قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

٧٧ ٧٧ ٧٨ ٧٨
٧٩ ٧٩
٨٠ ٨٠
٨١ ٨١
٨٢ ٨٢
٨٣ ٨٣
٨٤ ٨٤
ﭿ ٨٥ ٨٥

٨٦ ٨٦
٨٧ ٨٧ ٨٨ ٨٨
٨٩ ٨٩
٩٠ ٩٠
٩١ ٩١
٩٢ ٩٢
٩٣ ٩٣
٩٤ ٩٤
٩٥ ٩٥
٩٦ ٩٦
٩٧ ٩٧
٩٨ ٩٨
٩٩ ٩٩

١٠٠ ١٠٠
١٠١ ١٠١
ﯿ
١٠٢ ١٠٢
449
سورۃ الصافات آیات 0 - 84

إِذۡ جَآءَ رَبَّهُۥ بِقَلۡبٖ سَلِيمٍ ٨٤

یعنى شرك وشك سے پاک دل ۔ عوف الاعرابى كا كہنا ہے كہ میں نے محمد بن سیرین سے پوچھا كہ بے عیب دل كیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: الله کے واسطے مخلوق كى خیرخواہى كرنے والا۔ (القرطبى: 18؍50)
سوال: بے عیب دل كى وہ صفات كیا ہیں جن سے ہمیں اپنے دلوں کو متصف كرنا چاہئے؟

سورۃ الصافات آیات 0 - 87

فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٨٧

الله رب العالمین کا تمہارے ساتھ کس برتاؤ کی تمہیں توقع ہے حالانكہ تم نے اس كے ساتھ غیروں كى عبادت كى ہے، یہ انكے شرك پر قائم رہنے پر سخت سزا كى دھمكى ہے۔ (السعدى : 705)
سوال: آیت میں مشركین كو ڈرایا اور خوف دلایا گیا ہے، اسكى وجہ بیان كیجئے.

سورۃ الصافات آیات 0 - 91

فَرَاغَ إِلَىٰٓ ءَالِهَتِهِمۡ فَقَالَ أَلَا تَأۡكُلُونَ ٩١

ابراہیم علیہ السلام نے یہ بات ان بتوں کے پجاریوں كا مذاق اڑاتے ہوئے كہى تھى ۔ (ابن جزى: 2؍238)
سوال: ابراہیم علیہ السلام نے بتوں كو كیسے مخاطب كیا حالانكہ وه تو كچھ بھى نہیں سمجھتے بوجھتے ہیں؟

سورۃ الصافات آیات 0 - 99

وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهۡدِينِ ٩٩

یہ آیت علیحدگی اختیار کرنے اور ہجرت كرنے كى دلیل ہے اوراس كام کو سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت انجام دیا جب الله نے انہیں نار نمرود سے نجات د ى تھى، انہوں نے كہا: (إني ذاهب إلى ربي) یعنى اپنى جائے پیدائش اور اپنى قوم كا شہر چھوڑ كر ایسی جگہ جارہاہوں، جہاں میں اپنے رب كى عبادت كرسكوں۔ (القرطبى: 18؍59)
سوال: مومن كیلئے دورى اور ہجرت كب مشر وع ہے؟

سورۃ الصافات آیات 0 - 100

رَبِّ هَبۡ لِي مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ١٠٠

ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے نیک اور صالح اولاد مانگی كیونكہ اولاد كى نعمت تب مكمل ہوتی ہے جب وه صالح وپرہیزگار ہو۔ بیٹوں كى صالحیت باپوں كى آنكھوں كى ٹھنڈك ہے ، اور اولاد کی پرہیزگاری وصالحیت میں سے یہ ہےكہ وه اپنے والدین كے فرمانبردار ہوں۔ (ابن عاشور: 23؍148)
سوال: نیك اولاد كیلئے دعاء كى اہمیت بیان كیجئے.

سورۃ الصافات آیات 0 - 102

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ ٱلسَّعۡيَ قَالَ يَٰبُنَيَّ إِنِّيٓ أَرَىٰ فِي ٱلۡمَنَامِ أَنِّيٓ أَذۡبَحُكَ فَٱنظُرۡ مَاذَا تَرَىٰۚ قَالَ يَٰٓأَبَتِ ٱفۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُۖ سَتَجِدُنِيٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّٰبِرِينَ ١٠٢

اگر یہ كہا جائے كہ الله كى جانب سے ایك حتمى معاملہ میں انہوں نے مشوره كیوں كیا؟ تو جواب یہ ہوگا كہ انہوں نے مشوره اس لئے نہیں كیا تھا كہ اپنى رائےسے پلٹ جائیں بلكہ بیٹے كى بات یقینى طور سے جاننا چاہتے تھے تاكہ اس كا دل مضبوط ہوجائے، اور یہ اسكے لئے صبر كى تمہید بن جائے چنانچہ بیٹے نے بہترین جواب دیا۔ (ابن جزى: 2؍238)
سوال: ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے سے مشوره كیوں كیا جبكہ انبیاء كا خواب سچا ہوتاہے؟

سورۃ الصافات آیات 0 - 102

سَتَجِدُنِيٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّٰبِرِينَ ١٠٢

بیٹے نے باپ كو بتایا كہ صبر كیلئے وه پورے طور پر تیار ہے اور اسے الله كى مشیئت سے اس لئے جوڑدیا كیونكہ اس كى مرضى كے بغیر كچھ نہیں ہوتا ہے۔ (السعدى: 706)
سوال: اسماعیل علیہ السلام نے اپنے صبر كو الله تعالىٰ كى مشیئت سے جوڑا ، اسكا كیا فائده ہے؟