قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

١١ ١١
١٢ ١٢

١٣ ١٣
١٤ ١٤
ﭿ
١٥ ١٥

١٦ ١٦


١٧ ١٧

١٨ ١٨

١٩ ١٩


٢٠ ٢٠

ﯿ

٢١ ٢١
460
سورۃ الزمر آیات 11 - 12

قُلۡ إِنِّيٓ أُمِرۡتُ أَنۡ أَعۡبُدَ ٱللَّهَ مُخۡلِصٗا لَّهُ ٱلدِّينَ ١١ وَأُمِرۡتُ لِأَنۡ أَكُونَ أَوَّلَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ١٢

اگر پوچھا جائے كہ (أمرت) كا عطف (أمرت) پر كیسے جائز ہوا جبكہ دونوں كا ایك ہى معنى ہے؟ تو اس كا جواب یہ ہے کہ پہلے میں عبادت اور اخلاص كا حكم ہے، جبكہ دوسرے میں اسلام كى طرف سبقت كا حكم ہے، پس دونوں كا معنى الگ الگ ہے۔(ابن جزى: 2؍266)
سوال: ان آیتوں میں (أمرت) فعل كى تكرار کے ذریعہ دو الگ الگ چیزوں پر ابھارا گیا ہے، بتائیے وه دونوں كیا ہیں؟

سورۃ الزمر آیات 0 - 12

وَأُمِرۡتُ لِأَنۡ أَكُونَ أَوَّلَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ١٢

چونکہ میں لوگوں کو ان کےرب كى طرف بلانے اور راہِ حق بتلانے والا ہوں۔ لہذا میرا یہ عمل اس بات كا متقاضی ہے كہ میں جس كا حكم دے رہاہوں پہلے اسے خود بجا لاؤں اور پہلا فرمانبردار بن جاؤں ، اور ضرورى ہے کہ یہ كام محمد ﷺاور انكے پیروكاروں كى جانب سے بھی انجام پائے۔(السعدى: 721)
سوال: دین كو مضبوطى سے پكڑنے پر قرآن كریم ابھارتا ہے ، یہ چیز آپ آیت كریمہ كى روشنى میں بیان كیجئے.

سورۃ الزمر آیات 0 - 15

قُلۡ إِنَّ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَأَهۡلِيهِمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ

یعنى ایك دوسرے سے جدا ہوجائیں گے اور كبھى مل نہیں پائیں گے ، خواه انكے اہل خانہ جنت میں چلے جائیں اور یہ خود جہنم میں ، یا پھر سب كا ٹھكانہ جہنم ہى قرار پائے۔ لیكن ملاقات نہیں ہوگى اور نہ ہى انہیں كوئى خوشى ملےگى۔(ابن كثیر: 4؍49)
سوال: اگر بروز قیامت نافرمان لوگ اپنے اہل وعیال سمیت جہنم میں چلےجائیں تو كیا انہیں اپنے اہل و عیال کے ساتھ یکجا ہونے میں کوئی خوشی ہوگی؟

سورۃ الزمر آیات 0 - 18

ٱلَّذِينَ يَسۡتَمِعُونَ ٱلۡقَوۡلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحۡسَنَهُۥٓۚ

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے كہا كہ وه ایسا شخص ہے جو اچھى اور برى دونوں باتیں سنتا ہے پھر اچھی بات کو ہی بیان کرتاہے اور برى بات سے باز رہتا ہے اسے كسى سے بیان نہیں كرتا۔ اور یہ بھى كہا گیا ہے كہ اس سےمراد وه لوگ ہیں جو قرآن کے علاوہ اور بھی باتیں غور سے سنتےہیں لیکن اتباع قرآن ہى كى كرتےہیں۔ (القرطبى: 18؍260)
سوال: باتوں کو بغور سماعت کرکے ان میں سے اچھی کی پیروی کا کیا طریقہ ہے.

سورۃ الزمر آیات 0 - 18

ٱلَّذِينَ يَسۡتَمِعُونَ ٱلۡقَوۡلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحۡسَنَهُۥٓۚ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَىٰهُمُ ٱللَّهُۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمۡ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ ١٨

(القول) جنس ہےجو ہر بات كو شامل ہے، وہ ہربات دھیان سے سنتےہیں تاكہ تمیز كرسكیں كہ كسے ترجیح دینا اور اپنانا ہے اور كس سے اجتناب كرنا ہے،لہٰذا ان کی عقلمندی اور دانشمندی ہے کہ وہ صرف اچھى بات كى اتباع كرتےہیں ، اور مطلق طور پربھلی بات الله اور اسكے رسول كا كلام ہے، جیسا كہ الله نے اس سورت میں فرمایا: (اللَّهُ نزلَ أَحسَنَ الحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا)... اس لئے جوشخص اچھى برى باتوں میں فرق نہیں كرپاتا وه صحیح عقل كا حامل نہیں ہے، یا جو تمیز تو كر لے لیكن اس کی شہوت اس کے عقل پر اس طرح غالب آجائے کہ عقل خواہش كےتابع ہوکر رہ جائےکہ اچھى بات كو ترجیح دینے کے قابل نہ رہے تو ایسے شخص کو بے وقوف اور ناقص العقل کہاجائے گا۔(السعدى: 722)
سوال: آپ كسى كےبارے میں كیسے فیصلہ كریں گے كہ وه متوازن اور سنجیدہ عقل والا ہے؟

سورۃ الزمر آیات 0 - 18

ٱلَّذِينَ يَسۡتَمِعُونَ ٱلۡقَوۡلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحۡسَنَهُۥٓۚ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَىٰهُمُ ٱللَّهُۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمۡ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ ١٨

وه قرآن کو بغور سنتےہیں ،پھر اس کے اچھی باتوں کو عملی تطبیق دیتے ہیں جیسے عفو ودرگزر سے كام لیتےہیں جو یقیناً بدلہ و انتقام سے کہیں بہتر ہے یا اس طرح کے دیگر اچھے کام۔(ابن جزى: 2؍267)
سوال: اس آیت كى وارد تفسیر كى روشنى میں انسان بھلى بات كى اتباع كیسے كرےگا؟

سورۃ الزمر آیات 0 - 19

أَفَمَنۡ حَقَّ عَلَيۡهِ كَلِمَةُ ٱلۡعَذَابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَن فِي ٱلنَّارِ ١٩

یہاں “انقاذ” كافعل نبى كریم ﷺكى حالت كو اس شخص كى حالت سے تشبیہ دینے كیلئے لایا گیا ہے جو چاروں طرف سے گہری آگ میں گرنے والے كو بچانے كى پورى كوشش كرتاہے، آپ ﷺكا حال یہ تھا كہ وه لوگوں كى ہدایت كے بڑے حریص تھے اور لوگوں كا عالم یہ تھا كہ وه موجبات وعید كے كاموں میں لت پت تھے۔(ابن عاشور: 23؍377)
سوال: آیت كریمہ كى روشنى میں بتائیے كہ نبى كریم ﷺلوگوں كى ہدایت كے كتنے حریص تھے؟