قرآن
ﮮ
ﱎ
ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ
٢٣ ٢٣ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ٢٤ ٢٤ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ٢٥ ٢٥ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
٢٦ ٢٦ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ٢٧ ٢٧ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ٢٨ ٢٨
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ٢٩ ٢٩
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ
٣٠ ٣٠ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ
ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ
ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ٣١ ٣١
وَلَا تَنفَعُ ٱلشَّفَٰعَةُ عِندَهُۥٓ إِلَّا لِمَنۡ أَذِنَ لَهُۥۚ
یہ الله كى طرف سے تنبیہ اور خبر ہے كہ فرشتے گرچہ برگزیده ہیں اور انكا مقام بہت بلند ہے پھر بھى الله كى اجازت كے بغیر كسى كے حق میں سفارش نہیں كرسكتے، جب انہیں اجازت ملے گى اور اسےوه سنیں گے تو بیہوش ہوجائیں گے، جب ان كا یہ حال ہے تو بتوں كا كیا حال ہوگا؟ یا یہ كہ تم شفاعت كى امید كیسے ركھتےہو جبكہ قیامت كا تم اعتراف ہى نہیں كرتے۔ (القرطبى: 17؍311)
سوال: اس آیت كى روشنى میں قیامت كےدن الله كےنزدیك شفاعت كى اہمیت بتلائیں.
حَتَّىٰٓ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمۡ قَالُواْ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمۡۖ قَالُواْ ٱلۡحَقَّۖ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡكَبِيرُ ٢٣
رسول ﷺ سے بہت سارى حدیثیں ثابت ہیں كہ یہ آیت فرشتوں كے بارے میں ہے، كیونكہ جب فرشتے جبریل علیہ السلام کی جانب کی جانے والی وحى سنتےہیں تو بہت ہى گھبراہٹ میں مبتلا ہوجاتےہیں ، پھر جب یہ گھبراہٹ ختم ہوتى تو بعض بعض سے كہتےہیں: تمہارے رب نے كیا كہا ؟ تو بتایا جاتا ہے كہ حق كہا ہے۔ (ابن جزى: 2؍205)
سوال: اس آیت كےاندر وحى كى عظمت پر دلیل ہے ، اسے واضح كریں.
حَتَّىٰٓ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمۡ قَالُواْ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمۡۖ قَالُواْ ٱلۡحَقَّۖ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡكَبِيرُ ٢٣
مذكوره دونوں صفتوں كو خصوصى طور پر ذكر كرنے كى وجہ جواب كے مقام ومرتبے كى مناسبت ہے، یعنى فیصلہ حق كا ہوا ہے ہر ایك كیلئے جس كا وه مستحق ہے، كیونكہ اس پر كسى كى حالت مخفى نہیں ہے، اور اسكى طرف سے اہل حق كو حق پہونچانے میں كوئى ركاوٹ بھى نہیں بن سكتا۔ (بن عاشور: 22؍190-191)
سوال: آیت كریمہ كےاندر دونوں صفت (العلي الكبير) كو خصوصى طور پر ذكر كرنے كا كیا فائده ہے؟
وَإِنَّآ أَوۡ إِيَّاكُمۡ لَعَلَىٰ هُدًى أَوۡ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٢٤
یعنى دونوں فریق میں سے ایك حق پر ہے اور دوسرا باطل پر، ایسا نہیں ہوسكتا كہ تم اور ہم بیك وقت ہدایت پر ہوں یا ضلالت پر، بلكہ ہم میں ایك ہى حق پر ہوسكتا ہے۔ (ابن كثیر: 3؍516)
سوال: اس شخص كےبارےمیں آپ كى كیا رائےہے جو ادیان وفرق كے درمیان پائے جانے والے اختلافات كو بہت آسان سمجھتاہے اور گمان ركھتاہے كہ ہر كوئى حق پر ہے؟
قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَنَا بِٱلۡحَقِّ وَهُوَ ٱلۡفَتَّاحُ ٱلۡعَلِيمُ ٢٦
صفت (الفتاح) كےبعد صفت (العليم) لایا گیا اس بات كو بتلانے كیلئے كہ اسكا فیصلہ محض عدل وانصاف پر مبنى ہوتاہے، كیونكہ وه ہر چیز كا جاننے والا ہے ، اسكے فیصلہ كرنے میں غلطى اور ظلم كے ایسے اسباب كا امكان نہیں جو جہالت ، عاجزى اور ایسى نفسیاتى كمزورى كى پیروى سے ظاہر ہوتےہیں جو حالات وانجام سے بے خبرى كى وجہ سے پیدا ہوتى ہے۔ (ابن عاشور: 22؍195)
سوال: صفت (الفتاح) كےبعد صفت (العليم) كیوں لایا گیا؟
وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا كَآفَّةٗ لِّلنَّاسِ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٢٨
یہ ا لله تعالىٰ كى طرف سے كھلا اعلان ہے كہ محمد ﷺ كو تمام عالم كى طرف مبعوث كیا ہے، اور تمام انبیاء كے برعكس محمد ﷺكو تمام عالم كے لئے مبعوث كیاجانا نبی ﷺ کی خصوصی صفات کا حصہ ہے۔(ابن عطیہ: 4؍420)
سوال: آیت میں ایك ایسى خصلت كا ذكر ہے جو محمد ﷺ كے ساتھ خاص ہے، وه كیا ہے؟
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّٰلِمُونَ مَوۡقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمۡ يَرۡجِعُ بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٍ ٱلۡقَوۡلَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ لَوۡلَآ أَنتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِينَ ٣١
اے محمد ! جب آپ دیكھیں گے كہ ظالموں كو ان كے رب كےپاس روك لیا گیا ہے، یعنى حساب وكتاب كى جگہ پرانہیں قید کردیاگیا ہے ،وہاں وہ آپس میں بات كرتےہوئے ایك دوسرے پر لعنت ملامت كر یں گے جب كہ وه دنیا میں ایك دوسرے كے مخلص ومددگار دوست تھے۔ اور (لَوْ) كا جواب محذوف ہے، یعنى تو آپ اس وقت بڑا ہى ہولناك معاملہ دیکھیں گے۔ (القرطبى: 17؍316)
سوال: مشرك دوستوں كا حال بیان كریں اس وقت جب كہ وه الله كےسامنے كھڑےہوں گے.