قرآن
ﮭ
ﱍ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ١ ١ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ٢ ٢ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ٣ ٣ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ
ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ٤ ٤
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ٥ ٥ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ٦ ٦
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ ٱتَّقِ ٱللَّهَ وَلَا تُطِعِ ٱلۡكَٰفِرِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا ١
(يا أيها النبي) اس خطاب میں آپ ﷺ كیلئے تكریم ہے، كیونكہ آپ كو نبوت كے خطاب سے پكارا گیا ہے، جبكہ دیگر تمام نبیوں كو ان كے نام كےساتھ پكارا گیا ہے۔(ابن جزى: 2؍181)
سوال: اس آیت میں نبى كریمﷺ كو پكارنا كیسے باعث تكریم ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ ٱتَّقِ ٱللَّهَ وَلَا تُطِعِ ٱلۡكَٰفِرِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَۚ
یہ اعلیٰ سے ادنیٰ پر تنبیہ ہے، كیونكہ الله تعالىٰ نے جب اس طرح کا حکم اپنے رسول اور اپنے بندے (محمد ﷺ) کو دیا ہے تو جو آپ سے نیچے(کمتر) ہیں انہیں اس حکم کی بجاآوری بدرجہ اولیٰ کرناچاہئے۔(ابن كثیر: 3؍448)
سوال: تقوىٰ کا حكم اور كافروں اور منافقوں كى بات ماننے سے ممانعت ان دونوں سے كیا كوئى بے نیاز ہوسكتاہے؟
وَلَا تُطِعِ ٱلۡكَٰفِرِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَۚ
یہى(کفار و منافقین) حقیقى دشمن ہیں؛ لہذا ایسے كسى بھى معاملات میں ان كى بات نہ مانئے جو تقوىٰ كے مخالف ہو اور اس كیلئے توڑ ہو۔(السعدى: 657)
سوال: الله تعالىٰ نے كافروں اورمنافقوں كى بات ماننے سے منع كیوں كردیا؟
وَٱتَّبِعۡ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَۚ
یعنی قرآن (کی پیروی کیجئے)، اس میں جاہلى رسم ورواج كى پیروى كرنے سے ڈانٹا گیا ہے، اور ان سے جہاد كرنے اور دینی بغض کی وجہ سے ان سے جدا رہنے کا حكم دیا گیا ہے، اور اس میں یہ بھى دلیل ہے كہ نص كى موجودگى میں آراء واقوال كو چھوڑ دیا جائےگا، یہ خطاب آپ ﷺ كیلئے اور آپ کی امت كیلئے بھی ہے۔(القرطبى: 17؍51)
سوال: اس شخص پر كیسے رد كریں گے جو قرآن كو چھوڑ دیتاہے اور اپنى خواہشات اور دوسرے انسانوں كے اقوال کی پیروی کرتا ہے؟
وَمَا جَعَلَ أَدۡعِيَآءَكُمۡ أَبۡنَآءَكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ قَوۡلُكُم بِأَفۡوَٰهِكُمۡۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِي ٱلسَّبِيلَ ٤
اَدْعِيَآءَ دعي کی جمع ہے، یہ اس لڑكے كو كہتےہیں جسے فلاں کا لڑکا کہہ کر پکارا جائےحالانکہ وه اسكا لڑكا نہیں ہے۔
اس آیت كا سبب نزول زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ كا معاملہ ہے،اور وہ یہ ہے کہ آپ قبیلۂ كلب كے ایك نوجوان تھے، جنہیں بعض عرب نے قید كركے خدیجہ رضی اللہ عنہاكے ہاتھ بیچ دیا تھا، اور خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نبى كریمﷺ كو ہبہ كردیا، اور آپ نے انہیں اپنا لے پالك بیٹا بنا لیا، اس طرح انہیں زید بن محمد كہا جانے لگا، یہاں تك كہ یہ آیت نازل ہوئى۔(ابن جزى: 2؍182)
سوال: اس آیت نے ایك جاہلى رسم کا خاتمہ کردیا، وہ رسم کون سی ہے؟
ٱلنَّبِيُّ أَوۡلَىٰ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ مِنۡ أَنفُسِهِمۡۖ
(من أنفسهم) مومنوں پرآپﷺ كے فیصلےنافذ ہونے اور آپ کی اطاعت كے واجب ہونے میں باپ تو دور خود ان كى ذات سے بھى آپ زیادہ حقدار ہیں، كیونكہ آپ انہیں عقل وحكمت كى طرف ہى بلاتےہیں، اور انہیں ان ہی باتوں کاحکم دیتے ہیں جو ان کی نجات کا ذریعہ ہیں، جبكہ ان كا نفس انہیں خواہشات اور فتنوں كى طرف بلاتا ہے، سو وہ انہیں ان چیزوں کا حکم دیتا ہے جو ان کی ہلاکت کا ذریعہ ہیں۔۔(البقاعى: 15؍29)
سوال: نبى كریمﷺ ہماری ذات پر ہم سے زیادہ حقدار کیوں ہیں؟
وَأَزۡوَٰجُهُۥٓ أُمَّهَٰتُهُمۡۗ
الله تعالىٰ نے نبی کریم ﷺ کی بیویوں كو یہ شرف بخشا كہ انہیں امہات المومنین كا درجہ عطا کیا، یعنى ان کی تعظیم وتكریم اوران کے ساتھ حسن سلوك کرنا واجب ہے ، اور مردوں پر ان سے نکاح کرنا حرام ہے۔ (القرطبى: 17؍62)
سوال: آیت كریمہ كى روشنى میں ان بدعتیوں اور بدعقیدوں پر رد كیسے كریں گے جو امہات المؤمنین كى شان میں گستاخى كرتےہیں؟