قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮯ

ﱎ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ
ﭭ ﭮ ١٢ ١٢
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ١٣ ١٣
ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
١٤ ١٤
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ١٥ ١٥
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ١٦ ١٦
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ١٧ ١٧
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ١٨ ١٨
436
سورۃ فاطر آیات 0 - 13

وَٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ مَا يَمۡلِكُونَ مِن قِطۡمِيرٍ ١٣

یعنى وه قلیل یا كثیر كسى چیز كے مالك نہیں حتى كہ وه اس معمولى چھلكے كےبھى مالك نہیں جو كھجور كى گٹھلى كے اوپر ہوتا ہے جو حقیر ترین چیز ہے۔ پھر ان خودساختہ معبودوں كو كیسے پكارا جاسكتا ہے حالانكہ وه زمین وآسمان كى بادشاہى میں كسى چیز كے بھى مالك نہیں؟ (السعدى: 686)
سوال: ایك انسان كیسے فائده اٹھا سكتا ہے اس معرفت سے كہ الله كو چھوڑ كر جو غیروں كو پكارا جاتا ہے وه كسى چیز كےبھى مالك نہیں ہیں؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 14

إِن تَدۡعُوهُمۡ لَا يَسۡمَعُواْ دُعَآءَكُمۡ وَلَوۡ سَمِعُواْ مَا ٱسۡتَجَابُواْ لَكُمۡۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكۡفُرُونَ بِشِرۡكِكُمۡۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثۡلُ خَبِيرٖ ١٤

ان بتوں كى حالت جب دنیا ہى میں ظاہر ہوگئى كہ وه كچھ بھى فائده نہیں پہنچا سكتے تو آخرت میں بھى ان كا معاملہ ظاہر ہوجائےگا كہ الله تعالىٰ انہیں وہاں بولنے كى طاقت دے گا اوروه ان كے شرك سے یعنى شرک کی جانب دعوت دینے اور راضى ہونے سے براءت كا اظہار كریں گے ۔ (ابن عاشور: 22؍283)
سوال: الله سبحانہ وتعالىٰ نے دنیا وآخرت میں بتوں كى عبادت كا بطلان كیسے ظاہر كیا؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 15

۞يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ أَنتُمُ ٱلۡفُقَرَآءُ إِلَى ٱللَّهِۖ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ ١٥

چونكہ دلائل اور وعظ ونصیحت سے لوگوں كو خوب سمجھایا گیا پھر بھى ان كى حالت سے یہ ظاہر نہیں ہوا كہ وه اپنى ضلالت سے باز آئیں گے، بلكہ ایسا بھى ہوا كہ قوم کے معزز افرادخود پسندى اور غرور میں مبتلا ہوگئے اور انہیں یہ دھوکہ ہونے لگا کہ وہ مسلم جماعت میں شامل ہونے کے لئے پسندیدہ افراد ہیں۔ اور اس طرح وه شیطان كے پھندے میں مزید پھنستے چلے گئے اور اپنے شرک پر ڈٹے رہے، ایسى صورت میں مناسب ہوا كہ الله انہیں بتلادے كہ وه ان سے بے نیاز ہے، اور اسكا دین اس طرح كےلوگوں پر كبھى فخر نہیں كرسكتا، وه ضرور ایسے لوگوں كو فنا كے گھاٹ اتار كر ایسے لوگوں كو پیدا كرےگا جن پر دین اسلام فخر كرےگا۔ (ابن عاشور: 22؍285)
سوال: اس آیت كےاندر تمام لوگوں كو فقر سے متصف كرنے میں كیا حكمت ہے؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 15

۞يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ أَنتُمُ ٱلۡفُقَرَآءُ إِلَى ٱللَّهِۖ

الله تبارك وتعالىٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہے ، انہیں ان كے احوال واوصاف سے آگاه فرماتا ہے كہ وه ہر لحاظ سے الله تعالىٰ كے محتاج ہیں:
وه وجود میں آنے كیلئے اس كے محتاج ہیں ، كہ اگر الله تعالىٰ ان كو وجود میں نہ لائے تو وه وجود میں نہیں سكتے۔
وه اپنے مختلف قوى، اعضاء اور جوارح كے حصول میں اس كے محتاج ہیں كہ اگر الله تعالىٰ ان كو یہ قوى عطا نہ كرے تو كسى كام كیلئے ان میں كوئى استعداد نہیں ہوسكتا۔
وه خوراك، رزق اور دیگر ظاہرى وباطنى نعمتوں كےحصول میں اسى كے محتاج ہیں كہ اگر اس كا فضل وكرم نہ ہو اور اگر وه ان امور كے حصول میں آسانى پیدا نہ كرے تو وه رزق اور دیگر نعمتیں حاصل نہیں كرسكتے۔وه اپنے مصائب وتكالیف، كرب وغم اور شدائد كو دور كرنے میں الله تعالىٰ كے محتاج ہیں كہ اگر الله تعالىٰ ان كى مصیبتوں اور كرب وغم كو دور اور ان كى عسرت كا ازالہ نہ كرے تو وه ہمیشہ ہمیشہ مصائب وشدائد میں گھرے رہیں۔ (السعدى: 687)
سوال: كیا لوگ صرف مال میں الله كے محتاج ہیں؟ چند ایسے وجوہات پر كچھ روشنى ڈالیں جس سے پتہ چلے كہ لوگ اپنے رب كے محتاج ہیں؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 15

۞يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ أَنتُمُ ٱلۡفُقَرَآءُ إِلَى ٱللَّهِۖ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ ١٥

جب الله تعالىٰ نے لوگوں كى محتاجگى اور ان سے اپنى بے نیازى ثابت كردى ، اور یہ كہ ہر بے نیاز كیلئے ضرورى نہیں كہ وه اپنى مالدارى سے دوسروں كو نفع پہنچائے جب تك كہ وه فیاض اور انعام كرنے والا نہ ہو، تو آخر میں الله تعالىٰ نے اپنى دوسرى صفت (الحميد) كا بھى ذكر كیا تاكہ یہ پتہ چل جائے كہ اسكى ذات بے نیاز ہونے كےساتھ اپنى مخلوق كو فائده بھى پہنچاتى ہے، ان كے ساتھ فیاضى اور ان پر انعام كر كے۔ (القرطبى: 17؍366)
سوال: آیت كے اندر صفت حمید كے ساتھ صفت غنى كو كیوں ملایا گیا؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 18

وَإِن تَدۡعُ مُثۡقَلَةٌ إِلَىٰ حِمۡلِهَا لَا يُحۡمَلۡ مِنۡهُ شَيۡءٞ وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰٓۗ

ابن عباس رضى الله عنہ نے فرمایا: ماں باپ اپنے بیٹے سے ملیں گے اور كہیں گے: بیٹے! میرے كچھ گناه تم اپنے اوپر اٹھا لو تو وه كہےگا: میں ایسا نہیں كرسكتا، میرا گناه میرے لئےكافى ہے۔(البغوى: 3؍621)
سوال: قیامت كے روز تمہارے گناه كون اٹھائےگا؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 18

إِنَّمَا تُنذِرُ ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَيۡبِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَۚ وَمَن تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَكَّىٰ لِنَفۡسِهِۦۚ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلۡمَصِيرُ ١٨

مطلب یہ ہے كہ ڈرانا اسى كیلئے مفید ہے جو اپنے رب سے ڈرتےہیں ، یہاں یہ مطلب نہیں ہے كہ ڈرانا صرف انہیں كے ساتھ خاص ہے۔ (ابن جزى: 2؍215)
سوال: كیا آیت اس بات پر دلالت كرتى ہے كہ رسول و دعاۃ صرف انہیں لوگوں كو ڈراتےہیں جو الله سے ڈرنے والے ہیں ؟ اس كى وضاحت كریں.