قرآن
ﯓ
ﱏ
ﭜ ٨٥ ٨٥ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
٨٦ ٨٦ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ٨٧ ٨٧ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ٨٨ ٨٨
ﯔ
ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ٢ ٢ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ٣ ٣ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
٤ ٤ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ٥ ٥
قُلۡ مَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُتَكَلِّفِينَ ٨٦
مسروق سے مروى ہے وه كہتےہیں كہ ہم عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے كہا: لوگو! جسے كسى چیز كا علم ہو وه اسے بیان كرے اور اگر علم نہیں ہےتو صاف كہہ دے كہ الله بہتر جانتا ہے ، كیونكہ آدمی جس چیز کو نہیں جانتا ہے اس کے بارے میں“ الله اعلم” كہنا بھى علم ہے۔ اس لئے کہ الله نے تمہارے نبى ﷺ کو حکم دیا كہ آپ كہہ دیں كہ میں تم سے اس پر كوئى بدلہ نہیں چاہتا اور نہ ہى میں تكلف كرنے والا ہوں ۔ (ابن كثیر : 4؍45)
سوال: عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آیت میں غور وفكر كركے طلباء كے آداب میں سے ایك ادب مستنبط كیا ہے ، بتائیے وه كیا ہے؟
قُلۡ مَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُتَكَلِّفِينَ ٨٦
فرمانِ الٰہی (وما أنا من المتكلفين) ( اور نہ ہى میں تكلف كرنے والوں میں سے ہوں)سے یہ قول اخذ كیاگیا ہے كہ آپ ﷺ جو دین لائے اس میں كوئى تكلف نہیں ہے۔ یعنى دینی فرائض و احکام میں کوئی مشقت نہیں ہے، اسلام میں سہولت وآسانى سے یہی مراد ہے۔ اور اس راحت وآسانی كى بنیاد یہ ہے كہ الله نے رسول ﷺكى طبیعت اور روح ِ شریعت كے بیچ یک گونہ تناسب ركها ہے۔ (ابن عاشور: 23؍309)
سوال: اس آیت كریمہ كى روشنى میں اسلام كى سہولت وآسانى بیان كیجئے.
إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ ٨٧
یہ عظیم سورت پُرحکمت نصیحتوں پر مشتمل ہے ، اسى لئے الله نے سورت كے شروع میں قسم كھائى كہ یہ (قرآن) نصیحت والا ہے، اور آخر میں یہاں اسكى یہ صفت بیان كى گئى كہ یہ سارے جہان والوں كیلئے سراسر نصیحت ہے، نیز اللہ تعالیٰ اس سورت میں كثرت سے اس کا یاددلایا۔ جیسے فرمایا: (واذكر عبدنا)، (واذكر عبادنا)، (رحمة منا وذكرى) اور(هذا ذكر). (السعدى: 717)
سوال: كس امر کو اس سورت میں كثرت سے ذكر كیا گیا ہے ؟ نیز اس كا دو فائده بھى بیان كیجئے.
تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ ١
كلام متكلم كى صفت ہے، اور صفت موصوف كے تابع ہوتى ہے، لہٰذا جس طرح الله ہر ناحیہ سے كامل ہے، اس كا كوئى ثانى نہیں ، اسى طرح اس كا كلام بھى ہر اعتبار سے مكمل ہے جس کی كوئى نظیر نہیں ہے۔
لہٰذا قرآن کی صفت اور اس کے عظیم رتبے پر دلالت کے لئے اتنی ہی بات کافی ہے ۔ (السعدى: 718)
سوال: اس آیت میں قرآن كى عظمت كى خبر دى گئى ہے، اسے بیان كیجئے.
أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ
ابن العربى كہتےہیں كہ یہ آیت ہر عمل میں اخلاص نیت كے وجوب كى دلیل ہے۔ (القرطبى: 18؍246)
سوال: دل كا وه کونسا عمل ہے جو اس آیت سے معلوم ہوتا ہے اور بتائیے كہ كیا وه واجب ہے؟
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ ٣
جب بنده الله پر جھوٹ باندھنے اور اس کو انكار كرنے میں ہمہ تن مشغول ہوجاتا ہے تو اس پر الله كى ناراضگى بڑھ جاتی ہے اور وه ہدایت سے كوسوں دور ہوجاتاہے جیسا كہ الله كا ارشاد ہے: الله تعالىٰ ان لوگوں كو كیسے ہدایت دےگا جو اپنے ایمان لانے اور رسول كى حقانیت كى گواہى دینے اور اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے كےبعد بھی كافر ہوجائیں،ا لله ایسے بے انصاف لوگوں كو راه راست پر نہیں لاتا۔[آل عمران: 86]۔ (ابن عاشور: 23؍324)
سوال: آیت كى روشنى میں الله تعالىٰ پر جھوٹ كى خطرناكى بیان كیجئے.
لَّوۡ أَرَادَ ٱللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدٗا لَّٱصۡطَفَىٰ مِمَّا يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ سُبۡحَٰنَهُۥۖ هُوَ ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ ٤
الله تعالىٰ نےاپنے آپ كو اولاد اختیار كرنے سے پاك قرار دیا ہے، پھر اپنے لئے یكتائى كا وصف بیان فرمایا، اس لئے کہ اولاد كا ہونا وحدانیت كےخلاف ہے ، اسلئے بھی كہ اگر اسكى كوئى اولاد ہوتى تو اسى كى جنس سے ہوتى حالانكہ اس كى كوئى جنس ونسل نہیں ہے وه تو یك وتنہا ہے۔
اور الله نے اپنى صفت قہار بتائى ہے تاكہ اس سے ہمسر اور شریك كى نفى ہوجائے ، كیونكہ ہر چیز الله كے قہر وغلبے كے ماتحت ہے، پھر بھلا وه الله کی ساجھی دار كیسے ہوسكتى ہے! (ابن جزى: 2؍263(
سوال: الله نے آیت كا خاتمہ(الواحد القهار)سے كیا ہے اور اس میں آیت كے مضمون سے ایك باریك سى مناسبت پائى جاتى ہے اسے بیان كیجئے۔