قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٣٩ ٣٩




٤٠ ٤٠
ﭿ


٤١ ٤١

٤٢ ٤٢


٤٣ ٤٣

٤٤ ٤٤


٤٥ ٤٥
401
سورۃ العنكبوت آیات 0 - 41

مَثَلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡلِيَآءَ كَمَثَلِ ٱلۡعَنكَبُوتِ ٱتَّخَذَتۡ بَيۡتٗاۖ وَإِنَّ أَوۡهَنَ ٱلۡبُيُوتِ لَبَيۡتُ ٱلۡعَنكَبُوتِۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ٤١

امام فراء رحمہ اللہ نے کہا: یہ ایک ایسی مثال ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے بیان کیاہے جو اسے چھوڑکر ایسے باطل معبودوں کی پرستش کرتے ہیں جو انہیں نفع پہنچاسکتے ہیں نہ نقصان۔جس طرح کہ مکڑی کا گھر اسے نہ تو گرمی سے بچاسکتا ہے او ر نہ سردی سے۔یعنی اگر انہیں پتہ ہوجائے کہ بتوں کی عبادت کرنا بے سود مکڑی کے گھر بنانے کی طرح ہے اور ان کی یہی کمزور مثال ہے تو وہ کبھی بتوں کی عبادت نہ کرتے۔ (القرطبی: ۱۶؍۳۶۳)
سوال:مکڑی کے گھر اور اللہ کے علاوہ دیگر قبروں اور درگاہوں کے درمیان تشبیہ دینے کی کیا وجہ ہے؟اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 41

مَثَلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡلِيَآءَ كَمَثَلِ ٱلۡعَنكَبُوتِ ٱتَّخَذَتۡ بَيۡتٗاۖ وَإِنَّ أَوۡهَنَ ٱلۡبُيُوتِ لَبَيۡتُ ٱلۡعَنكَبُوتِۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ٤١

غرور وتکبر میں مشرکو ں کی تشبیہ مکڑی سے دی گئی ہے اور ان کے اولیاء کی تشبیہ مکڑی کے گھر سے دی گئی ہے کمزوری اور ایسی لاچاری میں جو ضرورت کے وقت کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچاسکتے بلکہ معمولی حرکت سے برباد ہوجاتے ہیں۔(ابن عاشور: ۲۰؍۲۵۲)
سوال:مشرکین او ر ان کے اولیاء کو مکڑی اور اس کے گھر سے کیوں تشبیہ دی گئی ہے؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 43

وَتِلۡكَ ٱلۡأَمۡثَٰلُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِۖ وَمَا يَعۡقِلُهَآ إِلَّا ٱلۡعَٰلِمُونَ ٤٣

ان مثالوں کی حقیقت اور محاسن صرف کامل عقل والے ہی سمجھ پائیں گے کیونکہ حقیقی علماء یہی ہیں۔اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو اِن مثالوں سے فائدہ نہ اٹھائے،وہ جاہل اور بے وقوف ہے۔پھر کیا خیال ہے ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے ان مثالوں میں غوروفکر کرنے اور سمجھنے کی بجائے ان کا مذاق اڑایا۔(ابن عاشور: ۲۰؍۲۵۶)
سوال:قرآنی مثالوں میں غوروفکر نہ کرنے کی کیا سنگینیا ں ہیں؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 43

وَتِلۡكَ ٱلۡأَمۡثَٰلُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِۖ وَمَا يَعۡقِلُهَآ إِلَّا ٱلۡعَٰلِمُونَ ٤٣

اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو مثالیں بیان کی ہیں ان کا تعلق بڑے بڑے اوراعلیٰ مقاصداور اہم مسائل سے ہے۔اہل ِعلم جانتے ہیں کہ ضرب المثال بیان کے دیگر اسالیب سے زیادہ اہم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کا خاص اہتمام کیا ہے اور اپنے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ ان میں غوروفکر کریں اور ان کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ (السعدی؍۶۳۱)
سوال:مثالوں کے سمجھنے کو اہل ِعلم کے ساتھ کیو ں خاص کردیا گیا؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 45

ٱتۡلُ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَۖ

قرآن کی کثرت تلاوت سے معاملات میں بصیرت حاصل ہوتی ہے۔علم کے خزانے کھلتے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ قرآن اپنا فائدہ ایک بار دکھاکر چلاجائے بلکہ قاری جس قدر باربار قرآن کی تلاوت اور اس میں غوروفکر کرتا رہتاہے اسے نئے نئے حکمت کے خزانے ملتے رہتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ یہ فیصلہ کرلیتا ہے کہ اس کی حکمتیں اور عجیب وغریب اسرار کبھی ختم ہونے والے نہیں ہیں اور نہ ان کی کوئی حد ہے۔(البقاعی: ۱۴؍۴۴۷)
سوال:تلاوت قرآن ِپاک سے ایک مسلمان حقیقی فائدہ کب اٹھاتا ہے؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 45

وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَۖ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِۗ

بعض سلف سے یہ مروی ہے کہ جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو کانپنے لگتے اور جسم کا رنگ پیلا پڑجاتا۔پوچھا گیا تو جواب دیا کہ میں اللہ کے سامنے کھڑا ہوں جب میں دنیا کے بادشاہوں کے سامنے اس طرح کھڑاہوتا ہوں پھر بادشاہوں کے بادشاہ کے سامنے کیسے کھڑا ہونا چاہئے۔ چنانچہ نماز یقینی طور پر فحش اور منکرکاموں سے روکتی ہے اور جس کی نماز صرف فرض کی ادائیگی پر منحصر ہوجائے اس میں نہ کوئی خشوع ہے نہ اللہ کی یاد ہے او ر نہ فضائل ہیں۔ جوحالت ہماری نمازوں کی ہے، اے کاش ان سے فرض کی ادائیگی ہی ہوجائے۔توایسی نمازیں اپنے پڑھنے والے کو اس کے گھر اسی حالت میں واپس بھیجی جاتی ہیں جس حالت میں وہ مسجد آیا تھا۔ (القرطبی: ۱۶؍۳۶۷)
سوال:نماز کی وہ کون سی قسم ہے جو نمازی کو فحش اور منکر کاموں سے روکتی ہے؟

سورۃ العنكبوت آیات 0 - 45

وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَۖ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِۗ

ایک نمازی جب اپنی نماز خشوع اور خضوع سے پڑھتا ہے اور اللہ پاک کی عظمت کو یاد رکھتا ہے تو یہی چیزاسے فحش ومنکر کاموں سے توبہ پرابھارتی ہے تو گویا نماز ان چیزوں سے روکتی ہے۔ (ابن جزی: ۲؍ ۱۶۰)
سوال:نماز کیسے فحش اور منکر کاموں سے روکتی ہے؟