قرآن
ﯕ
ﱐ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ
ﭡ ٨ ٨ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ٩ ٩ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ١٠ ١٠ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ١١ ١١ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ١٢ ١٢ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ١٣ ١٣ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ١٤ ١٤ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ١٥ ١٥ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ١٦ ١٦
رَبَّنَا وَأَدۡخِلۡهُمۡ جَنَّٰتِ عَدۡنٍ ٱلَّتِي وَعَدتَّهُمۡ وَمَن صَلَحَ مِنۡ ءَابَآئِهِمۡ وَأَزۡوَٰجِهِمۡ وَذُرِّيَّٰتِهِمۡۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٨
اس آیت میں یہ معنی داخل ہے كہ ایک ساتھ رہنے والےمیاں بیوى اولاد اور ساتھى میں سے جس كو الله ملا ئےگا وه اپنے قریبى ساتھی سے مل كر مگن ہوجائے گا اور اس كا اپنے ساتھی کے ساتھ رہنا باعث خیر و سعادت ہوگا جو اس كے خود كے عمل اور اسباب ِ عمل سے باہر کی ایک نعمت ہوگی۔ جیسا كہ فرشتے مومنین اور ان کے صالح باپ دادوں، بیویوں اور اولادكےحق میں بھى دعائیں مانگتےہیں۔ (السعدى: 733)
سوال: آیت كریمہ میں نیك لوگوں كى صحبت پر ابھارا گیا ہے ، اسكى وضاحت كیجئے.
رَبَّنَا وَأَدۡخِلۡهُمۡ جَنَّٰتِ عَدۡنٍ ٱلَّتِي وَعَدتَّهُمۡ وَمَن صَلَحَ مِنۡ ءَابَآئِهِمۡ وَأَزۡوَٰجِهِمۡ وَذُرِّيَّٰتِهِمۡۚ
یعنى اِنہیں اور اُنہیں جنت میں آزو بازو اور ایک دوسرے کے قریب جمع فرمادے ، تاكہ اس کی وجہ سے ا نكى آنكھیں ٹھنڈى ہوں ۔ (ابن كثیر: 4؍74)
سوال: الله نے آباء واجداد ، میاں بیوى اور ذریت كا ہى ذكر كیوں فرمایا؟
إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٨
(العزيز) یعنى ہر چیز پر غالب ہے۔ تیرے غلبے وعزت كےسبب ہى بندوں كےگناه مٹتےہیں، ركاوٹیں اور مصیبتیں دور ہوتى ہیں، اور ہر بھلائى تك ان كى رسائى ہوتى ہے... (الحكيم) جو اشیاء كو ان كے مناسب مقام پر ركھتاہے، لہذا اے ہمارے رب! ہم تجھ سے كسى ایسى چیز كا سوال نہیں كرتے جو تیرى حكمت كے خلاف ہو۔ بلكہ مومنین کو بخش دینا تیرے فضل وكرم كا تقاضہ اور تیری حکمت کا حصہ ہے جس کی خبر تو اپنے رسولوں کے ذریعہ دی ہے۔ (السعدى : 732)
سوال: فرشتوں کی دعاؤں كا اختتام ان دونوں صفات (العزیز الحكیم) سے كرنے كى كیا وجہ ہے؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُنَادَوۡنَ لَمَقۡتُ ٱللَّهِ أَكۡبَرُ مِن مَّقۡتِكُمۡ أَنفُسَكُمۡ إِذۡ تُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلۡإِيمَٰنِ فَتَكۡفُرُونَ ١٠
(مقت) وه شدید ناراضگى جو گناه یا كسى عیب كے باعث ہوگی اور كفار كى یہ حالت ان كے جہنم میں داخلے كے وقت ہوگى، كیونكہ جب وه جہنم میں جائیں گے تو ایك دوسرے پر سخت ناراض ہوں گے ، اوراس معنیٰ كا بھى احتمال ہے كہ ہر شخص خود اپنى ہى ذات سے خفا ونالاں ہو گااسى وقت فرشتے ان سے كہیں گے كہ دنیا میں تمہارے كفر پر الله اس سے كہیں زیاده ناراض ہوتا تھا جتنا آج تم اپنے آپ پر ہورہےہو۔ (ابن جزى: 2؍277)
سوال: جہنم میں كفار خود اپنے آپ پر كیسے ناراض ہوں گے؟
قَالُواْ رَبَّنَآ أَمَتَّنَا ٱثۡنَتَيۡنِ وَأَحۡيَيۡتَنَا ٱثۡنَتَيۡنِ فَٱعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلۡ إِلَىٰ خُرُوجٖ مِّن سَبِيلٖ ١١
(أمتنا اثنتين وأحييتنا اثنتين)یہ ان كى جانب سے دوباره زنده كئےجانے كا لامحالہ اقرار ہے۔ اس لالچ میں كہ شاید وه اس ناراضگی سے بچ نكلیں جس نے الله كو شدید خفا كیا ہے کیوں كہ جب انہیں اسلام كى طرف بلایا جاتاتھا تو وه صاف انكار كرتے تھے۔
اگر یہ كہاجائے كہ ان كا یہ قول (أمتنا اثنتين وأحييتنا اثنتين) ان كے اعتراف گناه كا سبب كیسے ہوگیا؟ تو جو اب یہ ہے كہ وه بعث بعد الموت (دوباره اٹھائے جانے)كا انكار كرتےتھے لیکن جب دیكھیں گے كہ ایك بار پھر انہیں مارا اور جلایا گیا ہے تو یقین كرلیں گے كہ الله اس پر قادر ہے، لہٰذا وہ اپنے گناہوں كا اقرار بھى كرلیں گے، ان کا اصل گناه انكار بعث تھا ، نیز اسكے نتیجے میں اللہ کی معصیت ونافرمانى جیسے بہت سی گناہیں، كیونكہ جو آخرت پر ایمان نہیں ركھتا ہے وه معصیت كى كچھ پرواه نہیں كرتا ہے۔ (ابن جزى: 2؍278)
سوال: فاسد اعتقاد معصیت كے ارتكاب كا سبب ہے ، آیت كى روشنى میں اسے واضح كیجئے.
يُلۡقِي ٱلرُّوحَ مِنۡ أَمۡرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ
(يلقي الروح) (روح ڈالتا ہے) یعنى وحى اتارتا ہے، وحى كو روح اس لئے كہا گیا ہے كیونكہ اس سے دلوں كو زندگى ملتى ہے۔ (البغوى: 4؍38)
سوال: وحى كو روح كیوں كہاگیا ہے؟
يُلۡقِي ٱلرُّوحَ مِنۡ أَمۡرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ لِيُنذِرَ يَوۡمَ ٱلتَّلَاقِ ١٥
(يوم التلاق) ملاقات كا دن ، یعنى روز قیامت ، اسے ملاقات كا دن اس لئے كہاگیا ہے كیونكہ لوگ ایك دوسرے سےاس دن ملیں گے۔اس کی توجیہ میں یہ بھى كہاگیا ہےكہ وہاں آسمان اور زمین والے ملاقات كریں گے۔اور اس بابت ایك قول یہ بھى ہے كہ سارى مخلوق وہاں اپنے رب سے ملےگى۔ (ابن جزى: 2؍278)
سوال: ملاقات والا دن (يوم التلاق) كیا ہے اور اس كا یہ نام كیوں ركھا گیا؟