قرآن
ﮰ
ﱎ
١٣ ١٣ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ١٤ ١٤ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ١٥ ١٥ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ١٦ ١٦ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ١٧ ١٧ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ١٨ ١٨ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ١٩ ١٩ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ٢٠ ٢٠ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ٢١ ٢١ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ٢٢ ٢٢ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ٢٣ ٢٣ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ٢٤ ٢٤ ﯰ ﯱ
ﯲ ﯳ ٢٥ ٢٥ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ
ﯼ ٢٦ ٢٦ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ٢٧ ٢٧
وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلًا أَصۡحَٰبَ ٱلۡقَرۡيَةِ
اگر بستى كے تعین میں كوئى فائده ہوتا تو الله تعالىٰ ضرور اسكا تعین فرمادیتا ۔اس سے آپ كو معلوم ہوجائےگا كہ علم صحیح كا طریق حقائق كےسامنے سرتسلیم خم كرنا اور ان امور سےتعرض كو ترك كرنا ہے جن كا كوئى فائده نہیں، اور اس طرح نفس پاك ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے ، جبكہ جاہل سمجھتا ہے كہ علم میں اضافہ ان اقوال كےبیان كرنے سے ہے جن كى كوئى دلیل وبرہان نہیں اور ان اقوال كو بیان كرنے سے ذہن كو تشویش میں مبتلا كرنے اور اسے مشكوك امور كا عادى بنانے كے سوا كوئى فائده نہیں۔ (السعدى: 693)
سوال: قرآن كے مبہم آیات كے ساتھ تعامل كا بہتر طریقہ كیا ہے؟ اوركیوں؟
قَالُواْ طَٰٓئِرُكُم مَّعَكُمۡ أَئِن ذُكِّرۡتُمۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ مُّسۡرِفُونَ ١٩
رسولوں كا كہنا: (طائِرُكُم مَعَكُم)(تمہارى بدشگونى تمہارےساتھ) اسكامطلب یہ ہے کہ تمہارى قسمت اور تمہارا اچھا براانجام تمہارے ساتھ ہےیعنى تمہارے كرتوت، اور تمہارى كمائى وه سب ہمارى وجہ سے نہیں بلكہ تمہارے ظلم اور كفركى وجہ سے ہے ، اور یہى تفسیراور مفہوم دیگر لوگوں نے بھى بتلائى ہے۔ قسمت اور نصیب كواستعارہ کے طورپر(طَآئِر) كہاگیا ہے،یعنى پرندے كےاندر غور وفكر كرنے سے جو كچھ حاصل ہوتا ہے۔ (ابن عطیہ: 4؍450)
سوال: آیت كےاندر تردید ہے اس شخص پر جو بدشگونى كرتا ہو ، اس كى وضاحت كریں.
وَجَآءَ مِنۡ أَقۡصَا ٱلۡمَدِينَةِ رَجُلٞ يَسۡعَىٰ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱتَّبِعُواْ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٢٠
آدمى كى صفت (سعى) یعنى دوڑنے سے لائى گئى ہے جو اس بات كا فائده دیتا ہے كہ اس آدمى نے آنے میں جلدى كى تھى، اسے یہ بات معلوم ہوئی تھی کہ شہر والے رسولوں کو مارنے یا ان کو سزا دینے کا ارادہ کئےہوئے ہیں، چنانچہ اس نے نصیحت كرنا چاہى ان پر اور رسولوں پر خوف كھاتےہوئے۔ اور یہ اس آدمى كى تعریف ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے كہ یہ شخص ان قابل اقتداء لوگوں میں سے ہے جو منكر اور برائیوں كے مٹانے میں جلدى كرتےہیں۔ (ابن عاشور : 22؍366)
سوال: آیت كریمہ كےاندر جملۂ فعلیہ (يسعى) لانے كا كیا فائده ہے؟
وَجَآءَ مِنۡ أَقۡصَا ٱلۡمَدِينَةِ رَجُلٞ يَسۡعَىٰ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱتَّبِعُواْ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٢٠
(من أقصى المدينة) كو (رجل) پر مقدم كرنے سے شہر میں كنارے اور دور علاقوں میں رہنے والوں كى تعریف كاپتہ چل رہا ہے اور یہ كہ شہر كے مضافات میں رہنے والوں میں جو بھلائى ہوتى ہے وه درمیان شہر میں رہنے والوں میں نہیں ہوتى ہے ، اور یہ كہ كمزور طبقہ ایمان كى طرف جلدى كرتا ہے، كیونكہ انہیں حق اپنانے سے وه سارى آشائس اور بڑائیاں نہیں روك سكتیں جو قوم كے سرداروں كو روك دیتى ہیں، اور عام طور سے ایسے لوگ شہر كے درمیان میں رہتےہیں۔ (ابن عاشور: 22؍365)
سوال: (من أقصى المدينة) كو (رجل) پر مقدم كیوں كیا گیا؟
ٱتَّبِعُواْ مَن لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ أَجۡرٗا وَهُم مُّهۡتَدُونَ ٢١
یعنى یہ رسول تم سے ایمان لانے كى وجہ سے اجرت كا سوال نہیں كریں گے، اس طرح تم ان كے ساتھ اپنى دنیا میں سے كچھ بھى خساره نہیں اٹھاؤ گے، جبكہ ساتھ ہى ہدایت پاكر اپنے دین میں نفع ہى اٹھاؤ گے۔ (ابن جزى: 2؍222)
سوال: آیت میں سچے داعى كے د و عوامل كا ذكر ہے ، وه كیا ہیں؟
ٱتَّبِعُواْ مَن لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ أَجۡرٗا وَهُم مُّهۡتَدُونَ ٢١
(اتبعوا من لا يسألكم أجرًا) یعنى اس شخص كى اتباع كرو جو تمہارى ایسی خیر خواہى كرتا ہے ، جس میں تمہارے لئے بھلائى ہے، وه تم سے اس خیرخواہى اور راہنمائى پر تمہارے مال كا مطالبہ كرتا ہے نہ كوئى اجر چاہتا ہے اور جس كا یہ وصف ہو وه قابل اتبا ع ہوتا ہے۔
باقى رہا یہ اعتراض كہ جو كسى اجرت كے بغیر دعوت دیتا ہے تو ہو سكتا ہے وه حق پر نہ ہو ، چنانچہ اس اعتر اض كو رد كرنے كیلئے آگے الله تعالىٰ نے فرمایا: (وهم مهتدون)“اور وه ہدایت یافتہ ہیں” ؛ كیونكہ وه صرف اسى چیز كى طرف دعوت دیتےہیں جس كے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہى دیتى ہے اور صرف اسى چیز سے روكتےہیں جس كے قبیح ہونے پر عقل صحیح گواہى دیتى ہے۔ (السعدى: 694)
سوال: آیت كریمہ ارشاد بارى : (وهم مهتدون) پر ختم كیوں كى گئى؟
قِيلَ ٱدۡخُلِ ٱلۡجَنَّةَۖ قَالَ يَٰلَيۡتَ قَوۡمِي يَعۡلَمُونَ ٢٦ بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ ٱلۡمُكۡرَمِينَ ٢٧
اس آیت كےاندر بہت بڑى تنبیہ ہے ، چنانچہ یہ آیت غصہ پى جانے ، جاہلوں كےساتھ بردبارى كرنے، شریروں اور ظالموں كے جھنڈ میں رہنے والوں پر نرمى برتنے، ایسے لوگوں كو ان سے نكالنے كى كوشش و نرمى اختیار كرنے اور ایسے لوگوں پر ہنسنے اور ان پر بددعا كرنے سے باز رہنےكے وجوب پر دلالت كرتى ہے، كیونكہ آپ دیكھ رہے ہیں كہ كیسے اس نے خیر كى تمنا كى اپنے قاتلوں اور سازش كرنے والوں كیلئے ، جبكہ ساتھ ہى وه بتوں كے پجارى كافر تھے۔ (القرطبى: 17؍433)
سوال: وه كون سا عظیم اخلاق ہے جسے مومن اس آیت سے سیكھتا ہے؟