قرآن
ﯔ
ﱏ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ٦ ٦ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ٧ ٧
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
٨ ٨ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ
ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ٩ ٩ ﰀ ﰁ ﰂ
ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ
ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ١٠ ١٠
وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ ثَمَٰنِيَةَ أَزۡوَٰجٖۚ
یہ وہى مضمون ہے جس كا ذكر الله نے سورۂ انعام میں كیا ہے ، الله نے پیدا كئے آٹھ نر وماده ، بھیڑ میں دو قسم ، اور بكرى میں دو قسم، اور اونٹ میں دو قسم اورگائے میں دو قسم" [الانعام: 143- 144]۔
الله نے بندوں كى مصلحت میں اور بھى چوپائے اتارے ہیں پھر بھى بطور خاص ان آٹھ قسموں كو اس لئے ذكر كیا ہے كیونكہ ان کے فوائد بہت زیادہ اور عمومی ہیں اور ان کا ایک نمایاں مقام بھی ہے نیز انہیں كچھ ایسى خصوصیات حاصل ہیں جو دوسروں کو نہیں ہیں، جیسے ان كى قربانى ، ہدى، عقیقہ ، ان میں زكاة كا وجوب اور دیت میں انكى تخصیص ۔ (السعدى: 719)
سوال: ان آٹھ قسم كے چوپایوں كو الله نے بطور خاص كیوں ذكر كیا ہے؟
يَخۡلُقُكُمۡ فِي بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡ خَلۡقٗا مِّنۢ بَعۡدِ خَلۡقٖ فِي ظُلُمَٰتٖ ثَلَٰثٖۚ
ایك بناؤٹ كےبعد دوسرى بناوٹ ، یعنى انسان پہلےنطفہ پھر خون كا لوتھڑا ، پھر گوشت کے ٹکڑے کی شکل اختیار کرتا ہے ، یہاں تك كہ اسكى تخلیق پورى ہوجاتى ہے، پھر الله تعالىٰ اس میں روح پھونكتا ہے۔(ابن جزى: 2؍264)
سوال: یہ آیت مخلوق كى كمزورى ولاغرى اور خالق كى قدرت بیان كرتى ہے، اسكى وضاحت كیجئے.
يَخۡلُقُكُمۡ فِي بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡ خَلۡقٗا مِّنۢ بَعۡدِ خَلۡقٖ فِي ظُلُمَٰتٖ ثَلَٰثٖۚ
“تین تین اندھیروں میں” ایك پیٹ كا اندھیرا، دوسرا رحم مادر كا اندھیرا اور تیسرا مشیمہ( وه جھلى یا پرده جس میں بچہ لپٹا ہوتا ہے) كا اندھیرا ، ۔ (الجزائرى: 4؍468)
سوال:اس آیت كریمہ میں کون سے تین اندھیرے بیان کئے گئے ہیں؟
ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ لَهُ ٱلۡمُلۡكُۖ
بندوں کو ان کی نعمت تخلیق وتدبیر اور امداد کی یاد دہانی کے لئے یہاں الله كى صفت ربوبیت كا ذكر کیا گیا ، اور یہی ربوبیت کا مفہوم ہے، نیز انكے كفران نعمت كى فضیحت كى تمہید بھی ہے جس كا بیان الله كےاس قول میں ہے: “اگر تم ناشكرى كروگے تو (یادرکھنا) الله تم سب سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری کو ناپسند کرتا ہے”۔ (ابن عاشور: 23؍336)
سوال: مذکورہ آیت كریمہ میں الله تعالىٰ كى صفت ربوبیت كے ذكر كا كیا فائده ہے؟
أَمَّنۡ هُوَ قَٰنِتٌ ءَانَآءَ ٱلَّيۡلِ سَاجِدٗا وَقَآئِمٗا يَحۡذَرُ ٱلۡأٓخِرَةَ وَيَرۡجُواْ رَحۡمَةَ رَبِّهِۦۗ
ان كى عبادت كیلئے رات كى تخصیص اس لئےہے كیونكہ رات كى عبادت ذكر الہى كیلئے دل كى یكسوئى اور ریا کاری سے دوری میں بڑى مددگار ہوتی ہے ، نیز الله كى عبادت كو نفس كى راحت اور نیند پر ترجیح دینے کی بین دلیل بھی ہوتی ہے ، اس لئے كہ رات میں آرام كى طلب زیاده ہوتى ہے اب ایسے میں بنده اگر عبادت كو ترجیح دیتا ہے تو اس كا دل یقیناً الله كى قربت کی محبت سے منور ہو اٹھے گا ۔ الله كا ارشاد ہے: “بیشك رات كا اٹھنا دل جمعى كیلئے انتہائى مناسب ہے اور بات كو بہت درست كردینے والا ہے” [مزمل: 6]۔ (ابن عاشور: 23؍346)
سوال: آیت كریمہ میں رات كو عبادت سے كیوں خاص كیا گیا ہے؟
لِلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٞۗ وَأَرۡضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةٌۗ
یہ نص عام ہے یعنی جو کوئی بھی نیک کام کرے گا دنیا میں اسے بھلائی (کشادہ رزق، امن امان، قلبی راحت)نصیب ہوگی مگر اس شخص کو یہ بھلائی میسر کیوں نہیں جسے کسی خطہ ارض میں ایمان كیوجہ سے ذلیل ورسوا اور پریشان كیا جارہاہے، تو اللہ نے اس شبہ كا جواب یہ كہہ كر دیا ہے كہ : “الله كى سرزمین وسیع ہے” الله نے بتایا كہ اسكى زمین تنگ نہیں ہے،لہذا جب تمہیں کسی جگہ اللہ کی عبادت سے روکاجائے تو ہجرت کرکے دوسری جگہ چلے جاؤ۔(السعدى: 721)
سوال: جب الله تعالىٰ نے یہ بتایا كہ دنیا میں ہر نیكى كرنے والے كا بدلہ نیكى ہے تو اسكے بعد یہ كیوں کہا گیا كہ اسكى سرزمین بہت وسیع ہے؟
إِنَّمَا يُوَفَّى ٱلصَّٰبِرُونَ أَجۡرَهُم بِغَيۡرِ حِسَابٖ ١٠
على رضی اللہ عنہ نے كہا: ہر فرمانبردار كو ثواب ناپ تول کر اور وزن كركے دیا جائےگا سوائے صبر كرنے والوں كے۔ انہیں بغیر ناپے تولے لپ بھربھرکر نوازا جائےگا۔ بیان کیا جاتاہے كہ آزمائش والوں كو لایا جائے گا ، ان كے لئے كوئى ترازو نصب نہیں ہوگا، نہ ہى كوئى دفتر كھولا جائےگا، بلكہ ان پر بلا حساب اجر كى نوازش ہوگى یہاں تك كہ ابتلاء وآزمائش والوں كى فضیلت دیكھ کر دنیا میں عافیت والے تمنا كریں گے كہ كاش كینچى سے انكا بدن كاٹا جاتا (تاکہ انہیں بھی یہ فضیلت ہاتھ آتی)۔ (البغوى : 4؍9)
سوال: الله كےپاس صبر كرنے والوں كا بدلہ بلا حد و حساب كیسےہوگا؟