قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٢٨ ٢٨

٢٩ ٢٩

٣٠ ٣٠

ﭿ ٣١ ٣١

٣٢ ٣٢

٣٣ ٣٣

٣٤ ٣٤

٣٥ ٣٥


٣٦ ٣٦

٣٧ ٣٧

٣٨ ٣٨

٣٩ ٣٩

ﯿ ٤٠ ٤٠
442
سورۃ يس آیات 0 - 28

۞وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَىٰ قَوۡمِهِۦ مِنۢ بَعۡدِهِۦ مِن جُندٖ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ ٢٨

اس کا معنی یہ ہے: کہ الله نے انہیں جبریل علیہ السلام كى ایك چیخ سے ہلاك وبرباد كردیا، اور اس كیلئے آسمان سے كوئى لشكر اتارنے كى ضرورت نہیں پڑى؛ كیونكہ اس كے مقابلے میں لوگ انتہائى كمتر ہیں۔ (ابن جزى: 2؍223)
سوال: آیت كى روشنى میں بستى والوں كى كمزورى بیان كیجئے اور بتائیے كہ اگر الله انہیں عذاب دینا چاہے تو یہ اسكے لئے كتنا آسان ہے.

سورۃ يس آیات 0 - 28

۞وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَىٰ قَوۡمِهِۦ مِنۢ بَعۡدِهِۦ مِن جُندٖ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ ٢٨

یعنى انہیں سزا دینے اور ہلاك كرنے كیلئے ہمیں آسمان سے كوئى لشكر اتارنے کی ضرورت نہیں پڑی (وما كنا منزلين) اور ہم (كسى قوم كى ہلاكت كیلئے) فرشتوں كو اتارا نہیں كرتے اسكى ضرورت اس لئے نہیں ہے كیونكہ الله كا اقتدار جتنا عظیم ہے، بنو آدم اتنے ہى كمزور ہیں ، الله پاك كى جانب سے معمولى عذاب ہى انكے لئے كافى ہے۔ (السعدى:۶۹۵)
سوال: اس آیت كى روشنى میں انسان کی كمزورى واضح كیجئے.

سورۃ يس آیات 0 - 30

يَٰحَسۡرَةً عَلَى ٱلۡعِبَادِۚ مَا يَأۡتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٣٠

اللہ کے رسولوں علیہم السلام کا مزاق اڑانے کی وجہ سےبندے خود اپنے آپ پرحسرت وندامت اور افسوس كا اظہار کریں گے۔
سوال: بندوں كى جانب سے اظہار حسرت كا سبب بیان كیجئے.

سورۃ يس آیات 0 - 33

وَءَايَةٞ لَّهُمُ ٱلۡأَرۡضُ ٱلۡمَيۡتَةُ أَحۡيَيۡنَٰهَا وَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبّٗا فَمِنۡهُ يَأۡكُلُونَ ٣٣

الله تعالىٰ نے لوگوں کواس مثال كے ذریعے مردوں كو زنده كرنے پر تنبیہ فرمائى ہے،اور انہیں اپنى توحید اور اپنے كمال قدرت كى یاد دلائى ہےوہ مثال یہ ہے كہ الله تعالیٰ نے مرده زمین سے گھاس پھوس اور غلے جات پیدا فرمایا ہے۔ (القرطبى: 17؍440)
سوال: یہاں مرده زمین کو ز نده كرنے کے تذکرہ كافائده كیا ہے؟

سورۃ يس آیات 0 - 36

سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡأَزۡوَٰجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلۡأَرۡضُ وَمِنۡ أَنفُسِهِمۡ وَمِمَّا لَا يَعۡلَمُونَ ٣٦

یعنى ان لوگوں پر تعجب ہے كہ یہ سارى نشانیاں دیكھنے كے باوجود بھى كفر كرتےہیں، یہاں معلوم ہوا كہ اگر كوئى كسى چیز پر تعجب كرے تو "سبحان الله" كہے۔(القرطبى: 17؍441)
سوال: انسان كسى چیز پر تعجب كے وقت كیا كہے؟

سورۃ يس آیات 37 - 40

وَءَايَةٞ لَّهُمُ ٱلَّيۡلُ نَسۡلَخُ مِنۡهُ ٱلنَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظۡلِمُونَ ٣٧ وَٱلشَّمۡسُ تَجۡرِي لِمُسۡتَقَرّٖ لَّهَاۚ ذَٰلِكَ تَقۡدِيرُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ ٣٨ وَٱلۡقَمَرَ قَدَّرۡنَٰهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَٱلۡعُرۡجُونِ ٱلۡقَدِيمِ ٣٩ لَا ٱلشَّمۡسُ يَنۢبَغِي لَهَآ أَن تُدۡرِكَ ٱلۡقَمَرَ وَلَا ٱلَّيۡلُ سَابِقُ ٱلنَّهَارِۚ وَكُلّٞ فِي فَلَكٖ يَسۡبَحُونَ ٤٠

یہ ساری چیزیں خالق کائنات اور اس کی صفات اور یہاں پر بطور خاص صفت قدرت، حکمت اور علم کی واضح دلیلیں ہیں۔(السعدى: 696)
سوال: اللہ تعالیٰ کی وہ نمایاں صفتیں کیا کیا ہیں جن پر مذكوره آیتیں دلالت كررہى ہیں؟

سورۃ يس آیات 0 - 38

وَٱلشَّمۡسُ تَجۡرِي لِمُسۡتَقَرّٖ لَّهَاۚ ذَٰلِكَ تَقۡدِيرُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ ٣٨

اللہ تعالیٰ نےیہاں عزیز اور علیم دو صفات کا ذكر فرمایا ہے، اور ایسا ستاروں كى گردش كے نظام سے متعلق ان كے معانى كى مناسبت كیوجہ سےہے۔ کیونکہ صفت عزت عظیم سیارے كى تسخیر کے لئے موزوں ہے جبکہ صفت علم اس دقیق اور منفرد نظام کے لئے مناسب ہے۔ (ابن عاشور: 23؍21)
سوال: آیت كریمہ كو عزیز اور علیم كى صفت سے ختم كرنے كى كیا مناسبت ہے؟