قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮎ

ﰺ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ٢٤٩ ٢٤٩
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ٢٥٠ ٢٥٠
ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ٢٥١ ٢٥١
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ٢٥٢ ٢٥٢
41
سورۃ البقرہ آیات 0 - 249

قَالَ ٱلَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَٰقُواْ ٱللَّهِ كَم مِّن فِئَةٖ قَلِيلَةٍ غَلَبَتۡ فِئَةٗ كَثِيرَةَۢ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ ٢٤٩

آیت میں قتال پر ابھارا گیا ہے اور صبر کی اہمیت کا احساس و شعوررکھنے کی ترغیب دی گئی ہے نیز ان لوگوں کی پیروی کرنے کی تلقین کی گئی ہے جو اپنے رب کے لئے سچے ہیں ۔ میں کہتا ہوں:ہم پر واجب ہے کہ ہم بھی ایسا ہی عمل کریں۔لیکن برے اعمال اور خراب نیتوں نے ہمیں اس سے روک دیا ہے ۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری بڑی تعداد ، دشمنوں کی تھوڑی تعداد کے سامنے نڈھال ہوجاتی ہے اورشکست کھاجاتی ہے ۔جیسا کہ ہم نے کئی بار دیکھا ہے اور یہ بدحالی ہمارے کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ کا قول ہے: ‘‘تم دراصل اپنے اعمال کے ذریعہ دشمن سے جہاد کرتے ہو’’۔ (القرطبی:۴؍۲۴۵)
سوال: آیت نے دشمن کے مقابلہ میں ملنے والی نصرت ومدد کا ایک سبب بیان کیا ہے۔وہ کیا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 249

وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ ٢٤٩

اللہ کی مدد حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بندے کاصرف اور صرف اللہ کے لئے صبر وضبط کرناہے۔ (السعدی:۱۰۸)
سوال:بندے کے لئے اللہ کی معیت (ساتھ) حاصل کرنے کا سب سے عظیم اور اہم ذریعہ کیا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 250

وَلَمَّا بَرَزُواْ لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِۦ قَالُواْ رَبَّنَآ أَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرٗا وَثَبِّتۡ أَقۡدَامَنَا وَٱنصُرۡنَا عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٢٥٠

اس آیت میں بہترین ترتیب پائی جاتی ہے۔اس طرح کہ انہوں نے سب سے پہلے مڈبھیڑ کے وقت دلوں کو صبر دینے کا مطالبہ کیا۔دوسرے: دشمن سے ٹکراؤ کے وقت ثابت قدمی اور پامردی ومضبوطی طلب کی ۔کیونکہ کبھی کبھار وہ شخص بھی صبرکرلیتا ہے جسے مقابلہ سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔تیسرا مطالبہ: وہ ہے جو جنگ کا مقصود اور اس کا اصل نشانہ ہے اور وہ ہے مدِّ مقابل پر فتح ونصرت۔ (الألوسی:۲؍۱۷۲)
سوال: سب سے بہتراور افضل دعا وہ ہے جو بندے کی زیادہ سے زیادہ حاجتوں کو سمیٹنے والی ہو۔ اس بات کو آیت کی روشنی میں واضح کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 251

فَهَزَمُوهُم بِإِذۡنِ ٱللَّهِ

جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ چیزوں کے انجام ونتائج سے لا علم ہے اور اس کے رب کی قدرت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہےایسے عقلمند آدمی پر واجب ہے کہ وہ کسی بھی چیز میں خود اپنی ذات پر بھروسہ نہ کرے،بلکہ ہمیشہ اپنے آپ کو عاجزی سے متصف سمجھے خواہ نفس اس کے خلاف ابھارے۔اسے چاہئے کہ اپنی طاقت وقوت سے نکل کر اپنے آقا ومولیٰ کی طاقت وقوت میں پناہ لے، اور اس سے مسلسل معافی اور عافیت مانگتا رہے۔ (البقاعی:۱؍۴۸۳)
سوال: پسندیدہ بھروسہ کیا ہے اور ناپسندیدہ اعتماد کیا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 251

وَقَتَلَ دَاوُۥدُ جَالُوتَ وَءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلۡمُلۡكَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَعَلَّمَهُۥ مِمَّا يَشَآءُۗ

اس میں حکومت وسلطنت کی اہمیت پر آگاہی ہے اور یہ کہ اگر یہ حکومت نہ ہوتی تو دنیا کے معاملات درست نہ ہوتے ۔اسی لئے کہا گیا ہے :دین اور حکومت دونوں جڑواں(لازم وملزوم ) ہیں۔دونوں میں سے ایک کو اٹھایا جائے تو دوسرا (خود بخود) اوپر اٹھ جائیگا ۔اس لئے کہ دین بنیاد ہے اور حکومت محافظ ہے۔اور جس عمارت کی بنیاد نہ ہو ،وہ منہدم (زمین بوس) ہوجاتی ہے اور جس کا محافظ نہ ہو، وہ ضائع اور برباد ہوجاتی ہے۔ (الألوسی:۲؍۱۷۴)
سوال: آیت کے دائرے میں حکومت کی اہمیت بتائیے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 251

وَلَوۡلَا دَفۡعُ ٱللَّهِ ٱلنَّاسَ بَعۡضَهُم بِبَعۡضٖ لَّفَسَدَتِ ٱلۡأَرۡضُ

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خبر دی ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا کہ وہ گزرتے زمانوں کے ساتھ مومنوں کے ذریعہ کافروں کے دلوں میں خوف ڈالتا اور انہیں ان کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہتا۔ (لَّفَسَدَتِ ٱلۡأَرۡضُ) تو زمین میں فساد برپا رہتا۔ اس لئے کہ کفر دنیا میں چھاجاتا اور چپہ چپہ میں پھیل جاتا لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ رہا ہے کہ کوئی بھی زمانہ حق پر عمل کرنے والوں،اللہ کی طرف دعوت دینے والوں اور اس کے لئے مخالفین سے ٹکراجانے اور جان کی بازی لگادینے والوں سے خالی نہیں چھوڑتا ہے۔یہاں تک کہ یہ ذمہ داری صبحِ قیامت تک امتِ محمد ﷺ کے سپرد کردی اس پر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ (ابن عطیہ:۱؍۳۳۷)
سوال: اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کے درمیان ٹکراؤ کو قیامت تک کے لئے ہمیشہ قائم رہنے والا کیوں بنادیا؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 251

وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ ذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ ٢٥١

(اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر فضل و احسان کا معاملہ کرتا ہے) اللہ نے اولاً: سب کو وجود دے کر اور پیدا کرکے فضل واحسان کیا۔
دوم: دفاع کرکے ۔یعنی وہ ظالموں کے ظلم کو روکتا اور ہٹاتا ہے ۔ یا تو ایک ظالم کو دوسرے ظالم کے ذریعہ،یا پھر نیک لوگوں کے ذریعہ ۔ہاں ایسے نیک لوگ بہت کم رہے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں پر اس کے علاوہ بھی مختلف شکلوں میں ظاہری وباطنی نعمتوں کی نوازشوں کے ذریعہ فضل واحسان کرتا رہتا ہے۔ (البقاعی:۱؍۴۸۱)
سوال: مخلوقات پر اللہ کے کچھ انعامات بیان کیجئے.