قرآن
ﯔ
ﱐ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ٧٥ ٧٥
ﯕ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ٣ ٣ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ٤ ٤ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ
ﮣ ﮤ ٥ ٥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ٦ ٦ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ٧ ٧
وَقِيلَ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٧٥
(قِيْلَ)کا فاعل محذوف ہے کیونکہ فاعل متعین نہیں ہے، بلکہ ہر ایک مخلوق اللہ تعالیٰ کے فیصلہ و حکم پر اللہ کی تعریف و ثنا بیان کرےگی، آسمان و زمین والے، نیکوکار و بدکار لوگ اور انسان و جنات سب اللہ کی حمد بیان کریں گے یہاں تک کہ جہنمی بھی اس فیصلہ پر اللہ کی تعریف ہی کریں گے گویا پوری کائنات کی زبان پر الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ کا کلمہ جاری ہوگا (ابن القیم: 2: 4.3)
سوال: آیت كریمہ میں فعل(قِيْلَ) صیغۂ مجہول کے ساتھ کیوں آیا ہے؟
وَقِيلَ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٧٥
پورى كائنات خواه ناطق ہو یا غیر ناطق الله رب العالمین كى حكمت اور اسكےعدل پر ثناخواں ہوگى۔ یہاں قول كى نسبت كسى ایك كى طرف نہ كرتےہوئے مطلق ركھا گیا ہے تاكہ دلالت اس بات پر ہو كہ سارى مخلوق كى زبان پر الله كى حمد كے ترانے ہوں گے۔(ابن كثیر: 4؍70)
سوال: آیت كریمہ میں (قَالُوْا) كہنے كے بجائے (قِيْلَ) كیوں كہاگیا ہے؟
تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ ٢
یہاں الله كى صفت (العزيز) اور (العليم)سے اس بات كى جانب اشاره ہے كہ قرآن كو جھٹلانے والے اور اسے من جانب اللہ نہ ماننے والے مغلوب ومقہور ہوں گے۔ اور یہ کہ الله ان چیزوں كو اچھى طرح جانتا ہے جو ان كے نفوس چھپاتےہیں پھر اس پر ان كا محاسبہ بھى كرےگا۔ اور اشاره اس بات كى طرف بھى ہے كہ قرآن غالب اور خوب جاننے والے كا كلام ہے۔ لہٰذا غیر الله كو نہ اس جیسے كلام پر قدرت ہے اور نہ ہى اس جیسا كلام پیش كرنے كا كوئى علم ہے۔ (ابن عاشور: 24؍79)
سوال: (العزيز) اور (العليم) كى صفت سے آیت كریمہ كےاختتام كى كیا حکمت ہے؟
غَافِرِ ٱلذَّنۢبِ وَقَابِلِ ٱلتَّوۡبِ شَدِيدِ ٱلۡعِقَابِ
یہ الله كے اس قول جیسا ہے: ﴿نَبِّئۡ عِبَادِيٓ أَنِّيٓ أَنَا ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ * وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ ٱلۡعَذَابُ ٱلۡأَلِيمُ﴾ [الحجر: 49- 50] میرے بندوں كو بتادو كہ میں بہت ہى زیاده بخشنے والا اور بڑاہى مہربان ہوں۔ اور ساتھ ہى میرا عذاب بھى نہایت ہى دردناك ہے۔ یہ دونوں صفتیں قرآن میں متعدد مقامات پر ایك ساتھ آئى ہیں تاكہ بنده امید وبیم كى حالت میں باقى رہے۔ (ابن كثیر: 4؍71)
سوال: الله تعالىٰ نے بخشش و مغفرت اور سزا و عقاب کی صفت كو یہاں اور دیگر مقامات پر ایك ساتھ كیوں ذكر كیا ہے؟
غَافِرِ ٱلذَّنۢبِ وَقَابِلِ ٱلتَّوۡبِ
توبہ كرنے والے گنہگار كیلئے الله نے دو رحمتیں یكجا كردى ہے، یا الله تعالىٰ اسكى توبہ قبول فرمائے گا اور اسے نیكى شمار كرے گا یا پھر اس سے كوئى ایسا گناه مٹا دےگا جس سے اس نے توبہ كرلی ہے اور اس پر نادم ہوا ہے۔ چنانچہ الله كى رحمت اور اسكے فضل سے وه ایسے ہوجائےگا كہ جیسے اس نے گناه كیا ہى نہیں۔ (ابن عاشور: 24؍80)
سوال: الله تعالىٰ نے (غافر الذنب) پر (قابل التوب) كا عطف كیوں كیا ہے؟
مَا يُجَٰدِلُ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَلَا يَغۡرُرۡكَ تَقَلُّبُهُمۡ فِي ٱلۡبِلَٰدِ ٤
الله تعالىٰ اپنے اس قول (فلا يغررك تقلبهم في البلاد) میں فرمارہاہے كہ اے محمد ! كفار كا کفر کے باوجودشہروں میں چلنا پھرنا ، انكا مختلف شہروں میں ٹھہرنا اور وہاں قیام كرنا آپ كو دھوكے میں نہ ڈال دے اور آپ یہ گمان كرنے لگیں كہ انہیں مہلت دی گئی ہے اور وہ ادھر ادھر گھوم پھر رہےہیں اور ان كے كفر پر انكى گرفت جلد از جلد نہیں ہورہى ہے، اور وہ عذاب الٰہى كی لپیٹ میں نہیں آرہےہیں کیونکہ ان كےپاس بھى کچھ حق ہے۔ (آپ اس دھوكے میں مت رہئے) ہم نے اس لئےانہیں ہرگز مہلت نہیں دى ہے، بلكہ اس لئے دی ہے کہ كتاب میں لكھى مدت پورى كرنى ہے تاكہ ان پر تیرے رب کےعذاب كا حکم ثابت ہوجائے۔ (الطبرى : 21؍352)
سوال: الله تعالىٰ كافروں كو كفر پر اصرار كےباوجود مہلت كیوں دے رہاہے اور اپنی نعمتوں سے انہیں کیوں نوازتا ہے؟
ٱلَّذِينَ يَحۡمِلُونَ ٱلۡعَرۡشَ وَمَنۡ حَوۡلَهُۥ يُسَبِّحُونَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَيُؤۡمِنُونَ بِهِۦ
اگر یہ كہاجائےكہ (ويؤمنون به) كا فائده كیا ہے؟ جبكہ معلوم ہے كہ عرش كو اٹھانے والے اور اسكے آس پاس كے فرشتے الله پر ا یمان ركھتےہیں، تو جواب یہ ہوگا كہ اس سے ایمان كى فضیلت اور شرف وعظمت كا اظہار مقصود ہے۔ (ابن جزى: 2؍276)
سوال: الله كے اس قول (ويؤمنون به) كے ذكر كا كیا فائده ہے؟ جبكہ یہ معلوم ہے كہ الله كا عرش اٹھانے والے فرشتے مومن ہى ہیں؟