قرآن
ﮎ
ﰻ
ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ
ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ٢٦٥ ٢٦٥ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ٢٦٦ ٢٦٦ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ٢٦٧ ٢٦٧ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
٢٦٨ ٢٦٨ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ٢٦٩ ٢٦٩
وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمُ ٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثۡبِيتٗا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ
جو شخص مال جو آدھی روح ہے اسے خرچ کرنے پر اپنے نفس کوراضی کرلے اور نفس جھک کر اس کا تابعدار بن جائے ۔نیز خواہشات وشہوات کی پیروی کرنے کی اس کی چاہت کم ہوجائے تو نتیجہ میں نفس کو تمام عبادات کے لئے تیار کرلینا اس کے لئے آسان ہوجاتا ہے۔مگر جب وہ نفس کو (آزاد) چھوڑدے جبکہ اس میں فطری طور سے خامیاں موجود ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ خواہشات کی پیروی اور رذالت سے چمٹ جانے میں اس کی حرص وہوس بڑھ جاتی ہے ۔ (البقاعی:۱؍۵۱۸)
سوال:خرچ کرنے پر نفس کی تربیت کرنے کی کیا اہمیت ہے؟آیت کریمہ کی روشنی میں بیان کیجئے.
وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمُ ٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثۡبِيتٗا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ
خرچ کرنے کی نیکی پر دو مصیبتیں آتی ہیں:
1۔یا تو خرچ سے انسان لوگوں کی تعریف اور ستائش چاہتا ہو۔یہ ریاکاری کی آفت ہے۔
2۔ یا پھر ارادے کی کمی اورکمزوری کے ساتھ ہچکچاتے ہوئے خرچ کرے۔لیکن مومنین ان دونوں آفتوں سے محفوظ رہتے ہیں۔چنانچہ وہ اللہ کی رضا و خوشنودی کی خاطر خرچ کرتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کا کوئی اور مقصد نہیں ہوتا۔نیز وہ دل کی پختگی اور یقین کے ساتھ خرچ کرتے ہیں۔ (السعدی: ۱۱۴)
سوال:مسلمان کو خرچ کرنے میں کون سی آفتیں پیش آتی ہیں؟
وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمُ ٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثۡبِيتٗا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ كَمَثَلِ جَنَّةِۢ بِرَبۡوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٞ فَـَٔاتَتۡ أُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ فَإِن لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٞ فَطَلّٞۗ
یعنی مومنین زکاۃ نکالتے ہیں تو ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ ان کے دل اس پر خوش اور مطمئن ہوتے ہیں،ثواب کا یقین رکھتے ہیں اوراللہ کے وعدے کو سچا مانتے ہیں ، وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو مال نکالا ہے ،وہ اس مال سے بہتر ہے جسے چھوڑدیا اور خرچ نہیں کیا۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ (خرچ کرتے ہوئے وہ) یقین رکھتے ہیں کہ اللہ ان کو اس کا (بہتر) بدل عطافرمائیگا۔ (البغوی:۱؍۲۸۶)
سوال: زکاۃ یا صدقہ نکالتے وقت مومن کا کیا حال ہوتا ہے بیان کیجئے؟
ٱلشَّيۡطَٰنُ يَعِدُكُمُ ٱلۡفَقۡرَ وَيَأۡمُرُكُم بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ
شیطان کا وعدہ اس کے حکم سے پہلے ذکرکیاگیا ہے۔اس لئے کہ وعدے کے ذریعہ وہ آدمی کا اطمینان اور اعتماد حاصل کرتاہے ۔پھر جب بندہ اس سے مطمئن ومانوس ہوجاتا ہے اور فقرومحتاجی سے ڈر جاتا ہے تب شیطان اس پر اپنے حکم کے ساتھ مسلط ہوجاتاہے۔ (الألوسی: ۳؍۴۰)
سوال:شیطان کا محتاجگی کا وعدہ ، اس کی برائیوں کے حکم سے پہلے کیوں ذکر کیا گیا؟
ٱلشَّيۡطَٰنُ يَعِدُكُمُ ٱلۡفَقۡرَ وَيَأۡمُرُكُم بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ وَٱللَّهُ يَعِدُكُم مَّغۡفِرَةٗ مِّنۡهُ وَفَضۡلٗاۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ ٢٦٨
انسان کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے باز رکھنے میں شیطان کا بڑا دخل ہے ۔اسی کے ساتھ ساتھ وہ گناہوں کا حکم اور گناہوں کے لئے خرچ کرنے کا بھی حکم دیتا ہے۔ (القرطبی:۴؍۳۵۴)
سوال:واضح کیجئے کہ مومن صدقہ کا ارادہ کرتا ہے توشیطان اس کے ساتھ کیسی چال چلتا ہے؟
يُؤۡتِي ٱلۡحِكۡمَةَ مَن يَشَآءُۚ وَمَن يُؤۡتَ ٱلۡحِكۡمَةَ فَقَدۡ أُوتِيَ خَيۡرٗا كَثِيرٗاۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٢٦٩
بعض حکماء کا قول ہے کہ:جس شخص کو علم اور قرآن کی نعمت ملی ہواسے اپنی قدرومنزلت کو پہچاننا چاہئے اور دنیا دار لوگوں کے سامنے ان کی دنیا کی وجہ سے ذلت وپستی اختیار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اسے جو نعمت ملی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ بہتر اور افضل ہے جو دنیا والوں کو حاصل ہے۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے (پوری )دنیا کو متاعِ قلیل(تھوڑا ساسامان) کا نام دیا ہے ۔چنانچہ ارشاد فرمایا: (قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ) (سورۂ نساء:۷۷)فرما دیجئے: دنیا کی پونجی بہت کم ہے ۔ جبکہ اس نے علم اور قرآن کو (مذکورہ آیت میں)(خَيۡرًا كَثِيرًاۗ) (بہت زیادہ بھلائی )کہا ہے۔ (القرطبی:۴؍۳۵۷)
سوال:جسے علم اور قرآن سے نوازا گیا ہے اس کا مقام ومرتبہ بیان کیجئے.
يُؤۡتِي ٱلۡحِكۡمَةَ مَن يَشَآءُۚ وَمَن يُؤۡتَ ٱلۡحِكۡمَةَ فَقَدۡ أُوتِيَ خَيۡرٗا كَثِيرٗاۗ
دل کی درستگی،اس کا حق اور اس کے پیدا کئے جانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ چیزوں کو سمجھے ۔میں یہ نہیں کہتا کہ صرف جانے ۔ کیونکہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کسی چیزکو جان تو لیتا ہے لیکن اسے سمجھتانہیں ۔بلکہ اس چیز سے غافل ہوتا ہے ۔اسے لغو سمجھ کر ضائع کردیتا ہے ۔اورجو شخص اسے سمجھ لیتا ہے وہ اسےمقیدو محفوظ کرلیتا ہے اور اپنے دل میں بسالیتا ہے۔چنانچہ جس وقت بھی اسے اس چیز کی ضرورت پڑتی ہے وہ اس کے کام آتی ہے (اور وہ محتاج نہیں رہتا۔)اس طرح اس کا عمل،قول کے موافق اور اس کا ظاہر،باطن کے مطابق ہوجاتا ہے ۔یہی وہ شخص ہے جسے حکمت عطا کی گئی ہے۔ (ابن تیمیہ:۱؍۵۹۹)
سوال:عقل و حکمت کی کیا پہچان ہے؟