قرآن
ﯓ
ﱏ
ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ١٨ ١٨ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ١٩ ١٩ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ
ﭱ ﭲ ٢٠ ٢٠ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ٢١ ٢١ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ٢٢ ٢٢ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ٢٣ ٢٣ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
٢٤ ٢٤ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ٢٥ ٢٥
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ
ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ٢٦ ٢٦
ٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱذۡكُرۡ عَبۡدَنَا دَاوُۥدَ ذَا ٱلۡأَيۡدِۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ ١٧
داؤد علیہ السلام اور انكے بعد دیگر انبیاء كا تذکرہ رسول الله ﷺكى تسلى كیلئے ہے، انكے غم كا ازالہ اور ان كى مدد كا وعده ہے اور اس صبر پر تعاون ہے جس كا انہیں حكم دیا گیا تھا، كیونكہ الله نے داؤد علیہ السلام پر اپنے ان احسانات كا تذكره كیا: پہاڑوں وپرندوں كو انكے لئے مسخر كرنا، انكى بادشاہت كى صلابت وسختى، انہیں حكمت سے نوازنا اور درست فیصلے كى صلاحیت بخشنا پھر اس بات پر خاتمہ كرنا كہ انكے لئے آخرت میں بڑا مرتبہ اور اچھا ٹھكانہ ہے۔ گویا كہ الله یہ فرما رہا ہے كہ اے محمد! جس طرح ہم نے ان نعمتوں سے داؤدعلیہ السلام كو نوازا ہے آپ کو بھى نوازیں گے، لہذا آپ صبر كریں اور ان كى باتوں سے دلبرداشتہ نہ ہوں۔ (ابن جزى: 2؍249)
سوال: اللہ تعالیٰ کامحمد ﷺكو صبر اور داؤد علیہ السلام کو یاد کرنے کا حکم دینے میں کیا مناسبت ہے؟
ٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱذۡكُرۡ عَبۡدَنَا دَاوُۥدَ ذَا ٱلۡأَيۡدِۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ ١٧
داؤد علیہ السلام كے قصے کے فوائداور حکمتیں:الله اپنى اطاعت كے كاموں میں قلب وبدن كى قوت پسند فرماتاہے اور اسكى تعریف بیان كرتاہے، اسلئے كہ اس سے جس قدر بکثرت و حسن و خوبی کے ساتھ نیکی کے کام انجام پاتے ہیں وه کمزوری اور لاغری میں قطعی انجام نہیں پاتے ہیں۔ پس بندوں کو چاہئے كہ طاقت كے اسباب اپنائے اور ایسی سستی اور کاہلی پر اعتماد نہ کرے جو قوت و نشاط کو برباد کرکے نفس کو کمزور کردے۔ (السعدى: 713)
سوال: الله تعالىٰ اپنى طاعت میں قوت وطاقت پسند فرماتا ہے، یہ چیز آپ اس وصف كى روشنى میں بیان كیجئے جو الله نے داؤد علیہ السلام كیلئے (ذَا الأيد) (یعنى طاقت والا) كہہ كر بیان كیا ہے.
وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡحِكۡمَةَ وَفَصۡلَ ٱلۡخِطَابِ ٢٠
داؤد علیہ السلام كے قصے كاایك فائده یہ بھى ہے كہ بندے پر اللہ تعالیٰ کی سب سے عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ كہ الله اسے علم ِنافع سے نوازے اور لوگوں كے بیچ فیصلے کرنے کا ملکہ بھی حاصل ہوجائے جیسا كہ الله نے اپنے بندے داؤد علیہ السلام كو ان صفات سے نوازا تھا۔(السعدى: 713)
سوال: الله تعالىٰ نے داؤد علیہ السلام كو حكمت سے نواز كر ان پر جواحسان كیا تھا اس سے آپ كیا فائده اخذ كرسكتےہیں؟
إِنَّ هَٰذَآ أَخِي لَهُۥ تِسۡعٞ وَتِسۡعُونَ نَعۡجَةٗ وَلِيَ نَعۡجَةٞ وَٰحِدَةٞ فَقَالَ أَكۡفِلۡنِيهَا وَعَزَّنِي فِي ٱلۡخِطَابِ ٢٣ قَالَ لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِۦۖ وَإِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡخُلَطَآءِ لَيَبۡغِي بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٍ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَقَلِيلٞ مَّا هُمۡۗ وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّٰهُ فَٱسۡتَغۡفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّۤ رَاكِعٗاۤ وَأَنَابَ۩ ٢٤
بنو اسرائیل کی کتابوں میں یہ قصہ نازیبا انداز میں وارد ہے ، جسے قصہ گووؤں نے اس امت کے ابتدائی دور میں بیان کیا تو على رضی اللہ عنہ نے كہا كہ داؤد علیہ السلام كے بارےمیں ان قصہ خوانوں كى بات اگر كوئى بیان كرےگا تو میں اس پر دو حد نافذ كرتےہوئے كوڑے لگاؤں گا كیونكہ اس نے ایسے نفوس قدسیہ کے بے حرمتی کی جن کے مقام و مرتبہ کو اللہ نے بلند کیا ہے۔ (ابن عطیہ : 4؍499)
سوال: على رضی اللہ عنہ سے اس قصے كے سلسلے میں جو منقول ہے اس میں مقام نبوت کا تحفظ ہے اس کی وضاحت كیجئے.
وَإِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡخُلَطَآءِ لَيَبۡغِي بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٍ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَقَلِيلٞ مَّا هُمۡۗ وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّٰهُ فَٱسۡتَغۡفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّۤ رَاكِعٗاۤ وَأَنَابَ۩ ٢٤
سوائے ان كے جو ایمان لائے اور نیك كام كئےہیں ، كیونكہ یہ كسى پر ظلم نہیں كرتے اور ایسے لوگ بہت كم ہیں، یعنى نیك اور پرہیزگار لوگ ۔(القرطبى: 18؍172)
سوال: یہ آیت كریمہ پارٹنر(شریك) اختیار كرتےوقت ایمان اور نیكى كى رعایت پر ابھارتى ہےاس کی وضاحت کیجئے.
وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّٰهُ فَٱسۡتَغۡفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّۤ رَاكِعٗاۤ وَأَنَابَ۩ ٢٤ فَغَفَرۡنَا لَهُۥ ذَٰلِكَۖ
توبہ و استغفار اور عبادت – بطور خاص نماز- گناہوں کو مٹانے والی ہے، كیونكہ اللہ نے داؤد علیہ السلام كے گناه كى بخشش کو ان کے استغفار اور سجدے کا نتیجہ قرار دیا ہے۔(السعدى: 713)
سوال: گناه کو مٹانے میں نماز كى اہمیت کو آیت كى روشنى میں واضح كیجئے.
يَٰدَاوُۥدُ إِنَّا جَعَلۡنَٰكَ خَلِيفَةٗ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱحۡكُم بَيۡنَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ ٱلۡهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدُۢ بِمَا نَسُواْ يَوۡمَ ٱلۡحِسَابِ ٢٦
اكثر كمالات كا حال یہ ہے کہ وه نفس پر گراں گزرتى ہیں كیونكہ انكا تعلق تہذیب نفس اور حیوانى پستى سے نفس کو بالا وبرتر کرنے سے ہوتاہے، چنانچہ نفس كى پیروى میں انہماک عموما رزالت كى كھائى میں دھكیل دیتا ہے۔(ابن عاشور: 23؍244)
سوال: خواہشات نفس كى پیروى بلند درجات تك رسائى كى راه میں ركاوٹ ہے، اسے آیت كى روشنى میں بیان كیجئے.