قرآن
ﮎ
ﰻ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
٢٦٠ ٢٦٠ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ٢٦١ ٢٦١ ﮘ ﮙ
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ٢٦٢ ٢٦٢ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ٢٦٣ ٢٦٣ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ
ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ٢٦٤ ٢٦٤
قَالَ فَخُذۡ أَرۡبَعَةٗ مِّنَ ٱلطَّيۡرِ فَصُرۡهُنَّ إِلَيۡكَ ثُمَّ ٱجۡعَلۡ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٖ مِّنۡهُنَّ جُزۡءٗا ثُمَّ ٱدۡعُهُنَّ يَأۡتِينَكَ سَعۡيٗاۚ وَٱعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٞ ٢٦٠
کئی اور مختلف قسم کے پرندوں کے ذبح کرنے کی حکمت بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ جانداروں میں سے کسی ایک کو چھوڑکر کسی بھی قسم کو پیدا کرنا آسان نہیں ہے۔(ابن عاشور:۳؍۳۹)
سوال:متعدد اور کئی قسم کے پرندوں کو ذبح کرنے کا حکم کیوں دیا گیا؟
وَٱللَّهُ يُضَٰعِفُ لِمَن يَشَآءُۚ
یعنی اجروثواب میں اضافہ خرچ کرنے والے کی حالت ،اس کے اخلاص اور سچائی کے مطابق ہوتاہے ۔اسی طرح مال کی حالت،کیفیت ،اس کے حلال و پاکیزہ ہونے ،اس کے فائدے اور خرچ کرنے کے موقع ومحل کے مطابق ہوتا ہے۔(یعنی خرچ کرنے والے اورمال کی حالتیں اور صفات جتنی اچھی ہوں گی اجر کا درجہ اتنا اونچاہوگا۔) (السعدی: ۱۱۳)
سوال:نیکی کے اجروثواب کوکئی گنا بڑھانے کے اسباب کیا ہیں؟
ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ لَا يُتۡبِعُونَ مَآ أَنفَقُواْ مَنّٗا وَلَآ أَذٗى لَّهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ٢٦٢
صدقہ کرکے احسان جتانا،یقینی طور پر صدقہ کو غارت کردیتا ہے۔یہ حرام ہے۔ اس لئے کہ حقیقت میں احسان جتانے کا حق تو اکیلے اللہ تعالیٰ کا ہی ہے اور تمام احسانات اسی کے ہی ہیں۔پس اللہ کی نعمت اور اس کے فضل واحسان پر (کوئی) بندہ احسان نہیں جتا سکتا کیونکہ یہ اس کا حق ہی نہیں ہے۔نیز یہ بات بھی (اہم) ہے کہ احسان جتانے والا،دراصل اپنے احسان تلے دبے ہوئے شخص کو غلام بنانا چاہتاہے ۔جبکہ ذلت اور غلامی ،اللہ کے علاوہ کسی کے لئے زیبا ولائق نہیں۔ (السعدی: ۱۱۳)
سوال:احسان جتانا،صدقے کو فاسد وبے کار کیوں بنادیتاہے؟
قَوۡلٞ مَّعۡرُوفٞ وَمَغۡفِرَةٌ خَيۡرٞ مِّن صَدَقَةٖ يَتۡبَعُهَآ أَذٗىۗ وَٱللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٞ ٢٦٣
(قَوۡلٌ مَّعۡرُوفٌ وَمَغۡفِرَةٌ) اچھی بات۔ سے مراد ہے سائل کو اچھے الفاظ وانداز میں جواب دینا۔جیسے اس کے حق میں دعا کرنا، اس کی دلجوئی کرنا،تسلی اور مہربانی کی بات کرنا۔
اور(وَمَغۡفِرَةٌ) کا مطلب ہے:اگر سائل کی جانب سے کوئی نازیباحرکت اور(بدتمیزی)ہو تو اسے معاف کردینا۔اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ:سائل کو خوبصورتی سے جواب دینے کے سبب اللہ کی طرف سے مغفرت اور معافی ہے۔ (ابن جزی:۱؍۱۷۲)
سوال:اس آیت کے اندر حسنِ اخلاق کی ایک اعلیٰ صفت کاذکر ہے۔اسے بیان کیجئے.
قَوۡلٞ مَّعۡرُوفٞ وَمَغۡفِرَةٌ خَيۡرٞ مِّن صَدَقَةٖ يَتۡبَعُهَآ أَذٗىۗ وَٱللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٞ ٢٦٣
اللہ(حَلِيمٌ) بردبار ہے یعنی وہ اپنی نافرمانی کرنے والے کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ اسے روزی دیتاہے اوراس کی مدد کرتے رہتا ہے حالانکہ وہ
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اورناشکری کرتے رہتا ہے۔ (البقاعی:۱؍۵۱۷)
سوال: اللہ عزوجل کی صفت(حلیم)پر آیت کے اختتام سے کیا معلوم ہوتا ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُبۡطِلُواْ صَدَقَٰتِكُم بِٱلۡمَنِّ وَٱلۡأَذَىٰ كَٱلَّذِي يُنفِقُ مَالَهُۥ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۖ
اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خرچ کرنے میں ریاء کاری اور دکھاوا کرنا ،احسان جتانا اورتکلیف دینا ،یہ سب کافروں کے اوصاف میں سے ہیں۔لہٰذا مومنوں کا ان سے بچنا ضروری ہے۔ (الألوسی:۳؍۳۵)
سوال:مخلص اور ریاکار کے صدقوں میں کیا فرق ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُبۡطِلُواْ صَدَقَٰتِكُم بِٱلۡمَنِّ وَٱلۡأَذَىٰ
آیت اس بات پرشاہد ہے کہ برے اعمال ،نیک اعمال کو برباد کردیتے ہیں۔چنانچہ جس طرح نیکیاں ،برائیوں کو مٹادیتی ہیں ، اسی طرح برائیاں نیکیوں کو باطل وبیکار کردیتی ہیں۔ (السعدی: ۱۱۳)
سوال:اس آیت سے برے اعمال کی خطرناکی کا پتہ چلتا ہے ۔اسے اسی آیت کی روشنی میں واضح کیجئے.