قرآن
ﮫ
ﱍ
ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ٢٠ ٢٠ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ٢١ ٢١ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ٢٢ ٢٢ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
٢٣ ٢٣ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ٢٤ ٢٤
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ٢٥ ٢٥ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ٢٦ ٢٦ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ
ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ٢٧ ٢٧ ﰊ ﰋ
ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ٢٨ ٢٨
أَلَمۡ تَرَوۡاْ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَأَسۡبَغَ عَلَيۡكُمۡ نِعَمَهُۥ ظَٰهِرَةٗ وَبَاطِنَةٗۗ
آپ کا كام یہى ہے كہ ان نعمتوں پر الله كا شكریہ ادا کریں، بایں طور کہ نعمتوں سے نوازنے والے سے محبت کریں، اسكى اطاعت میں لگ جائیں، اور ان نعمتوں کو اللہ کی اطاعت میں معاون کے طور پر استعمال کریں اور کسی بھی نعمت سے اللہ کی معصیت میں مدد نہ لیں۔(السعدى: 649)
سوال: نعمتوں كا شكریہ ادا كیسے ہوگا؟
وَأَسۡبَغَ عَلَيۡكُمۡ نِعَمَهُۥ ظَٰهِرَةٗ وَبَاطِنَةٗۗ
(نعمه ظاهرة وباطنة) ظاہرى اور باطنى نعمت: ظاہرى نعمت میں صحت اور مال وغیره آئےگا، جبكہ باطنى نعمت میں وه سارى نعمتیں آئیں گى جو انسانى نظروں سے اوجھل ہوتى ہیں جیسے برائیوں پر پرده پوشى وغیره۔(ابن جزى: 2؍174)
سوال: بعض ظاہرى اور باطنى نعمتوں كى مثال دیجیئے.
وَأَسۡبَغَ عَلَيۡكُمۡ نِعَمَهُۥ ظَٰهِرَةٗ وَبَاطِنَةٗۗ
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروى ہے: ظاہرى نعمت سے مراد اسلام اور قرآن ہے، جبكہ باطنى نعمت سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے آپ کے گناہوں پر پردہ ڈال رکھا ہے، اور فوری طور پر اس کی سزا نہیں دے رہا ہے، اور ضحاک نے كہا: ظاہرى نعمت سے مراد بہترین شکل و صورت اور جسمانى اعضاء كى درستگى ہے جبكہ باطنى نعمت سے مراد علم ومعرفت ہے۔(القرطبى : 3؍512)
سوال: دو ایسى نعمتوں كا ذكر كریں جن كےبارے میں سمجھتےہوں كہ الله نے خصوصی طور پر آپ کو نواز ا ہے.
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَٰدِلُ فِي ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَلَا هُدٗى وَلَا كِتَٰبٖ مُّنِيرٖ ٢٠
فرمانِ الٰہی (بغير علم ولا هدى ولا كتاب منير) حصول علم كے مراتب كو شامل ہے: حصول علم میں جدوجہد كرنا، یا عالم سے براہ راست سیکھنا، یا صحیح
(اور معتبر) كتابوں کا مطالعہ كرنا۔(ابن عاشور: 21؍175)
سوال: آیت كریمہ میں حصول علم كے تین مراتب بتائےگئےہیں، ان كى وضاحت كریں.
۞وَمَن يُسۡلِمۡ وَجۡهَهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ وَهُوَ مُحۡسِنٞ فَقَدِ ٱسۡتَمۡسَكَ بِٱلۡعُرۡوَةِ ٱلۡوُثۡقَىٰۗ وَإِلَى ٱللَّهِ عَٰقِبَةُ ٱلۡأُمُورِ ٢٢
یعنى الله كى عبادت اور اسكى طرف متوجہ ہونے میں مخلص ہوتاہے، (وهو محسن) اور ساتھ ہى محسن بھى ہوتاہے كیونكہ عبادت بغیر احسان اور قلبى معرفت كے بے سود ہوتی ہے۔(القرطبى: 16؍487)
سوال: اپنے آپ کو اللہ کے تابع کیسے کریں گے؟ اور اس (تابع ہونے) کے ساتھ احسان کی قید کیوں لگائی گئی؟
۞وَمَن يُسۡلِمۡ وَجۡهَهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ وَهُوَ مُحۡسِنٞ فَقَدِ ٱسۡتَمۡسَكَ بِٱلۡعُرۡوَةِ ٱلۡوُثۡقَىٰۗ وَإِلَى ٱللَّهِ عَٰقِبَةُ ٱلۡأُمُورِ ٢٢
آیت کو (إن الله عليم بذات الصدور) پر ختم کیاگیا ہےاس کی مناسبت یہاں یہ ہے کہ مشركین كا بعض کفر علانیہ ہوتاہے اور بعض پوشیده ۔(ابن عاشور: 21؍178)
سوال: آیت كریمہ كو اس جملے (إن الله عليم بذات الصدور) پر ختم كرنے كى كیا مناسبت ہے؟
وَلَوۡ أَنَّمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ مِن شَجَرَةٍ أَقۡلَٰمٞ وَٱلۡبَحۡرُ يَمُدُّهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦ سَبۡعَةُ أَبۡحُرٖ مَّا نَفِدَتۡ كَلِمَٰتُ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٞ ٢٧
آیت كےاندر الله كے كلمات كى كثرت كى خبر دى گئى ہے، اور مراد الله كے علم كى وسعت ہے۔ اور آیت كا مفہوم ہے: زمین كے سارے درخت اگر قلم ہوجائیں، سارے سمندر روشنائى ہوجائیں اور ان سمندروں میں مزید سات سمندر ہمیشہ ہمیش بہایاجاتا رہے اور ان سے الله كے كلمات كو لكھا جائے، تو سارے درخت اور سمندر ختم ہوجائیں گے پر الله كے كلمات ختم نہیں ہوں گے؛ كیونكہ درخت اور دریا زوال پزیر ہیں جبكہ الله كے كلمات لازوال ہیں۔ (ابن جزى: 2؍175)
سوال: اس آیت سے ایك فائده ذكر كریں.