قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﯓ

ﱏ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ
٤٣ ٤٣
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ٤٤ ٤٤
ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ٤٥ ٤٥
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ٤٦ ٤٦
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ٤٧ ٤٧
ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ٤٨ ٤٨
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ٤٩ ٤٩
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ٥٠ ٥٠ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ٥١ ٥١
ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ٥٢ ٥٢
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ٥٣ ٥٣ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ٥٤ ٥٤
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
٥٥ ٥٥
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ٥٦ ٥٦ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ٥٧ ٥٧
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ٥٨ ٥٨ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ٥٩ ٥٩
ﯹ
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ٦٠ ٦٠

ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ٦١ ٦١
456
سورۃ ص آیات 0 - 44

وَخُذۡ بِيَدِكَ ضِغۡثٗا فَٱضۡرِب بِّهِۦ وَلَا تَحۡنَثۡۗ إِنَّا وَجَدۡنَٰهُ صَابِرٗاۚ

اسكى وجہ یہ ہے کہ ایوب علیہ السلام اپنى بیوى پر كسى وجہ سے ناراض ہوگئے تھے اور بیمارى كى حالت میں قسم كھالى كہ اگر الله نے انہیں شفادى تو وه اس (بیوی) کو سو كوڑے ماریں گے چنانچہ جب الله نے شفا دے دى تو ظاہر ہے پورى پورى خدمت كرنے والى انتہائى مہربانی و شفقت و احسان كا برتاؤ كرنےوالى بیوی كا بدلہ مار نہیں تھا۔
اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا كہ ایك گٹھا کھجور کا خوشہ لیں جس میں سوتنکے ہوں اور اسى سے ایك بار بیوى كو ماریں، تاكہ قسم پورى ہوجائےاور وہ قسم ٹوٹنے سے بچ جائیں۔ اور نذر بھی پوری ہوجائے یہ کشادگی اللہ سے ڈرنے والوں اور اس کی طرف رجوع کرنے والوں کے لئے ہے۔ (ابن كثیر: 4؍41)
سوال: جو شخص صحیح معنوں میں الله سے ڈرتا ہے الله تعالىٰ اس كے لئے كوئى راستہ نكال دیتاہے ، آیت كى روشنى میں اسكى وضاحت كیجئے.

سورۃ ص آیات 0 - 45

وَٱذۡكُرۡ عِبَٰدَنَآ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ أُوْلِي ٱلۡأَيۡدِي وَٱلۡأَبۡصَٰرِ ٤٥

( الأيدي )الید كى جمع ہے، یہ نیك كاموں میں انكى قوت وطاقت سے عبارت ہے، اسكى تعبیر ہاتھ سے كى گئى ہے كیونكہ اكثر كام ہاتھوں سے انجام پاتےہیں اور (الأبصار) یعنى آنكھیں تو یہ ان کی قوت فہم اور كثرت علم سے عبارت ہے، جیسے اہل عرب “ابصر الرجل”اس شخص كیلئے كہتےہیں جس كیلئے معاملات واضح ہوں ، اور وہ ہر گوشے سے واقف ہو۔(ابن جزى: 2؍257)
سوال: الله تعالىٰ نے اپنے انبیاء كیلئے (أولى الأيدي والأبصار) كى صفت مدح استعمال كى ہے، ان صفات كى وضاحت كیجئے.

سورۃ ص آیات 0 - 49

هَٰذَا ذِكۡرٞۚ وَإِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ لَحُسۡنَ مَـَٔابٖ ٤٩

یہ انبیائے کرام کا تذکرہ ہے، یعنى دنیا میں ان کا ذکرخیر ہے اوریہ تذکرہ ایسا شرف ہے جسے لوگ دنیا میں ہمیشہ یاد رکھیں گے اور متقیوں كے لئے بہترین ٹھكانہ ہے ۔ یعنى ان كے لئے دنیا میں اس ذكر خیر كےساتھ آخرت میں اچھى جگہ ہے۔(القرطبى: 18؍226)
سوال: اس آیت میں دنیا وآخرت میں متقیوں کے بعض بدلے کا ذكر كیا گیا ہے، اسكى وضاحت كیجئے.

سورۃ ص آیات 0 - 50

مُّفَتَّحَةٗ لَّهُمُ ٱلۡأَبۡوَٰبُ ٥٠

یہ مکمل امن و امان کی بھی ایک دلیل ہے، كہ وہاں ہمیشگى والى جنت میں كوئى ایسى چیز نہیں ہوگى جسكى وجہ سے اسكے دروازے بند ہوں۔ (السعدى: 715)
سوال: آیت میں اہل جنت كى ایك عظیم نعمت كى طرف اشاره ہے، جس سےالله ا نہیں سرفراز كرےگا، وه كیا ہے؟

سورۃ ص آیات 0 - 52

۞وَعِندَهُمۡ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرۡفِ أَتۡرَابٌ ٥٢

اور انكےپاس بڑى بڑى آنكھوں والى حوریں ہونگى ، انكى نگاہیں اپنے شوہروں سے تجاوز نہیں کریں گی اور ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی انہیں پر ٹکی رہیں گی، ایسا ان سب كى بے پناه خوبصورتى اور ہرایک کی دوسرے سے بھرپور محبت کرنے اور ان میں دوسروں کی خواہش نہ ہونے کی وجہ سے ہوگا نیز وہاں نہ کوئی اپنے ساتھی کے بدیل پر راضی ہوگا اور نہ ہی اس کے عوض پر۔ (السعدى: 715)
سوال: حوروں كى صفت (قاصرات الطرف) (نیچى نگاه والیاں) سے بیان كرنے میں ایك ایسے اخلاق كى طرف اشاره ہے جس سے دنیا میں مسلمان عورت كو متصف ہونا چاہئیے ، اور شاید وہى صفت اس كے جنت میں داخلے كا سبب بن جائے ۔ بتائیے وه كیا ہے؟

سورۃ ص آیات 0 - 54

إِنَّ هَٰذَا لَرِزۡقُنَا مَا لَهُۥ مِن نَّفَادٍ ٥٤

وه اس طور پر كہ جب وه جنت كے درختوں میں سے كسى درخت كا پھل لیكر كھائیں گے تو اسكى جگہ دوسرا پھل تیار ہوجائے گا اور یوں انكے لئے ہمیشہ رہےگا كبھى ختم نہ ہوگا۔(الطبرى: 21؍223)
سوال: آیت میں جنت اور دنیا كےپھلوں كےدرمیان كونسا فرق بیان كیا گیاہے؟

سورۃ ص آیات 0 - 60

قَالُواْ بَلۡ أَنتُمۡ لَا مَرۡحَبَۢا بِكُمۡۖ أَنتُمۡ قَدَّمۡتُمُوهُ لَنَاۖ فَبِئۡسَ ٱلۡقَرَارُ ٦٠

یعنى تم نے ہمیں نافرمانى كى دعوت دى پس ہمارے اور تمہارے سب كیلئےٹھہرنے کی بڑى برى جگہ ہے، وه كہیں گے یعنى پیروكار كہیں گے : اے ہمارے رب! جس نے ہمارے لئے یہ(نافرمانی کی دعوت) پیش كیا ہے اسے جہنم كا دہرا عذاب دے۔(القرطبى: 18؍233)
سوال: نافرمان مقتداؤں كےبارےمیں پیروكاروں كا قیامت كے دن كیا موقف ہوگا ؟ اور اس سے آپ كیا استفاده كر رہےہیں؟