قرآن
ﮮ
ﱎ
ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ٣٢ ٣٢ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ٣٣ ٣٣ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ٣٤ ٣٤
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ٣٥ ٣٥
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ٣٦ ٣٦ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ٣٧ ٣٧ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ٣٨ ٣٨
ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ
ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ٣٩ ٣٩
قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُوٓاْ أَنَحۡنُ صَدَدۡنَٰكُمۡ عَنِ ٱلۡهُدَىٰ بَعۡدَ إِذۡ جَآءَكُمۖ بَلۡ كُنتُم مُّجۡرِمِينَ ٣٢
یعنى ہم نے جو كیا وه زیاده سے زیاده یہى تھا كہ ہم نے تمہیں بلایا اور تم نے ہمارى بات بلا دلیل مان لى، جبكہ تم نےرسولوں كى لائى ہوئى واضح دلیلوں اور حجتوں كى مخالفت كى ، یہ سب تم نے اپنى شہوتوں اور اپنے اختیارات سے كیا، اسى لئے انہوں نے ان كےبارےمیں كہا: (بل كنتم مجرمين) (بلكہ تم ہى مجرم تھے) ۔(ابن كثیر: 3؍518)
سوال: كمزور پیروكاروں كو مجرمین كیوں كہا گیا؟
وَقَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ بَلۡ مَكۡرُ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ إِذۡ تَأۡمُرُونَنَآ أَن نَّكۡفُرَ بِٱللَّهِ وَنَجۡعَلَ لَهُۥٓ أَندَادٗاۚ
مطلب یہ ہے كہ كمزور پیروكار متكبر سرداروں سے كہیں گے: بلكہ شب وروز ہمارے ساتھ تمہارى مكارى ہمارے كفر كا سبب تھی۔ (ابن جزى: 2؍207)
سوال: ہر وه دوستى اور تابعدارى جس كى بنیاد غیر شرعى ہو وه عداوت میں بدل جائےگى، آیت كى روشنى میں اسكى مثال بیان كریں.
وَقَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ بَلۡ مَكۡرُ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ إِذۡ تَأۡمُرُونَنَآ أَن نَّكۡفُرَ بِٱللَّهِ وَنَجۡعَلَ لَهُۥٓ أَندَادٗاۚ
یہ پیروكاروں كى طرف سے سرداروں سے بحث ومباحثہ ہوگا جس وقت وه ان سے كہیں گے كہ تم نے اپنے اختیارات سے كفر كیا، تو كمزور پیروكار كہیں گے:بلكہ شب وروز ہمارے ساتھ تمہارى مكارى ہمارے كفر كا سبب تھی۔ اور مكر کی شب وروز كى طرف اضافت کی گئی تاكہ یہ اضافت دوام اور ہمیشگى پر دلالت كرے۔ (ابن عطیہ:4؍421)
سوال: قیامت كےدن كمزور پیروكار اپنے گمراه كرنے والے سرداروں كو كیا جواب دیں گے؟
وَأَسَرُّواْ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَۚ
یعنى اس حجت كا تاروپود بكھر جائےكا جس كے ذریعے سے وه ایك دوسرےپر حجت قائم كرتےتھے كہ وه عذاب سے بچ جائیں گے، اور وه جان لیں گے كہ وه ظالم ہیں اور عذاب كے مستحق ہیں۔ ان میں سے ہر مجرم بے حد پشیمان ہوگا اور وه تمنا كرےگا كہ كاش وه حق پر ہوتا اور اس نے باطل كو چھوڑ دیا ہوتا جس نے اسے اس عذاب میں مبتلا كیا ہے۔ اپنے جرائم كا اقرار دل میں کریں گے، کیونکہ زبانی اقرار سے انہیں فضیحت لاحق ہونے کا خوف ہوگا۔ (السعدى: 681)
سوال: قیامت كےدن كافر پشیمانى كا اظہار كیوں نہیں كریں گے؟
وَقَالُواْ نَحۡنُ أَكۡثَرُ أَمۡوَٰلٗا وَأَوۡلَٰدٗا وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِينَ ٣٥
یعنى ان لوگوں نے مال واولاد پر فخر كیا اور یہ سمجھ بیٹھے كہ یہ ان سے الله كى محبت اور اس كے اہتمام كى دلیل ہے، اور ایسا نہیں ہوسكتا كہ الله انہیں دنیا میں تو نوازے اور آخرت میں عذاب دے۔ (ابن كثیر: 3؍519)
سوال: كافروں نے مال واولاد كى كثرت اور عذاب نہیں دینے كے مابین تعلق كیوں بنایا؟
قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٣٦
یہ خبر ہے جس میں ان پر اس بات كى تردید ہے كہ دنیا كےاندر روزى کوگھٹانا بڑھانا الله كى مشیئت پر منحصر ہے، چنانچہ الله چاہے تو ایك كافر اور گنہگار پر روزى كو كشاده كردےاور مومن اور فرمانبردار بندے پر تنگ كردے، اور اسكے برعكس بھى كرسكتاہے، چنانچہ اس میں كسى طور بھى آخرت كے معاملے میں كوئى دلیل نہیں ہے۔ (ابن جزى: 2؍208)
سوال: تقسیم رزق میں الله كى كیا سنت ہے؟ اور كیا یہ آخرت میں نجات كیلئے معیار حقیقى ہوسكتا ہے؟
وَمَآ أَنفَقۡتُم مِّن شَيۡءٖ فَهُوَ يُخۡلِفُهُۥۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ٣٩
ابن العربى نے كہا: ممكن ہے جتنا خرچ كیا ہو اتنا ہى بدلہ ملے ، یا زیاده بھى مل سكتا ہے، اور كبھى اسكا اجر دنیا میں بھى مل سكتا ہے، اور كبھى اسےآخرت میں ذخیره بھى كیا جاسكتاہے، اور یہ مقبول دعا كى طرح سےہے۔ میں كہتاہوں: كبھى صحت وتندرستى كى شكل میں بھى بدلہ دیا جاسكتا ہے، اور كبھى تعمیر كى شكل میں بھى، اور الله کے اسكى مخلوق میں بہت سارے اسرار ہیں۔ (ابن عاشور: 22؍221)
سوال: ان قسموں كو ذكركریں جو الله تعالىٰ اپنے بندے كو بدلے كے طور پر عطا كر تا ہے جب وه خرچ كرتاہے؟