قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮪ

ﱍ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ٢٥ ٢٥
ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ٢٦ ٢٦
ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ٢٧ ٢٧
ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ٢٨ ٢٨
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ٢٩ ٢٩
ﯔ
ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ٣٠ ٣٠
ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ٣١ ٣١
ﯹ ﯺ ﯻ
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ٣٢ ٣٢
407
سورۃ الروم آیات 0 - 27

وَهُوَ ٱلَّذِي يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَهُوَ أَهۡوَنُ عَلَيۡهِۚ وَلَهُ ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٢٧

(اللہ تعالیٰ کی) بہترین اور اعلیٰ صفات میں اسكى عزت اور حكمت بھى ہے، اور یہاں انہیں دونوں صفتوں كا بطور خاص ذكر كیا گیا ؛ كیونكہ انہیں دونوں صفتوں كے آثار اس مقصد پر ظاہر ہوتےہیں جس پر گفتگو ہورہى ہے، وہ مقصد ہے: مخلوق كى پہلى پیدائش اور پھر اسكا دوباره پیدا كرنا، چنانچہ عزت مکمل بے نیازی كا تقاضہ كرتى ہے؛یعنی مکمل طور پر بےنیاز ذات قدرتِ کاملہ کی مالک ہو، اور حكمت شامل و کامل علم كا تقاضہ كرتى ہے۔ (ابن عاشور: 21؍84)
سوال: آیت كریمہ میں بطور خاص (العزيز الحكيم) جیسى دونوں صفتوں كا ذكر كیوں كیا گیا؟

سورۃ الروم آیات 0 - 27

وَهُوَ ٱلَّذِي يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَهُوَ أَهۡوَنُ عَلَيۡهِۚ

(وهو) یعنى مخلوق كى موت كے بعد اسے دوباره پیدا كرنا، (أهون عليه) اللہ پر زیاده آسان ہے ، پہلى پیدا ئش كے مقابلے میں، اور یہ لوگوں كے ذہن وعقل کے اعتبار سے ہےکہ جب وه پہلى پیدائش پر قادر ہے جس كا تم اقرار كرتے ہو ، تو اسے دوباره پیدا كرنےپر وه كہیں زیاده قادر ہےاور یہ اسكے لئے بہت آسان ہے۔ (السعدى: 640)
سوال: قرآن کے اندر (باطل عقائد و نظریات کے) رد کے لئے عقلی اسلوب استعمال كیا گیا ہے آیت كى روشنى میں اس كى وضاحت كریں.

سورۃ الروم آیات 0 - 28

كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٢٨

(اللہ تعالیٰ نے آیتوں اور نشانیوں کو کھول کھول کر عقلمند قوم کے لئے بیان کردیا ہے) اور عقلمند قوم وہ ہے جو ہٹ دھرمی اور اعراض جیسی بری خصلتوں سے پاک و صاف ہو، اور اپنے کمال عقل کے سبب حق اور حقائق کی متلاشی ہو، سو ان واضح دلائل سے مومنوں کے یقین میں اضافہ ہوتا ہے، اور وہ لوگ ایمان سے مشرف ہوتے ہیں جو اب تک غفلت میں پڑے تھے اور جن پر مشرکین کی گمراہیاں رواج پاچکی تھیں پھر ان جیسے واضح دلائل سے وہ گمراہیاں ان سے کافور ہوگئیں… اور اس میں بطورکنایہ یہ بات بھی ہے کہ جو شرک میں نہایت سخت ہیں وہ عقلمندوں میں سے نہیں ہیں اور نہ ان لوگوں میں سے ہیں جو (ان واضح نشانیوں سے) فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ (ابن عاشور: 21؍87)
سوال: مذکورہ بالا فکری گوشے کی روشنی میں عقلمندوں کے چند اہم اوصاف بیان کیجئے.

سورۃ الروم آیات 0 - 28

كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٢٨

البتہ جو عقل سے عارى ہو اس كے سامنے اگر سارى نشانیاں بیان كردى جائیں اور سارے دلائل پیش كردئیے جائیں تو ان کے پاس ایسی عقل ہی نہیں جو ان بیان کردہ امور کو جان بوجھ سکے، اور ایسا دماغ ہی نہیں جو ان واضح باتوں کو سمجھ سکے، پس عقل ودماغ كے مالك ہى اس بات كے مستحق ہیں كہ اس طرح كا كلام ان كے سامنے پیش كیا جائے اور انہیں خطاب كیا جائے۔ (السعدى: 640)
سوال: خطاب كو عقلمندوں كے ساتھ ہى كیوں خاص كیاگیا؟

سورۃ الروم آیات 0 - 30

فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٗاۚ فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡهَاۚ لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٣٠

اسلام کی خوبی یہ بیان کی گئی کہ وہ اللہ کی فطرت ہے (جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں سارے اعتقاد كى اصل عقلى فطرت كے مطابق ہوتى ہے، البتہ جہاں تك اسكے احکام اور فروعى مسائل كا تعلق ہے تو وه بھی یا تو فطری امور ہوتے ہیں یعنی وہ عقل کے موافق ہوتے ہیں کہ عقل اسے سمجھتی ہے اور قبول کرتی ہے یا عقل کی درستگی کے لئے ہوتے ہیں جو فطرت کے منافی (مخالف) نہیں ہوتے۔(ابن عاشور:21؍91)
سوال: اسلام كو فطرت سے متصف كرنے كا كیا معنى ہے؟

سورۃ الروم آیات 31 - 32

۞مُنِيبِينَ إِلَيۡهِ وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٣١ مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗاۖ كُلُّ حِزۡبِۢ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ ٣٢

(یہ مشرکین کی بری حالت کا بیان ہے جس سے مسلمانوں کو ڈرانا مقصود ہے کہ )جب اختلافِ اجتہاد کے تقاضے کے تحت دینی معاملات میں ان کے درمیان اختلاف ہوجائے یا مفادات کے اختلاف کے سبب آراء اور سیاسی امور میں اختلاف ہوجائے تو انہیں ہوشیار رہنا چاہئے کہ یہ اختلاف انہیں یہاں تک نہ پہنچادے کہ وہ مختلف ٹولیوں میں بٹ جائیں جو ایک دوسرے کے دشمن ہوں۔(ابن عاشور: 21؍96)
سوال: اہل كتاب كے اختلاف كى مذمت سے مسلمانوں كو كیا فائده حاصل ہوتا ہے؟

سورۃ الروم آیات 0 - 32

مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗاۖ كُلُّ حِزۡبِۢ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ ٣٢

(شيعًا) باہم عہد وپیمان کرنے والے ایسے گروہ کہ ان میں سے ہرگروہ اپنے ہم مذہب کی تائید و حمایت کرتا ہے ہر اس شخص کے خلاف جو ان کا مخالف ہو، حتی کہ ایک دوسرے کو کافر قرار دیا، اور (مخالف کے) خون و مال کو حلال سمجھا سو اس سے قطعی طور پر پتہ چلاکہ وہ تمام کے تمام گروہ راہ حق پر نہیں ہے۔ (فرحون) خوش ہیں اس گمان میں كہ دوسروں كو چھوڑ كروہى حق كو پانے میں كامیاب ہیں۔ (البقاعى: 15؍90-91)
سوال: آیت كى روشنى میں الله كے دین میں اختلاف كے خطرے كى وضاحت كیجئے.