قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١ ٢ ٢
٣ ٣

٤ ٤

٥ ٥

ﭿ
٦ ٦

٧ ٧

٨ ٨

٩ ٩



١٠ ١٠

١١ ١١
411
سورۃ لقمان آیات 2 - 3

تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡحَكِيمِ ٢ هُدٗى وَرَحۡمَةٗ لِّلۡمُحۡسِنِينَ ٣

یہ كتاب حكمت والی ہے، ہر عمده اخلاق كى طرف دعوت دیتی ہے اور برے اخلاق سے روکتی ہے، اس کے باوجود اكثر لوگ اس كى ہدایت سے محروم ہیں، اس پر ایمان لانے اور عمل كرنے سے اعراض كرتےہیں، سوائے اس کے جسے اللہ توفیق دے دے اور اسے برائیوں سے بچادے، اور یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب كى عبادت میں اور خلق خدا كے ساتھ مخلص ہوتےہیں۔(السعدى: 646)
سوال: اس كتاب حكیم كے تعلق سے لوگوں كا كیا موقف ہے؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 4

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ

یہاں اعمال میں سے دو بہترین اعمال كا خصوصى طور سے ذكر فرمایا: پہلا عمل: نماز جو اخلاص، رب سے سرگوشی، دل، زبان اور تمام اعضاء کی عبادت گذاری پر مبنی ہے، اور دیگر نیک اعمال کے لئے معاون ہے۔اور دوسرا عمل: زکاۃ جو اداکرنے والوں کو گھٹیا صفات سے صاف ستھرا بنادیتی ہے، اور مسلمان بھائی کو نفع پہنچاتی ہے، اور اس کی ضرورت پورى کرتی ہے،اور اس سے یہ بھى واضح ہوتا ہے كہ بندۂ مومن الله تعالىٰ كى محبت كو مال كى محبت پر ترجیح دیتاہے، چنانچہ وه اپنے محبوب مال كو اس كى خاطر خرچ كرتاہے جو اسے اپنے مال سے كہیں زیاده محبوب ہے اوروه ہے الله تعالىٰ كى رضا۔(السعدى: 646)
سوال: دوسرے تمام اعمال كو چھوڑ كر ان ہی دو اعمال كا خصوصى طور پر ذكر كیوں كیا گیا؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 4

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ ٤

(الذين يقيمون الصلاة) جو لوگ نماز قائم كرتےہیں، یعنى اسے ایسا بنا دیتےہیں گویا وه اپنے افعال کے ساتھ كھڑى ہو (اور اس کا وجود پورے طور پر نمایاں ہو) بایں طور کہ جن چیزوں کو نماز میں کرنے کا حکم دیاگیا ہے یا ترغیب دی گئی ہے، یا جن پر وہ (نماز) کسی اعتبار سے موقوف ہے ان سب کو وہ بڑی عمدگی سے انجام دیتے ہیں اور اسے مناسب اوقات میں (اسی عمدگی کے ساتھ) ہمیشہ اداکرتے ہیں۔(البقاعى: 15؍144)
سوال: (يقيمون الصلاة)كى تعبیر كیا فائده دیتی ہے؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 6

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشۡتَرِي لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ ٦

ابو صہباء بكرى نے كہا: میں نے اس آیت كے بارے میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال كیا تو آپ نے فرمایا:قسم اس اللہ کی جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اس سے گانا مراد ہے، اور اپنی یہ بات تین بار دہرائی۔اور ابراہیم نخعى نے كہا: گانا دل میں نفاق پیدا كرتاہے.اور كہا گیا: گانا زنا كا رقیہ (منتر)ہے۔ (البغوى: 3؍506)
سوال: اس آیت كى روشنى میں سلف كے اقوال سے گانے كى خرابیاں اور اسكے خطرات كى وضاحت كیجئے.

سورۃ لقمان آیات 0 - 6

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشۡتَرِي لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ ٦

(لهو الحديث) (اس سے مراد) غافل کردینے والی نت نئی لذت بخش چیزیں جن کے ذریعہ وقت گزاری ہوتی ہے، جیسے گانا، ہنسانے والی چیزیں، اور بےسود و بے اعتبار دیگر چیزیں، چنانچہ یہ چیزیں نفس کو لذت سے خالص بہیمانہ طبیعت تک پہونچادیتی ہیں، پس اسے نہایت عبث قسم کے کھیل کود پر آمادہ کرتی ہیں، جیسے ناچنا وغیرہ۔سو ایسا شخص نیچ کی گہری کھائی میں جاگرتا ہے، جس طرح اس سے پہلے والی آیت میں مذکور شخص اپنی حکمت کی وجہ سے اعلیٰ درجات تک پہنچاتھا۔(البقاعى: 15؍146)
سوال: لہو ولعب میں پھنسنے كا كیا خطره ہے؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 6

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشۡتَرِي لَهۡوَ ٱلۡحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ ٦

قتاده نے كہا: اللہ کی قسم ،ممكن ہے آدمى اسكے لئے مال خرچ نہ كرے، لیکن اسے اچھا سمجھنا ہى اسكا خریدنا ہے، آدمى کی گمراہى كے لئے کافی ہے کہ حق باتوں پر باطل كو اور نفع بخش پر نقصان دہ كو ترجیح دے۔(ابن كثیر: 3؍426)
سوال: کیا اس آیت کے ضمن میں شامل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ لہو ولعب كى چیزوں كو خریدنے كیلئے آدمى مال ہى خرچ كرے؟

سورۃ لقمان آیات 0 - 6

أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ ٦

یعنى جس طرح انہوں نے الله كى آیتوں كو اور اسكے راستے كوحقیر سمجھا اسى طرح قیامت كے دن ہمیشہ ہمیش رہنے والے عذ1ب میں انہیں ڈال كر ذلیل كیا جائےگا۔(ابن كثیر: 3؍426)
سوال: ان لوگوں كا بدلہ ان كے عمل كے ہى جنس سے ہوگا، اسكى وضاحت كریں.