قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٥١ ٥١

٥٢ ٥٢

٥٣ ٥٣

ﭿ

٥٤ ٥٤

٥٥ ٥٥


٥٦ ٥٦


٥٧ ٥٧


٥٨ ٥٨

٥٩ ٥٩
٦٠ ٦٠
410
سورۃ الروم آیات 0 - 54

۞ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن ضَعۡفٖ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ ضَعۡفٖ قُوَّةٗ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ قُوَّةٖ ضَعۡفٗا وَشَيۡبَةٗۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡقَدِيرُ ٥٤

آیت میں صفت علم اور قدرت كا ذكر ہوا ہے ؛ كیونكہ نشو ونما اور ترقى حكمت کی متقاضى ہے، اورحکمت كا تعلق علم سے ہے(اور اس کو پختہ طور پر وجود میں لانا قدرت کی عکاسی ہے)(ابن عاشور: 21؍128)
سوال: آیت کو ان دونوں صفات: (العليم القدير) پر ختم کرنے كى كیا مناسبت ہے؟

سورۃ الروم آیات 0 - 54

۞ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن ضَعۡفٖ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ ضَعۡفٖ قُوَّةٗ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ قُوَّةٖ ضَعۡفٗا وَشَيۡبَةٗۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡقَدِيرُ ٥٤

(خلقكم من ضعف) تم كو كمزورى سے پیدا كیا: پہلى كمزوری حقیر پانى (منی)سے انسان كى پیدائش اور بچپن میں اسكا ناتواں ہونا ہے۔ اور دوسرى آخری كمزورى بڑھاپا ہے۔ (ابن جزى: 2؍171)
سوال: آیت میں دونوں كمزورى سے كیا مراد ہے؟ اس كى وضاحت كریں.

سورۃ الروم آیات 0 - 55

وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُقۡسِمُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ مَا لَبِثُواْ غَيۡرَ سَاعَةٖۚ

الله تعالىٰ دنیا وآخرت ہر دو جگہ كافروں كى نادانى كے بارے میں بتا رہا ہے، چنانچہ انہوں نے دنیا میں عبادت بھى كى تو بتوں كى ، اور آخرت میں بھى بڑى نادانى كریں گے جیسے وه قسم كھا كر كہیں گے كہ وه دنیا میں ایك گھڑى سے زیاده نہیں ٹھہرے، جس سے ان كا مقصد یہ ہوگا كہ نہ ہی ان پر حجت قائم ہوسکی اور نہ ہی انہیں مہلت مل سكى کہ ان کا عذر ختم ہوسکے۔ (ابن كثیر: 424)
سوال: آیت سے دنیا وآخرت ہر دو جگہ كافروں كى نادانى كا پتہ چلتا ہے، اس كى وضاحت كریں.

سورۃ الروم آیات 0 - 56

وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ وَٱلۡإِيمَٰنَ لَقَدۡ لَبِثۡتُمۡ فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡبَعۡثِۖ فَهَٰذَا يَوۡمُ ٱلۡبَعۡثِ وَلَٰكِنَّكُمۡ كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٥٦

ایمان كو اس كى اہمیت كے پیش نظر علم پر عطف كیا گیا ؛ كیونكہ بغیر ایمان كے علم ایسے سچے عقیدے كى طرف رہنمائى نہیں كرسكتا جن سے اخروى زندگى میں كامیابى مل سكے۔(ابن عاشور: 21؍131)
سوال: آیت كریمہ كے اندر ایمان كو علم پر عطف كیوں كیا گیا ہے؟

سورۃ الروم آیات 0 - 59

كَذَٰلِكَ يَطۡبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ ٥٩

یعنى الله تعالىٰ جو عظمت والا اور بلند قدرت والا ہے ان لوگوں كےدلوں پر مہر لگا دےگا جو نادان ہیں، یعنى جو علم حاصل نہیں كرتے ہیں اور نہ ہى حق كى تلاش کرتے ہیں، بلكہ ان ہی خرافات پر بضد ہیں جنہیں دل میں بٹھا ركھا ہے، اور ایسے واہیات كاموں میں پڑےہوئے ہیں جنہیں انہوں نے خود ایجاد كر ركھا ہے؛ كیونكہ جہل مركب حق کی معرفت میں ركاوٹ ہے، اور حق گو كے جھٹلانے كا سبب بنتا ہے ، اسى لئے كہا گیا كہ جہل مركب جہل بسیط سے بھى برا ہے۔ (الألوسى: 11؍60- 61)
(توضیح از مترجم: جہل مرکب وہ ہے کہ آدمی جہالت کے باوجود اپنے آپ کو جاہل نہ سمجھے اور جہل بسیط وہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جاہل سمجھے)
سوال: حق كى عدم تلاش اور جہالت پر اصرار كى خطرناكى کوواضح كیجئے.

سورۃ الروم آیات 0 - 60

فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۖ

اور یہى چیز(وعدہ الٰہی کی حقانیت کا یقین) صبر كیلئے معاون ہے؛ كیونكہ جب بندے كو معلوم ہے کہ اسكا عمل ضائع نہیں ہوگا بلكہ وه اسے پورا پوار ضرور پائےگا تو عمل كے راستے میں درپیش ساری تکلیفیں اس کے سامنے ہیچ ہوجاتی ہیں، اور اس پر ساری مشقتیں آسان ہوجاتی ہیں۔(السعدى: 646)
سوال: الله كے وعدے كى حقانیت كے ذکر سے پہلے صبر كا ذكر كیوں كیا گیا؟

سورۃ الروم آیات 0 - 60

وَلَا يَسۡتَخِفَّنَّكَ ٱلَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ ٦٠

یہاں اس بات كا پتہ چلتا ہے كہ یقین كامل والا مومن سنجیده عقل والا ہوتا ہے جسے صبر كرنا بہت آسان ہوتاہے، اور ہر كمزور یقین والا كمزوراور ہلکے عقل والا ہوتا ہے، اس طرح پہلا مغز كے درجے میں ہے جبكہ دوسرا چھلکے كے درجے میں۔(السعدى: 646)
سوال: یہ آیت آزمائش میں مبتلا لوگوں كى عقلوں كے مختلف ہونے كا پتہ دیتى ہے ، اس كى وضاحت كریں.