔ (القرطبی:۴؍۴۰۳)
سوال:اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکاۃ کا خصوصی ذکر کیوں کیا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 278

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٢٧٨

سود اور ایمان اکٹھا نہیں رہ سکتے۔اور اس امت کی زیادہ تر مصیبتیں جن سے وہ دوچار ہے حتی کہ بنی اسرائیل جن بدترین عذاب اور قحط وخشک سالی سے دوچار ہوئےان سے بھی یہ امت دوچار ہے یہ سب سودی معاملہ کرنے والوں کے عمل کا نتیجہ تھا ۔ (البقاعی:۱؍۵۴۱)
سوال:سود کو حرام قراردینے میں سختی کیوں برتی گئی؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 281

وَٱتَّقُواْ يَوۡمٗا تُرۡجَعُونَ فِيهِ إِلَى ٱللَّهِۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ ٢٨١

جس شخص کو یہ یقین ہو کہ وہ اللہ کے پاس لوٹ کر جانے والا ہے اور وہ وہاں اسے ہر چھوٹے بڑے اور کھلے چھپے عمل کا بدلہ دے گا،نیز اللہ تعالیٰ اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کریگا۔تو یہ یقین اسے اپنے اندر شوق اور خوف پیدا کرنے پر مجبور کردیگا۔ (السعدی: ۱۱۷۔۱۱۸)
سوال:آدمی کے اس علم ویقین کا کیا فائدہ ہے کہ ‘‘وہ اپنے رب کی طرف پلٹنے والا ہے’’؟