قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮯ

ﱎ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ
٤ ٤
ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ٥ ٥
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ٦ ٦
ﭽ
ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ﮊ ٧ ٧
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ٨ ٨
ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ٩ ٩
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ
١٠ ١٠
ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ
ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ
ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ﰙ ﰚ ﰛ ﰜ ﰝ ١١ ١١
435
سورۃ فاطر آیات 0 - 5

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّ

جب اس كا وعده سچا ہے تو اسكے لئے تیارى كرو اپنے اچھے اوقات میں نیك اعمال كى طرف سبقت كرو اور كوئى راہزن تمہارى راه كو كھوٹى نہ كرنے پائے۔ (السعدى: 685)
سوال: جب آپ كو یہ معلوم ہوجائے كہ الله كا وعده حق ہے تو آپ كو كیا كرنا چاہئے؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 5

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ ٥

سعید بن جبیر نے كہا: دنیا كا دھوكہ یہ ہے كہ انسان اسكى نعمتوں اور لذتوں میں پڑ كر آخرت كیلئے عمل سے غافل ہوجائے، اور كہے: ﴿يَٰلَيۡتَنِي قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِي﴾ [الفجر:24] (كاش میں نے اپنى زندگى كیلئے كچھ كیا ہوتا) (القرطبى: 17؍346)
سوال: دنیا كا دھوكہ كیسے ہوتاہے؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 5

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ ٥

آیت میں دو دھوكےكا ذكر ہے: ایك تو آدمى خود اپنى ذات سے دھوكہ كھاتاہے، اور وه خود ا س دنیا كى رونق اور زرق برق چیزوں كو اپنے لئے مزین كرتا ہے اسے بہتر سمجھ كر، جبكہ ا س كے انجام سے بے خبر ہوتاہے، كہ بظاہر كس طرح اسكا نقصان پوشیده ہے، او ر وه یہ نہیں سمجھتا كہ یہ شیطان كى طرف سے ہے۔ اور دوسرا دھوكا شیطان كى طرف سے كھاتاہے، اور یہی معاملہ اس دنیا میں پائے جانے والے تمام دھوکوں کا ہے ، بعض پر انسان خود غالب آجاتا ہے اور بعض دھوكہ انسانوں اور جنوں كے شیاطین سے كھاتاہے۔ (ابن عاشور: 22؍259)
سوال: آیت كےاندر دو دھوكوں سے ڈرایا گیا ہے ، وه كیا ہیں؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 6

إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ لَكُمۡ عَدُوّٞ فَٱتَّخِذُوهُ عَدُوًّاۚ إِنَّمَا يَدۡعُواْ حِزۡبَهُۥ لِيَكُونُواْ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ ٦

شیطان كى عداوت جب فطرى ٹھہرى جس كا خاتمہ ناممكن ہے حتیٰ کہ اس شخص سے بھی جو اسے معاف کردے اسى لئے الله نے اس سے دشمنى ركھنے كا حكم دیا ؛ كیونكہ انسان اگر اسے اپنا دشمن نہیں بنائےگا تو اسكے مكر وسازش اور دھوكے سے بھى محفوظ نہیں ره سكے گا ، اور اس كى دشمنى كے لوازم میں سے یہ بھى ہے كہ انسان اس كے برخلاف عمل كرے جس كى طرف وه اسے بلائے تاكہ اسكے چال سے بچ سكے، اور اس لئے بھى كہ وه عمل صالح كو كبھى پسند نہیں كرتا۔ (ابن عاشور: 22؍261)
سوال: الله تعالىٰ نے شیطان كو مطلق طور پر دشمن ركھنے كا حكم كیوں دیا؟ معاف كرنے كا حكم كیوں نہیں دیا؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 6

إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ لَكُمۡ عَدُوّٞ فَٱتَّخِذُوهُ عَدُوًّاۚ إِنَّمَا يَدۡعُواْ حِزۡبَهُۥ لِيَكُونُواْ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ ٦

یعنى الله كى اطاعت كركے اس سے دشمنى كرو، اور اسكى بات نہ مانو- فضیل بن عیاض رحمہ اللہ كہتےتھے: اے جھوٹے، اے بہتان باز ! الله سےڈر، اور شیطان كو كھلے عام گالى مت دے، جبكہ تم خلوت میں اسكے دوست رہتےہو۔ اور ابن سماك رحمہ اللہ نےكہا: تعجب ہے اس شخص پر كہ محسن عظیم كےاحسان كو جاننے كے بعد بھى اسكى نافرمانى كرتاہے اور کمینے كى دشمنى كو جاننے كےبعد بھى اسكى فرمانبردارى كرتاہے۔(البغوی:3؍616، القرطبى: 17؍347)
سوال: بحكم الٰہى آپ كیسے الله كےدشمن ابلیس سے دشمنى كریں گے؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 10

مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلۡعِزَّةَ فَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ جَمِيعًاۚ

یعنى اے عزت كے طلبگار! عزت اس سے طلب كر جس كےہاتھ میں عزت ہے، اور تمام عزت الله كےہاتھ میں ہے، اور یہ عزت اسكى اطاعت كركے ہى مل سكتى ہے۔(السعدى: 685)
سوال: مسلمان كو كیا فائده ملتا ہے یہ جان كر كہ سارى عزت الله كے ہاتھ میں ہے؟

سورۃ فاطر آیات 0 - 10

مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلۡعِزَّةَ فَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ جَمِيعًاۚ

آیت كےاندر تین معانى كا احتمال ہے: (1) اور یہى سب سے راجح ہے، جو عزت حاصل كرنا چاہتا ہو وه الله كےپاس طلب كرے، كیونكہ سارى عزت الله كے پاس ہے۔ (2) جو عزت چاہتا ہو اسلام كو غلبہ دیكر تو جان لے كہ سارى عزت الله كےلئےہے، پس اسلام پر غلبہ حاصل کرنے والامغلوب ہے۔ (3) جو جاننا چاہتا ہو كہ عزت كس كیلئے ہے تو جان لے كہ سارى عزت الله كیلئے ہے۔ (ابن جزى: 2؍212)
سوال: الله تعالىٰ نےعزت كے طلبگار كیلئے راستہ بتلایا ہے ، اسے واضح كریں.