قرآن
ﮭ
ﱍ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ٢٣ ٢٣ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ٢٤ ٢٤ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ٢٥ ٢٥ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ٢٦ ٢٦ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ٢٧ ٢٧ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ٢٨ ٢٨ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ٢٩ ٢٩
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ٣٠ ٣٠
مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ رِجَالٞ صَدَقُواْ مَا عَٰهَدُواْ ٱللَّهَ عَلَيۡهِۖ فَمِنۡهُم مَّن قَضَىٰ نَحۡبَهُۥ وَمِنۡهُم مَّن يَنتَظِرُۖ وَمَا بَدَّلُواْ تَبۡدِيلٗا ٢٣
(وہ مومنین جنہوں نے اللہ کے ساتھ عہد وپیمان کو سچ کردکھایا) درحقیقت یہى لوگ جوانمرد ہیں ، ان كے سوا دیگر لوگوں كى صورتیں اگرچہ مردوں كى سى ہیں مگر ان كى صفات مردوں کی صفات ے کم تر ہیں۔(السعدى: 661)
سوال: حقیقى مردانگى كیا ہے؟
وَيُعَذِّبَ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ إِن شَآءَ أَوۡ يَتُوبَ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا ٢٤
(منافقین کو ملنے والے) عذاب کو اللہ کی مشیت (چاہت) پر معلق کرنے میں منافقین کے لئے تنبیہ ہے کہ اللہ کی رحمت کشادہ ہے،اور وہ ان منافقین کی امید کو ختم نہیں کررہا ہے جنہوں نےجن گناہوں کا ارتکاب کیا ہے اس کی مغفرت کے لئے کوشش کریں بایں طور کہ (اللہ کی بارگاہ میں) توبہ کریں، پس اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کو قبول کرےگا۔۔ (ابن عاشور: 21؍309)
سوال: آیت كریمہ میں عذاب دینے كو مشیئت الٰہى پر معلق كیوں كردیا گیا ہے؟
وَيُعَذِّبَ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ إِن شَآءَ أَوۡ يَتُوبَ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا ٢٤
(أو يتوب عليهم) یعنى اللہ تعالیٰ ان كو توبہ اور انابت(اللہ کی طرف رجوع کرنے) كى توفیق سے نوازے گا۔ اور اس كریم كى كرم نوازى پر یہى چیز غالب ہے ، اس لئے اس نے آیت كریمہ كو اپنے ان دو اسمائے حسنىٰ پر ختم كیا ہے جو اس كى مغفرت ، اسكے فضل و احسان پر دلالت كرتےہیں۔ (السعدى: 662)
سوال: غفور رحیم جیسے دو ناموں پر آیت كو ختم كیوں كیا؟
وَكَفَى ٱللَّهُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٱلۡقِتَالَۚ وَكَانَ ٱللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزٗا ٢٥
(وكفى الله المؤمنين القتال) جنگ میں الله مومنوں كیلئے كافى ہوگیا كہ اس نے كافروں پر آندھى اور فرشتوں كى فوج بھیج دى ، یہاں تك كہ وه (کفار) لوٹ گئے اور بنو قریظہ كے لوگ بھى اپنے قلعوں میں لوٹ گئے، اس طرح بنو قریظہ پر رعب طارى كركے الله تعالىٰ مومنوں كیلئے كافى ہوگیا۔ (القرطبى: 16؍115)
سوال: الله تعالىٰ كى قوت اور اسكى طاقت وغلبے كا اندازه اس سے لگایا جاسكتا ہے كہ اسكے پاس ایسى فوج ہے جسے اسكے سوا كوئى نہیں جانتا، آیت كى روشنى میں اس كى وضاحت كریں.
وَأَوۡرَثَكُمۡ أَرۡضَهُمۡ وَدِيَٰرَهُمۡ وَأَمۡوَٰلَهُمۡ وَأَرۡضٗا لَّمۡ تَطَـُٔوهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٗا ٢٧
(وأرضًا لم تطئوها) یہ ایسى سرزمین كى فتح كا وعده ہے جسے مسلمانوں نے اس وقت تک اپنے پاؤں سےنہیں روندا تھا، اور یہ مكہ ، یمن، شام، عراق اور مصر ہیں، اس طرح الله تعالىٰ مشرق سے مغرب تك مسلمانوں كو ان سارى زمینوں كا وارث بنا دیا۔(ابن جزى: 2؍186)
سوال: (وأرضًا لم تطئوها) اس جملے میں وجہ اعجاز(معجزہ کی صورت) كیا ہے؟ اس كى وضاحت كریں.
وَإِن كُنتُنَّ تُرِدۡنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلدَّارَ ٱلۡأٓخِرَةَ فَإِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنَٰتِ مِنكُنَّ أَجۡرًا عَظِيمٗا ٢٩
ازواج مطہرات كو جو اختیار دیا گیا ہے؛اس میں بہت سارے فوائد ہیں:جیسے كہ ازواج مطہرات كى رفعت اور ان کے رتبۂ بلند کا اظہار اور ان کے بلند ارادے کا بیان كہ انہوں نے دنیا اور اس کے سازوسامان كو چھوڑ كر الله تعالىٰ ، اس كے رسول اور آخرت كے گھر كو اپنا مطلوب ومقصود اور اپنى مراد بنایا۔ (السعدى: 663)
سوال: اس اختیار میں ازواج مطہرات کے بلند رتبے اور ارادےكا اظہار ہے، اس كى وضاحت كریں.
يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِيِّ مَن يَأۡتِ مِنكُنَّ بِفَٰحِشَةٖ مُّبَيِّنَةٖ يُضَٰعَفۡ لَهَا ٱلۡعَذَابُ ضِعۡفَيۡنِۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٗا ٣٠
جس چیزکی عظمت و حرمت جس قدر زیادہ ہوگی اگر اسے پامال کیاجائے گا تو سزائیں بھی بڑھ کر ملیں گی، اسی لئے آزاد آدمی کی حد غلام کے مقابلے میں اور شادی شدہ کی حد غیرشادی شدہ کے مقابلے میں بڑھی ہوئی ہے۔ (القرطبى: 16؍132)
سوال: كیا جس كا مقام ومرتبہ بلند ہو اسكى غلطیوں كو بھى اسكے حق میں بڑھا دیا جاتا ہے؟